مظفرآباد

چھم‘لڑکی کا قتل دبانے کیلئے مافیا کی سازش رائیگاں‘مقدمہ درج

ہٹیاں بالا (بیورورپورٹ)چناری کے ملحقہ علاقہ چھم میں شادی شدہ لڑکی کے قتل کو دبانے کے لیے متحرک بااثر مافیا کی کوششیں رائیگاں،جہلم ویلی کے صحافیوں کی جہدوجہد رنگ لے آئی تھانہ پولیس چناری نے مبینہ طور پر قتل ہونے والی لڑکی کے قتل کا مقدمہ اس کے سسر کی مدعیت میں نامعلوم قاتلوں کے خلاف درج کرتے ہوئے ایک مرد اور چار مشکوک خواتین کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا،عوامی حلقوں کا مقدمہ کے اندراج پر اطمینان کا اظہار،فوری طور پر نامعلوم قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق پچیس دسمبر کی رات چناری کے ملحقہ علاقہ چھم کی رہائشی شادی شدہ نوجوان لڑکی شائستہ بی بی زوجہ ماجد حسین گجر ساکن چھم گھر سے لاپتہ ہوئی،26 دسمبر کے روز شائشتہ کی نعش چھم آبشار سے ملی،تھانہ پولیس چناری نے واقعہ مشکوک پاتے ہوئے ورثاء کے انکار کے باوجود نعش کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا سے پوسٹمارٹم کروایا،جس میں خودکشی کے شواہد سامنے نہیں آئے،سامنے آنے والے شواہد میں اس کے سر میں ایک چوٹ تھی، باقی تمام ہڈی پسلی سلامت حالت میں تھی،اگر لڑکی چھم آبشار سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرتی تو سیکڑوں فٹ بلندی سے چٹانوں پر گر کر اس کی ہڈی،پسلیاں ٹوٹ جاتیں،نہ ہی لڑکی پانی میں ڈوبنے کے باعث ہلاک ہوئی تھی،مبینہ طور پر لڑکی کو سر میں کوئی چیز مار کر قتل کیا گیا تھا،بعد ازاں اسے مردہ حالت میں چھم آبشار میں پھینکا گیا تھا،پوسٹمارٹم کے دوران لڑکی کے قتل کے زیادہ تر شواہد سامنے آنے کے باوجود ورثاء نے بااثر افراد کے دباؤ کے باعث مقدمہ درج کروانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ لڑکی کے ساتھ جنات تھے جو اسے آبشار پر لے کر گئے اور اسے پانی میں پھینک دیا،جہلم ویلی کے صحافیوں کی جانب سے قتل کیس مسلسل میڈیا میں ہائی لائٹ کیے جانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور قتل ہونے والی لڑکی کے قتل کا مقدمہ زیر دفعہ 302 پی سی کے تحت مقتولہ کے سسر چوہدری عبدالعزیز ولد عبدالرحمن گجر ساکن چھم کی مدعیت میں ایس ایچ او تھانہ چناری چوہدری ممتاز نے درج کرتے ہوئے تفتیش/تحقیقات کا آغاز کردیا ہے،قتل ہونے والی لڑکی کے سسر چوہدری عبدالعزیز نے تھانہ چناری کو دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میری بہو شائشتہ حمید دختر عبدالحمید،زوجہ ماجد عزیز پچیس دسمبر کی رات گھر سے لاپتہ ہو گئی،اس دوران گاؤں میں فوتگی ہو گئی تھی گھر کے بڑے افراد جنازہ میں ہونے کی وجہ سے گھر دیر سے پہنچے،جب کہ شائشتہ گھر میں موجود تھی،اگلے دن وہ مردہ حالت میں آبشار سے ملی،اپنے طور پر تحقیقات اور چھان بین کی تو معلوم ہوا ہے کہ میری بہو کو قتل کیا گیا ہے،اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے،اس حوالہ سے جو بھی معلومات ہوئی پولیس کو آگاہ کروں گا،درخواست دینے میں تاخیر اس لیے ہوئی میں اپنے طور پر واقعہ کے حقائق جاننے کی کوشش کرتا رہا،گذارش ہے کہ اس قتل کی شفاف چھان بین کی جائے تانکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو پائیں،مقدمہ کے اندراج سے قبل چناری پولیس زیر دفعہ 174 کے تحت کارروائی کر رہی تھی،قتل کا مقدمہ درج ہونے کے بعد چناری پولیس نے مشکوک پائے جانے والے ایک مرد اور چار خواتین کو حراست میں لیکر تفتیش کا آغاز کردیا ہے،عوامی حلقوں نے شائشتہ قتل کیس کے مقدمہ کے اندراج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس جلد از جلد تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اصل قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزائیں دلوائے اور واقعہ کو دبانے میں ملوث کھر پینچوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

Back to top button