مظفرآباد

قائدین ریاستی تشخص‘تحریک آزادی کو سیاست کا محور بنائیں‘زاہدامین

امریکہ/مظفرآباد(محاسب نیوز)سابق صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی یاد میں بروکلین، نیو یارک میں مقیم کشمیری کمیونٹی کے زیرِ اہتمام ایک پروقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تعزیتی تقریب میں امریکہ بھر سے اوورسیز کشمیریوں، سیاسی، سماجی اور فکری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مرحوم قائد کی سیاسی، آئینی اور نظریاتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا انعقاد بروکلین، امریکہ میں کیا گیا، جہاں کشمیری کمیونٹی نے مرحوم رہنما کی یاد میں ان کی جدوجہد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے معروف سیاسی و سماجی عوامی رہنما اور سابق ممبر وفاقی ایرا بورڈ زاہد امین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی پوری سیاسی زندگی اصولی مؤقف، جرات مندانہ فیصلوں اور ریاستی تشخص کے دفاع سے عبارت رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی جانب سے آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی کھل کر مخالفت اور کشمیر کو نسل در نسل غلامی سے آزاد رکھنے کے لیے آزاد حکومت کے اختیارات واپس لینے کی اعلانیہ حمایت ایک تاریخی مؤقف تھا۔ یہی اصولی مؤقف اگست 2021ء میں ان کی وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کا سبب بنا، مگر انہوں نے اقتدار کے مقابلے میں ریاستی وقار اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو ترجیح دی۔زاہد امین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد کے بجائے قومی اور ریاستی مفاد کو مقدم رکھا۔ وہ آزاد کشمیر کے اس تشخص کے علمبردار تھے جو اسے ایک متنازعہ ریاست کے طور پر عالمی سطح پر پہچان دلاتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آزاد کشمیر کا آئینی و سیاسی وجود تحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے، جسے کمزور کرنا دراصل کشمیریوں کے حقِ آزادی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔زاہد امین ایڈووکیٹ نے آزاد کشمیر کے موجودہ اور مستقبل کے قائدین اور کارکنان پر زور دیا کہ وہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ریاستی تشخص، وحدت، اختیار، وقار اور آزادی کو اپنی سیاست کا محور و مرکز بنائیں۔

Related Articles

Back to top button