مظفرآباد
گوجر بانڈی کلی گبر کے نوجوان کی تشدد زدہ نعش ٹیکسلا سے برآمد
ہٹیاں بالا(اسلم مرزا سے)قتل،اغواء،خود کشی یا حادثہ؟آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کی یونین کونسل گوجر بانڈی کے گاؤں کلی گبر کا رہائشی،سات جنوری کے روز ٹیکسلا سے پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والا نوجوان زخموں سے چور مردہ حالت میں ٹیکسلا پولیس نے کالے پل سے ریکور کر لیا،پوسٹمارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالہ،آبائی گاؤں میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اشکبار آنکھوں کے سائے میں منوں مٹی تلے سپرد خاک۔تفصیلات کے مطابق چناری کے ملحقہ گاؤں کلی گبر کا رہائشی بیس سالہ عاصم رشید ولد عبدالرشید محنت مزدوری کے سلسلہ میں سات جنوری کے روز ٹیکسلا گیا جہاں اسے رات اپنے ایک کزن کے پاس رہنا تھا،لیکن وہ اس کے پاس نہ پہنچا جس کے بعد ورثاء نے اس کی تلاش شروع،مقامی پولیس کو اطلاع کے علاوہ اس حوالہ سے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی شیئر کی گئیں،گذشتہ روز عاصم رشید مردہ حالت میں ٹیکسلا میں کالے پل کے نیچے سے پولیس نے ریکور کر کے اس کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے پوسٹمارٹم کروانے کے بعد میت ورثاء کے حوالہ کردی،ہفتہ اور اتوار کی رات میت جب نوجوان کے آبائی گاؤں پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار،علاقہ کی فضا نوجوان موت پر سوگ میں ڈوب گئی،متوفی کے بھائی عامر رشید نے صحافیوں کو فون پر بتایا کہ جب میرا بھائی گم ہوا تو اس کی رپورٹ درج کروانے تھانہ ٹیکسلا گیا،جہاں پولیس نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ہم چناری تھانہ میں رپورٹ درج کروائیں،ہم نے پولیس کو بتایا کہ میرا بھائی ٹیکسلا سے گم ہوا ہے چناری سے گم نہیں ہوا پھر بھی انھوں نے ہماری کوئی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے واپس بھیج دیا،دوسرے دن ہم ڈی ایس پی کے آفس گئے انھوں نے بھی ہماری درخواست مارک کر کے تھانہ بھیجنے کے بجائے پاس رکھ لی،جب میرے بھائی کی ڈیڈ باڈی ملی تو اس کے بعد ڈی ایس پی آفس میں دی گئی درخواست تھانہ منگوا کر ایف آئی آر درج کی گئی،اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو شاہد میرا بھائی زندہ ہمیں مل جاتا،پولیس کو دی جانے والی درخواست میں عامر رشید نے موقف اختیار کیا تھا کہ کہ میرا بھائی عاصم رشید سات جنوری کی رات ٹیکسلا پہنچا،سات بجکر 23 منٹ پر اس نے اپنے کزن حمزہ شفیق کو کال کر کے بتایا کہ وہ ٹیکسلا چوک میں ہے،اس کے بعد میرے بھائی کا فون بند ہو گیا،کوئی رابطہ نہیں ہوا،شبہ ہے کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر میرے بھائی کو اغواء کر لیا گیا،میرے بھائی کی نعش ملنے کے بعد تھانہ ٹیکسلا نے دس جنوری کے روز رپورٹ درج کی،انھوں نے کہا کہ میرا بھائی زخموں سے چور،مردہ حالت میں پولیس کو ملا ہے مجھے شک ہے کہ اس کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب فوری اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی اعلی سطحی تحقیقات کے احکامات دیں تانکہ میرے بھائی کی موت کے اصل حقائق سامنے آپائیں،پولیس کے مطابق مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں دفعہ 365 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کر لیا گیاہے،جبکہ لاش کی برآمدگی کے بعد تفتیش کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے،پوسٹ مارٹم رپورٹ،موبائل فون ڈیٹا،سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی روشنی میں اصل حقائق جلد سامنے لائے جائیں گے۔۔۔۔





