
موجودہ خطہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کا علاقہ 1947ء میں یہاں کے لوگوں نے ڈوگرہ سامراج اور ہندو بنیئے سے لڑ کر آزاد کرایا تھاجب مجاہدین فتوحات حاصل کرتے ہوئے سرینگر اور پونچھ شہر کے قریب پہنچ گئے تھے اور بھارت کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ پورا کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے تو بھارت یکم جنوری 1948ء مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ لے گیا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 35کے تحت یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں پیش ہوا اقوام متحدہ نے یکم جنوری 1949ء کشمیرمیں جنگ بندی کی قرارداد منظور کی جس پر پاکستان اور بھارت دونوں نے دستخط کر دئیے اور اس طرح مجاہدین کے قدم رک گئے اور کشمیر نہ ختم ہونے والا ایک تنازعہ بن گیا۔ گزشتہ 78سالوں سے کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں بھارت کی بربریت اور ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ 78سال میں اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل نہیں کراسکا اور اس کی بنیادی وجہ اقوام متحدہ کا دوہرا اور منافقانہ کردار ہے ویٹو پاور ممالک کی بدمعاشی اور اجارہ داری ہے اور کشمیریوں کا قصور محض یہ ہے کہ یہاں کی اکثریت آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اگر کشمیر میں عیسائی، یہودی سکھ یا ہندو ہوتے تو ستر سال پہلے ہی کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا۔ 3جون 1947ء تقسیم ہند کے فارمولے یا منصوبے کے خلاف بھارت نے کشمیر پر جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ کیا پھر 17اگست 1947ء باؤنڈری کمیشن کے غیر منصفانہ فیصلے اور سازش کے تحت مسئلہ کشمیر پیدا کیا گیا اگر سازش کے تحت گورداسپور پٹھانکوٹ اور تحصیل زیرہ کا مسلم اکثریتی علاقہ بھارت کو نہ دیا جاتا تو بھارت کو کشمیر میں داخل ہونے کے لئے کوئی زمینی راستہ ہی میسر نہ تھا۔ 27اکتوبر اسی راستے سے بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کیں اور بہانہ یہ بنا یا کہ قبائلیوں نے حملہ کر دیا ہے اور مہاراجہ نے الحاق ہندوستان کی درخواست کی ہے قبائلی تو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کو آئے تھے اور مہاراجہ نے تو پاکستان کے ساتھ سٹینڈ سٹل کا معاہدہ کر رکھا تھا۔ الحاق کی دستاویز بھی جعلی ہے۔ سلامتی کونسل نے 21اپریل 1948ء مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پانچ ممبران پر مشتمل اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندو پاک قائم کرنیکا فیصلہ کیا۔ 7مئی 1948ء یہ کمیشن بن گیا اور اس نے کام شروع کر دیا۔ 13اگست 1948ء سلامتی کونسل نے پہلی قرارداد رائے شماری منظور کی پھر کئی پہلوؤں سے یہ قرار نا مکمل ہونے کے باعث 5جنوری 1949ء کو دوسری قرارداد منظور ہوئی جس میں مبہم اور غیر واضح امور کو واضح کیا گیا دراصل قائد اعظم نے 13اگست کی قرارداد غیر واضح ہونے پر ایک وفد یو این بھیجا تھا تاکہ دوسری قرارداد آئے اور بھارت بھی آئندہ غلط تعبیر اور تشریح نہ کرے۔ 13اگست کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ رائے شماری سے پہلے پاکستان اپنی ا فواج ریاست سے مکمل طور پر نکالے گا جبکہ بھارتی فوج کی ایک خاص تعداد ریاست میں امن و امان کے لئے موجود رہے گی جبکہ 5جنوری کی قرارداد میں کہا گیا کہ ریاست میں امن و امان بحال ہونے کے بعد ناظم رائے شماری بھارتی حکومت کے ساتھ مشورہ کرکے بھارت اور پاکستان کی افواج کے حتمی انخلاء کا فیصلہ کرے گا ریاست کے تحفظ امن و امان اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا خیال رکھا جائے گا دونوں قراردادوں میں تین اہم نکات تھے ایک مکمل جنگ بندی دوسرا افواج کی کشمیر سے واپسی اور تیسرا اقوام متحدہ کی نگرانی میں منصفانہ استصواب رائے مارچ 1949ء اقوام متحدہ نے رائے شماری کے لئے منتظم بنا کر بھیجا پھر مئی 1950میں سر ڈکسن کو سلامتی کونسل کی جانب سے نمائندہ بنا کر بھیجا گیا جون 1950ء میں مسٹر ڈکسن نے جو یو این میں رپورٹ بھیجی اس میں بتایا گیاکہ پاکستان ہر لحاظ سے تعاون کرنے کو تیار ہے مگر بھارت کی جانب سے مکمل عدم تعاون سے ڈکسن کی ناکامی کے بعد سلامتی کونسل نے مسٹر گراہم کو نمائندہ بنا کر بھیجا اس دوران بھارت نے کہا کہ یہ ہمارا اندرونی مسئلہ ہے 1952ء میں امریکہ اور برطانیہ نے ایک مشترکہ قرارداد پیش کی کہ مسٗلہ کشمیر بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کیا جائے اس قرارداد پر پاکستان رضامند جبکہ بھارت انکار ہو گیا۔ 1953ء میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی میٹنگ میں مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا کہ کشمیر کے عوام کی مرضی سے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے گا اور استصواب رائے ہونی چاہیئے۔ اکتوبر 1956ء میں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے کشمیر کا دستور پیش کیا اس میں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا بھارتی وزیر اعظم اپنے 1953ء کے ا علامیہ سے منحرف ہو گئے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان اور امریکہ نے معاہدہ سیٹو اور سینٹو کے تحت دفاعی معاہدہ کر لیا ہے فروری 1957ء میں پھر سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی مگر روس نے ویٹو کر دیا 1958ء میں یو این نے مسٹر جیرننگ کو نمائندہ بنا کر بھیجا مگر بھارت کی ہٹ دھرمی سے ناکام لوٹا اور رپورٹ پیش کی کہ پاکستان مکمل تعاون کر رہا ہے جبکہ بھارت تعاون نہیں کر رہا یاد رہے کہ 31اکتوبر 1947 بھارتی وزیر اعظم نہرو نے پاکستانی قیادت کو کشمیر کے حوالے سے یہ ٹیلی گرام بھیجی تھی کہ ہمارا وعدہ ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے گا یہ صرف پاکستان سے نہیں پوری دنیا سے وعدہ ہے کہ ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں اس سے قبل مہاتما گاندھی نے 26اکتوبر 1947ء کہا کہ اگر کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو روک نہیں سکتی۔ اقوام متحدہ اور بھارتی حکمرانوں کی یہ وہ ماضی کی تاریخ ہے جس سے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مکمل طور پر غیر منصفانہ صورتحال واضح ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسٗلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اگر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کا کردار منصفانہ ہوتا تو مسٗلہ کشمیر آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے حل ہو چکا ہوتا اگر بھارت انصاف سے کام لیتا تو بھی کب کا یہ مسٗلہ حل ہو چکا ہوتا۔ 5اگست 2019ء بھارت نے کشمیر پر ایک اور شب خون مارا اپنے آئین سے دفعہ 370کو ختم کرکے اور 35اے میں رد و بدل کرکے مسٗلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا بدقسمتی کہ اس اقدام کے خلاف پاکستان کوئی مناسب قدم نہیں اٹھا سکا پاکستان اپنی اقتصادی بد حالی دہشت گردی عدم استحکام انتشار اور افراتفری جیسے بھیانک مسائل کے خلاف مسلسل حالت جنگ میں ہے اور بھارت نے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں قربانیاں دے رہے ہیں مکمل کشمیر کی آادی تک یہ آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا بھارت نے ماضی قریب سے سازشوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے آزادکشمیر کے کچھ عاقبت نا اندیش نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف اور خود مختار کشمیرکے حق میں متحرک کرنے کی ناپاک کوشش میں لگا ہوا ہے بیرون ممالک میں مقیم ہمارے کچھ لوگوں کے ذریعے بھارتی خفیہ ایجنسی فنڈز مہیا کر رہی ہے آزادکشمیر کے نوجوانوں میں مایوسی اور نظریاتی کشمکش پیدا کرائی جا رہی ہے بھارت آزادکشمیر میں نظریاتی تخریب کاری میں ملوث ہے اس حوالے سے تانے بانے اور ثبوت مل رہے ہیں آزادکشمیر کے عوام خاص کر ہمارے نوجوان سازش کا ہرگز حصہ نہ بنیں ہم شہیدوں اور غازیوں کی اولاد ہیں ہم نے تو مکمل کشمیر کو آزاد کرانا ہے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو سامنے رکھ کر ان کے ادھورے مشن کو مکمل کرنا ہے نظریاتی تخریب کاری کے خلاف آزادکشمیر کی تمام جماعتوں کو یکجا ہو کر کام کرنا ہو گا۔



