کالمزمظفرآباد

گرین پاکستان منصوبہ فنڈز ندارد ماحولیاتی مذاق

Raja Mumtaz

بلین ٹری منصوبے کے آزادکشمیر خاص طور پر مظفرآباد ڈویژن میں نظر آنے والے کام کئی جگہوں پر بالکل نمایاں اور کامیاب کلوژروں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ کے پی کے میں یہ منصوبہ کامیاب ہوا ہے یا کرپشن کی نظر ہوا ہو لیکن میں خود مظفرآباد ڈویژن کے علاقہ جات مظفرآباد، جہلم ویلی، نیلم ویلی میں اس کی گواہی دے سکتا ہوں کہ یہ ایک انتہائی کامیاب منصوبوں میں سے ایک تھا۔ ہماری نظر ایک فارسٹر کی ٹیکنیکل نظر ہے۔
جب سے عوام دوست حکومت گرین پاکستان کا پروگرام لے کر آئی ہم تقریریں سنتے رہے ”کوپ“ میں مصدق ملک صاحب کے مفت اور مفید مشورے بہترین تجاویز وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان تو دنیا بھر میں 1% سے کم Emission خارج کرنے والا ملک ہے لیکن ماحولیاتی حوالے سے متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے جہاں سیلابوں سے بے تحاشہ تباہی گلوبل وارمنگ موسمیاتی تبدیلی کلاؤڈ برسٹ بروقت بارشوں کا نہ ہونا یا زیادہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی کا شکار یہاں کے دریا گندی اور گٹر کے پانی سے آلودہ قدرتی چشمے آلودہ، شہریوں کی آبادی ناقابل کنٹرول جنگلات کی تباہی گلیشیرز کا گلنا گرین ٹور ازم کے نام پر ”مالیوں“ میں گندگی، بے ہنگم جنگلوں میں تباہی کے لئے پختہ سڑکیں 27% جنگلات کا ضیاع جنگلات کو جنگلوں سے پاک کرنے اور فنی مہارت سے دوری جیسے مسائل کا شکار ہے۔ آزادکشمیر میں جنوری کے اوائل تک کوئی شجرکاری نہیں۔ تقریر نہ کرتاثیر دکھا۔ ماحول کا کہاں درست ہو گا۔ ماحولایتی حد گلوب ہے۔ ہمارے دو ڈیم تربیلہ اور منگلا بے تحاشہ سیلابوں کی وجہ سے مٹی سے بھر گئے ہیں۔ چونکہ ہمارا کوئی کام ہی ان کے Catchments ایریا میں نہیں ہو رہا۔
بنیادی ورکر جو کہ ایک نگہبان ہوتا ہے وہ ہے ہی نہیں پیسے ہی نہیں ہیں۔ تو جنگل کدھر لگیں گے۔ شجرکاری کہاں ہو گی۔ آپ کی تقریریں بے مقصد اور فضول ہیں۔ یہ جب تک چالیس سال کی سکیم نہ ہو تو PC1 لکھنے اور دیگر کاموں کی کوئی ضرورت نہیں کم از کم حکومت آزادکشمیر اتنے تو نگہبان رکھے جتنے رقبے پہلے لگائے تھے یا کوئی نئے رقبے لگانے اب اگر پہلے رقبے آپ چھوڑ دیں گے اس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہو جائے گا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگی بنیادوں پر شجرکاری کی جائے اور سائل کنزرویشن کا کام کیا جائے۔ یہ مربوط انصرام اراضی جیسے منصوبے متعارف ہوں۔ تاکہ ہمارے ڈیم مٹی سے بھر نہ جائیں۔ پانی کی قلت کا ہم پہلے سے شکار ہیں۔ دریاؤں کے پانی میں گٹر کے پانی کو نہ ڈالا جائے۔ جس سے آبی حیات کے ختم ہونے کا امکان ہو۔ کم از کم صاف پانی تو شہروں کی حد تک مہیا کیا جائے۔
اس وقت جی بی اور آزادکشمیر کے گلیشیر گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دن رات پگھل رہے ہیں۔ اور یہ جنگلوں سے بے ہنگم سڑکیں جو نکالی جا رہی ہیں ماحول کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ پہاڑوں کی کٹائی قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال ماحولیات کے لئے زہر قاتل ہے۔ فطرت (Nature) کی تبدیلی ناقابل قبول ہمیں اپنی کمیونٹی کو بھی آگاہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے رقبہ جات میں کس قسم کے درخت لگائیں مقامی اقسام کو ترجیحی بنیادوں پر شجرکاری کے لئے لگانا ہی اصل فارسٹری ہے۔
ہم بات کر رہے تھے کہ آزادکمشیر میں خاص طور پر شجرکاری جنگی بنیادوں پر کئے جانے کے لئے فنڈز مہیا کئے جائیں۔ ہمیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ شجرکاری کے لئے جو گرین پاکستان کا پروگرام شروع کیا ہے اس میں جو کمی ہے اسے دور کیا جائے۔ اور سرکاری طور پر نرسریاں قائم کی جائیں اور فنی لحاظ سے وہی پودے اگائے جائیں جو مقامی ہوں۔ کیکر اور دریاؤ اور دیگر اقسام جو Exotic باہر کے ہیں وہ نہ لگائے جائیں۔ فنڈز کے بغیر تمام دعوے بے مقصد۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگلات کی زمینوں پر جو قبضے ہوئے ہیں سپریم کورٹ آزادکشمیر نے جو حالیہ فیصلہ کیا ہے محکمہ جنگلات نوتوڑ شدہ رقبہ جات واپس لے سکتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اقدامات کرنے چاہئیں چونکہ عدلیہ اس کو مانیٹر بھی کرے گی۔ ہماری تجویز ہے کہ فوری جنگی بنیادوں پر شجرکاری اور شجرپروری کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ یہ قطعہ کشمیر سرسبز ہو گا تو پانی کے ذخیرے بھی ہوں گے اور ٹورازم بھی پروان چڑھے گا۔ اہم مسئلہ جس کی نشاندہی ضروری ہے کہ کامسر جو کہ مظفرآباد شہر کے اندر ہے کرش مشینوں پر پابندی سپریم کورٹ آزادکشمیر نے لگائی۔ تعمیراتی کاموں کے لئے انتہائی ناقص پتھر اب دن رات چوری چھپے کرشنگ کا کام شروع ہے۔ یہ تمام کا تمام رقبہ جنگل ہے لیکن اگر محکمہ جنگلات اسے نہ لے تو ہم کیا کہیں۔ یہ کچھ نہیں چلے گا۔ پورا شہر مظفرآباد آلودہ ہو گیا ہے۔ لوگ کینسر ہارٹ اٹیک، جلدی امراض جیسی موزی مرض کا شکار ہیں۔ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ فنڈز ندارد ماحولیات مذاق رات۔

Related Articles

Back to top button