مظفرآباد (محاسب نیوز) ادارہ ترقیات مظفرآباد،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے عدالتی فیصلہ کی تعمیل میں 2005 سے 2022 تک ادارہ میں بھرتی اضافی ملازمین کی فراغت کے احکامات جاری کر دیئے۔پابندی کے باوجود کی گئی تقرریاں منسوخ کرنے کا حکم گزشتہ روز پی ایس سی کے اجلاس میں دیا گیا۔پی ایس سی نے لنگرہ پورہ ٹھوٹھہ ہاوسز ہاوسنگ سکیموں میں پلاٹ الاٹیوں سے بقایاجات کی وصولی کے لئے حتمی نوٹس جاری کرنے کے احکامات بھی جاری کیئے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ترقیاتی ادارہ مظفرآباد کے آڈٹ اعتراضات کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ادارہ میں کوئی ڈی جی یا چیئرمین موجود نہیں محکمہ پی پی ایچ سیکرٹریٹ کے ماتحت ہونے باوجود اجلاس میں سیکرٹری پی پی ایچ موجود نہیں۔ادارہ میں تعینات رہنے والے ماضی کے چیئرمین ادارے کو قوائد سے ہٹ کر ذاتی خواہشات کے تابع چلاتے رہے جس کی وجہ سے ادارہ شدید نوعیت کے مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہے۔دوران اجلاس کمیٹی کو بتایا گیا کہ اداہ ترقیات مظفرآباد نے 6 وکلاء کی خدمات بحثیت لیگل ایڈوائزر حاصل کر رکھی ہیں لیکن عدالتوں میں کیس طوالت کا شکار ہیں۔ادارہ کی ہاسنگ سکیموں کی حالت زار انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے حاصل ہونے والی آمدن سے ملازمین کو پنشن اور تنخواہیں ادا کی جار ہی ہیں۔پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے ماضی میں ڈی اے سی کے ذریعے ادارہ کے مالی معاملات کے حوالے سے منتازعہ فیصلوں کے باعث ڈے اے سی کی سفارشات اور رپورٹ کو کاالعدم قرار دیااور جملہ اعتراضات براہ راست پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تحویل میں لینے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران انکشاف ہو ا۔مظفرآباد میں ترقیاتی ادارہ نے دومیل اور نیلم پل کے ساتھ بل بورڈ نصب کر کے تشہیر کا ٹھیکہ سالانہ 5 لاکھ 70 ہزار روپے میں دیا یہ کارروائی کمیٹی کے ذریعے عمل میں لائی گئی جس نے ٹھیکے کی مالیت 5 لاکھ 70 ہزار سے کم کر کے 3 لاکھ سالانہ کر دی۔باغبانی شعبہ کے انچارج نے پبلسٹی کا ٹھیکہ الاٹ کیا ٹھیکدار نے معائدے کی خلاف ورزی کی بعد ازاں ٹھیکہ کاالعدم قرار دے دیا گیا ٹھیکدار سے وصولی نہیں کی گئی مال گزاری ایکٹ کے ذریعے وصولی کی بات کی گئی تو کمیٹی نے استفسار کیا کہ ٹھیکدار کے خلاف کس قانون کے تحت مال گزاری ایکٹ لگا رہے ایف آئی آر کیوں نہیں کروائی گئی۔اب تک ٹھیکدار کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی کئی۔کمیٹی کے استفسار پر ادارہ کی جانب سے مکمل خاموشی چھائی رہی۔کمیٹی نے ٹھیکہ الاٹمنٹ کی فائل ریکارڈ سمیت طلب کر لی اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے ٹیلی فون کر کے انچارج وزیر ترقیاتی ادارہ کو بھی بلا لیا اور ان کی موجودگی میں ادارہ کی حالت زار پر انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احکامات جاری کیئے کہ ادارہ کی بہتری کے لیئے وزیر حکومت، حکومت کے ساتھ بات کریں۔ہم سب نے ملک کر اس ادارے کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ دارالحکومت کا ترقیاتی ادارہ کسم پرسی کی حالت میں ہے۔حکومت کی جانب سے دی جانے والی ترقیاتی گرانٹ بھی درست خرچ نہیں ہو رہی کمیٹی نے انتظامیہ کے ذریعے بغیر ادائیگی بل بورڈ تشہیر پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جملہ ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کی تفصیلات مہیا کریں۔
Related Articles
Check Also
Close



