
سری نگر(کے پی آئی) جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے کشمیریوں سے آج ممتاز آزادی پسند رہنما محمد مقبول بٹ کے یوم شہادت پر انہیں شاندار خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بدھ کو مکمل ہڑتال ہوگی۔کشمیری کل محمد مقبول بٹ کا 42واں یوم شہادت منائیں گے۔ بھارت نے محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984 کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیکر ان کی میت کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیاتھا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے مقبول بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ شہداکی قربانیاں تحریک آزادی کشمیر کا بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا ئاے گا اور شہدا کے مشن کو ہر قیمت پر اسکے منطقی انجام تک جار ی رکھا جائیگا۔ جموں کشمیر نیشنل فرنٹ کے سینئر وائس چیئرمین الطاف حسین وانی نے شہید محمد مقبول بھٹ اور شہید محمد افضل گوروکو کشمیر کی تحریکِ آزادی کے لازوال ہیرو قرار دیا ہے۔آج یہاں جاری ایک بیان میں، الطاف وانی نے ان کی عظیم قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان شہدا نے تحریکِ آزادی کو نئی سمت دی اور مزاحمتی جدوجہد کے ہیرو بن کر ابھرے۔انہوں نے مزید کہا کہ 9 اور 11 فروری، جو ان عظیم شہدا کی برسیوں کے ایام ہیں، کشمیری عوام ان دنوں کو ان کے مشن کی تکمیل کے پختہ عزم کے ساتھ منا رہے ہیں۔اپنی جماعت کے اس مطالبے کو دہراتے ہوئے کہ دونوں شہدا کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کی جائیں، نیشنل فرنٹ کے رہنما نے کہا: دنیا کا کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ شہدا کے ساتھ دشمنی رکھی جائے یا متاثرین کے ورثا کو اپنے پیاروں کی باعزت تدفین کے حق سے محروم کیا جائے، جنہیں صرف نام نہاد قومی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے بھارتی ریاست نے قربانی کا بکرا بنایا۔شہید افضل گوروکو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے، الطاف وانی نے کہا کہ شہید افضل گورو کو پھانسی دینا قانون اور انصاف کا قتل تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کہ افضل گورو کو قوم کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے پھانسی دی گئی، انسانیت کے لیے باعثِ شرم ہے۔




