مظفرآباد

کارڈیک ہسپتال عوام کیلئے حکومت کا گراں قدر تحفہ ہے، انجمن تاجران، بینک روڈ

مظفرآباد (نمائندہ خصوصی)انجمن تاجران بینک روڈ مظفرآباد کے صدر راجہ ساجد اسحاق اور جنرل سیکرٹری منصور عالم قریشی سمیت انجمن کے عہدیداران و اراکین نے کارڈیک ہاسپٹل بینک روڈ مظفرآباد کی مثالی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ہاسپٹل کا طبی و معاون عملہ جس محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت سے مریضوں کو بہترین علاج فراہم کر رہا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور دیگر عملہ خوش اخلاقی، ہمدردی اور انسانی جذبے کے تحت مریضوں کی خدمت کر رہا ہے، جو مریضوں کے حوصلے بلند کرنے اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انجمن تاجران نے وسائل کی کمی کے باوجود مریضوں کے بہترین علاج پر ہاسپٹل انتظامیہ اور تمام سٹاف کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔انجمن کے رہنماؤں نے حکومت آزاد کشمیر سے پُرزور مطالبہ کیا کہ کارڈیک ہاسپٹل بینک روڈ میں درپیش وسائل کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے، جدید مشینری، ادویات اور انسانی وسائل میں اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کومزید بہتر اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ خطے کے غریب اور متوسط طبقے کے پاس راولپنڈی یا دیگر بڑے شہروں میں علاج کے لیے جانے کے وسائل موجود نہیں ہوتے، اس لیے کارڈیک ہاسپٹل بینک روڈ مظفرآباد کو مکمل وسائل کے ساتھ مزید بہتری کی جانب لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ دل کے مریضوں کو باعزت، بروقت اور مؤثر علاج اپنے ہی شہر میں میسر آ سکے۔اس موقع پر حفیظ اعوان، شیخ ظہیر احمد، سفید عباسی، شیخ نصیر احمد، بلال قریشی، خواجہ عمر فاروق قادری، خواجہ عمیر قادری، خواجہ شوکت مطلوب سبزواری، چوہدری شاہد عزیز و دیگر نے بھی کارڈیک ہاسپٹل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے عوامی صحت کے لیے اسے ناگزیر ادارہ قرار دیا۔کیا اس سے انکار ممکن ہے کہ موجودہ اسمبلی کے کچھ ممبران نے جمہوری اقدار اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزیوں میں کوء کسر اٹھا نہ چھوڑی اور مراعات کی خاطر جماعتی قیادتوں کے وقار اور منصب کی ناموس تک کمپرومائز کر گیے تو پھر انتخابات میں پارٹی کے پارلیمانی بوڑد کیسے ان عناصر کے لیے دوبارہ سے پارٹی ٹکٹس کی نامزدگیوں کی سفارشات کر سکیں گئے آزاد کشمیر کے سیاسی نظام سے جڑے ان متنازعہ کرداروں کو ایک بار اس نظام سے باہر کرنا پڑے گا جو موقع پرست بھی ہیں اور ناقابل اعتبار بھی اور میں بطور امیدوار اس بار ان کرداروں کو پوری طاقت سے چیلنج کرنے کا ارادہ باندھ کر انتخابی میدان میں اتروں گا ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی منشور کمیٹی کے ممبر اور امیدوار قانون ساز اسمبلی شاہد محمود وانی نے یوتھ ونگ کے عہدیداروں سے ایک غیر رسمی گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ قائد محترم جناب نواز شریف کا اس بار انتخابی عمل میں براہ راست حصہ لینے کا فیصلہ جماعت کے نظریاتی کار کنوں کے لیے بہت خوصلہ افزا ہے جس سے آزاد کشمیر کے سیاسی نظام کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اب کی بار فرضی دستخطی مہم کے بجائے پارٹی اور قیادت کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے رہنے والے مستند سیاسی کارکنوں کو جماعت کا پارلیمانی بوڑد ترجیح دے گا جس کی جانب قاید محترم نے بہت وضاحت سے گفتگو بھی فرماء ہے۔ شاہد محمود وانی نے کہا سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے اس میں ان مراعات کے بھوکے طبقہ کا بڑا کردار ہے جسکی وجہ سے سیاسیت جیسا مقدس پیشہ متنازعہ بھی ہوگیا اور اپنی نیک نامی بھی کھو گیا جسکی حوصلہ شکنی کر کے سیاست کا وقار بحال کرنا ہم سب پر لازم ہوچکا،شاہد محمود وانی نے مزید کہا کہ آئندہ انتخابات بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اس کے شفاف انعقاد کے لیے بے حد ضروری ہے کہ کسی ایسے شحص کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری ہو جو بے داغ ماضی کا حامل ہو اور کرپشن کا کوء الزام اسکے دامن پر نہ لگا ہو ورنہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ سارا انتخابی عمل متنازعہ ہوگا جس سے سیاسی بحران مزید پھیل سکتا ہے اور ریاست اسکی متحمل نہیں ہو سکتی۔

Related Articles

Back to top button