مظفرآباد

جماعت اسلامی اور ن لیگ جہلم ویلی کے کارکنان میں سوشل میڈیا وار

ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ)جہلم ویلی کے علاقہ وادی کھلانہ،بانڈی شیخاں میں مسلم لیگ(ن)سے مستعفی ہو کر جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرنے والے شیخ منیر اور شیخ عارف کا تردیدی ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن جہلم ویلی کے کارکنان کے درمیان سوشل میڈیا پر شدید سیاسی جنگ چھڑ گئی ایک دوسرے پر الزامات کی بارش۔تفصیلات کے مطابق دو روز قبل امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان کے دورہ وادی کھلانہ، بانڈی شیخاں کے دوران مسلم لیگ(ن) کے مقامی کارکنان شیخ منیر اور شیخ عارف نے مسلم لیگ(ن)سے مستعفی ہو کر جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی،اس موقعہ پر شیخ منیر،شیخ عارف اور دیگر نے باقائدہ طور پر حلف اٹھایا،جس کے بعد شیخ منیر اور شیخ عارف نے مسلم لیگی رہنماء مرزا آصف مغل کی موجودگی میں ایک ویڈیو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم جماعت اسلامی میں شامل نہیں ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق نے ہمیں زبردستی مالا ڈالے،اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی نے شیخ منیر کی ایک آڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ مرزا آصف مغل ہمارے گھر آگئے جس وجہ سے یہ ویڈیو بیان دینا پڑا،میڈیا پر چلنے والی ویڈیو اور بتوں کے کھڑا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارے دل ڈاکٹر مشتاق کے ساتھ ڈھرکتے ہیں ان شاء اللہ پولنگ سٹیشن انھیں ون کروائیں گے،اس کے بعد سابق ناظم اسلامی جمعیت طلباء آزاد کشمیر مسرور ظفر نے اپنے ویڈیو بیان میں مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حلقہ میں رواداری،بھائی چارہ کی سیاسی فضا کو خراب کرنے کی کوشش بند کی جائے،اگر مرزا آصف مغل نے معافی نہ مانگھی تو اس پر شدید ردعمل، اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا،جماعت اسلامی میں شامل ہونے والے ایک شخص کو بیوی کے تبادلہ کی دھمکی دے کر ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا گیا جو قابل مذمت ہے،دوسری طرف عوامی حلقوں نے شیخ منیر اور شیخ عارف کی جماعت اسلامی میں شمولیت کے موقعہ پر حلف اٹھانے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حلف اٹھا کر اس سے مکر جانے والے دونوں افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوں نے اللہ کو حاضر ناظر رکھتے ہوئے حلف اٹھایا اور پھر مکر گئے،نعوزباللہ ان لوگوں نے حلف کو معمولی سمجھ کر بڑا گناہ کیا،ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے تانکہ آئندہ کوئی بھی حلف اٹھا کر اس سے مکر کر بڑا گناہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

Back to top button