مظفرآباد

اساتذہ کے مسائل حل کرینگے۔فیصل راٹھور

مظفرآباد (محاسب نیوز‘پی آئی ڈی) وزیراعظم آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اساتذہ کرام کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت میں اساتذہ کرام کو اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ حکومت خود اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل حل کرے گی۔ تعلیم اور صحت کے شعبے ہر حکومت کی اولین ترجیحات ہیں کیونکہ یہی شعبے کسی بھی معاشرے میں برق رفتار ترقی کی ضمانت ہیں، جدید دور کے تقاضوں کے پیشِ نظر اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نسلِ نو کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کریں، اساتذہ کی معاشی مشکلات کے خاتمے اور تدریسی عمل کو مؤثر بنانا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد جموں و کشمیر اسکول ٹیچرز آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بعنوان“استاد: بطور فکری و نظریاتی محافظ”کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید، وزیر پی ڈی او چوہدری رشید، سابق سیکرٹری تعلیم رزاق احمد ندیم، صدر ٹیچر آرگنائزیشن سردار تاسف شاہین، مرکزی نائب صدر فائزہ اعجاز راجہ، مرکزی نگران اعلیٰ عامر فردوس اعوان، سید مظہر گیلانی، محمد آصف شاہد، منصور احمد اعوان، سیکرٹری ٹیچر فاؤنڈیشن ثانیہ ممتاز، صائمہ قاسم سمیت دیگر نے شرکت کی۔وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ اور قوم کے معمار ہوتے ہیں، اس لیے معاشرے میں استاد کے کردار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام میں بھی استاد کا بہت بلند مقام ہے اور اسلام نے استاد کی حرمت کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ کی معاشی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے، تاہم حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ جو استاد دلجمعی اور خلوص سے کام کرتا ہے، عوام بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انتقامی تبادلوں کو مسترد کیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے، عوام کا شعور اور آگہی بڑھ چکی ہے، اس لیے ہم سب کو خود احتسابی کی ضرورت پر زور دینا ہے۔ریاست کو درپیش تمام مسائل کو یکمشت حل کرنا آسان نہیں، لیکن اگر عوام کا اعتماد برقرار رہا تو آئندہ پانچ سال میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جب انہیں منصب ملا تو ریاست میں بے چینی پائی جا رہی تھی اور سیاسی نظام و گزشتہ حکومت پر عوامی اعتماد میں واضح کمی نظر آ رہی تھی، تاہم الحمدللہ موجودہ حکومت کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے اور یہی اعتماد ہماری اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقابلے کا جذبہ ہی انسان کی زندگی میں تبدیلی لاتا ہے، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ خامیاں اور خوبیاں معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہوتی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ معاملات ہمیشہ سڑکوں کے بجائے بات چیت اور اعتماد سازی کے ذریعے حل کیے جائیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اساتذہ سے براہِ راست گفتگو ان کی دیرینہ خواہش تھی اور اس موقع پر خود کو اساتذہ کے درمیان موجود پا کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ریاست کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں، جبکہ حکومت اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھاتی رہے گی۔موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ فکری اور نظریاتی محاذ پر استاد ہی ریاست کے اصل سفیر ہیں اور قوم کی فکری سمت و نسلِ نو کی تربیت میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ ریاست کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ذہنی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں نظریاتی فکر کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے کے نعرے کو مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے مسلح افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان شاء اللہ تحریکِ آزادی کشمیر جلد منطقی انجام کو پہنچے گی اور تکمیلِ پاکستان کا خواب شرمندۃ تعبیر ہوگا۔وزیر حکومت چوہدری رشید نے کہا کہ علم صدقہ جاریہ ہے۔ کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمیں نظریاتی فکر پر توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاک فوج کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ بھارت میں جاری بربریت کا نوٹس لے

Related Articles

Back to top button