مظفرآباد
جامعہ کشمیر 1ارب سے زائد خسارہ کا شکار حکومت کو 22فروری ڈیڈلائن
مظفرآباد (محاسب نیوز)آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی 1ارب سے زائد مالی خسارہ کا شکار،جامعہ کشمیر کے ملازمین گذشتہ 7ماہ سے تنخواہوں میں اضافے سے محروم ہیں۔ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور ایڈمنسٹریٹیو سٹاف ایسو سی ایشن نے جامعہ کشمیر کو خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت آزاد کشمیر کو 2فروری 2026کی ڈیڈ لائن دے دی۔یکم فروری 2026تک اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو02فروری 2026کو جامعہ کشمیر کے پانچوں کیمپس کومکمل طور پر بندکر کے اسمبلی کی طرف مارچ کیا جائے گا۔صدراگیگاآزاد کشمیرسالک عباسی اور صدرآل سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن شریف اعوان نے اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور ایڈمنسٹریٹیو سٹاف ایسو سی ایشن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم جامعہ کشمیر کے ملازمین اور اکیڈمک سٹاف مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ریاست بھر میں احتجاج کریں گے۔مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ریحانہ کوثر، ایڈمنسٹریٹیو سٹاف ایسو سی ایشن کے صدر اسرار سعید قادری، ڈاکٹر فضل الرحمان پیرزداہ،ڈاکٹر نوید سرور،شکیل بشیر اعوان،راجہ سراج،امتیاز علی بٹ،صدراگیگاآزاد کشمیرسالک عباسی اور صدرآل سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن شریف اعوان نے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جامعہ کشمیر 1ارب سے زائد مالی خسارے کا شکار ہے۔مالی سال 2025-26کے دوران تنخواہوں میں اضافہ ہونے کے باوجود یونیورسٹی ملازمین اضافہ سے محروم ہیں۔30سے زائد ملازمین طویل عرصہ پنشن،لیوان کیش منٹ کی ادائیگی سے محروم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث فیملی پیکج سے بھی محروم ہیں اس وقت جامعہ کشمیر کے متعدد ملازمین کینسر،دل اور گردوں جیسے موذی امراض میں مبتلا ہیں۔میڈیکل بلز کی عدم ادائیگی کے باعث بھی مشکلات کا شکار ہیں۔مستقل میں مالی بحران کا شکار جامعہ کشمیر کے ملازمین شدید بے چینی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔15اکتوبر سے 25اکتوبر 2025سے ہمیں یقینی دہانیوں کے باوجود تنخواہوں کے بقایا جات ادا نہیں کیے گئے،یونیورسٹی ملازمین اب مجبوراً احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 1980 میں قائم شدہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی خطہ کی سب سے قدیم بڑی اور صف اول کی یونیورسٹی ہے جس مین لاکھوں کی تعداد میں طلباء زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر مملکت خدادادپاکستان آزاد کشمیر اور بیرون ملک خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اس وقت ہزاروں کی تعداد میں طلباء اس جامعہ میں زیر تعلیم ہیں۔ آزادجموں و کشمیر یونیورسٹی ریاست میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبہ میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے اور اس وقت ریاست میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اہم کلیدی اور نمایاں مقام رکھتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی اس وقت شدید ترین مالی بحران کا شکار ہے جس کی ابتداء 2009 میں اس کے میرپور کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے شروع ہوئی۔ اس طرح 2012 میں پونچھ اور 2014 میں کوٹلی کیمپس کو مکمل جامعات کا درجہ دیا گیا اور ستم ظریفی یہ کہ ایک طرف بغیر پلاننگ کے ان کیمپس کو یونیورسٹیاں بنایا گیا دوسری جانب اس یونیورسٹی کے اربوں روپے مالیت کے اثاثہ جات بھی ان جامعات کو منتقل کر دیے گئے اور مالی ذمہ داریاں آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے حصہ میں ڈال دی گئیں۔دوسری طرف سٹوڈنٹس کی کمی کی وجہ سے اس یونیورسٹی کی آمدن کو بڑا دھچکا لگا۔ آمدن میں اس قدر کمی کے باوجود یونورسٹی اپنے وسائل میں رہتے ہوئے بہترین تعلیمی خدمات سر نجام دیتی رہی لیکن 2017 سے اٹھارویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد جس میں ہائیر ایجوکیشن کا شعبہ اور فنڈنگ صوبائی حکومتوں کے سپرد کر دیا گیا کے باعث یونیورسٹی کی گرانٹ کو منجمند (freeze) کر دیا گیا۔ اس صورت حال کے بعد آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داری تھی کہ ایک ایسی یونیورسٹی جس کے اثاثہ جات کو تقسیم کر دیا گیا اس کو معقول فنڈز فراہم کیے جاتے اور اس حوالہ سے ٹھوس اقدامات اٹھائے جاتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ کیا گیا۔ ریاست میں جامعات کے قیام کے ساتھ ان کی مالی معاونت بھی حکومت آزاد کشمیر کی ذمہ داری ہے اور ایسا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے سالانہ 35 لاکھ روپے کی گرانٹ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کو فراہم کی جاتی ہے جس کو اگر مذاق کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ریاست کی سب سے بڑی درسگاہ کو حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے مسلسل نظر انداز کرنے کے باعث اس وقت یونیورسٹی بد ترین مالی حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ اس شدید ترین مالی بحران کے باعث آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی اساتذہ اکرام اور ایڈمنسٹریٹو سٹاف کی تنخواہوں میں سالانہ ہونے والے اضافہ کی ادائیگی نہیں کر پاتی او ر یہ صورت حال گزشتہ 4-5 سال سے جاری ہے۔ 2023 میں تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے ملازمین اور فیکلٹی کو 2024 میں ادا کیا گیا جبکہ بقایا جات کی رقم ستمبر 2025 میں ادا ہوئی۔ اس طرح 2024 کا اضافہ 04 ماہ کی تاخیر سے ادا کیا گیا اور اب 2025 مین تنخواہوں میں ہونے والے اضافہ عرصہ 7 ماہ گزرنے کے باوجود اس وقت تک ادا نہیں کیا جا سکا جبکہ آزاد کشمیر بھر کے جملہ سرکاری، نیم سرکاری ادارہ جات اور دیگر جامعات میں یہ اضافہ بر وقت ادا کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب اس مالی بحران کے باعث 30 سے زائد ملازمین/ آفیسران بغیر پنشن کی ادائیگی ریٹائر ہو چکے ہیں اور در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کئی ملازمین دوران سروس وفات پا چکے ہیں اور ان کے ورثاء (بیوگان، یتیم بچے) اسسٹنس فیملی پیکج کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ کئی ملازمیں موذی امراض کا شکار ہیں اور میڈیکل بلات کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ اس صورت حال میں یونیورسٹی اساتذہ اکرام، آفیسران اور ملازمین ایک طرف تو شدید ذہنی کوفت ا ور اضطراب کا شکار ہیں اور دوسری جانب اس عدم مساوات پر دل برداشتہ ہیں۔ تسلیم شدہ اور جائزحق کی عدم ادائیگی اور طویل انتظار کے بعد یونیورسٹی کے جملہ اساتذہ اور سٹاف گزشتہ ایک ہفتہ سے جزوی تدریسی اور انتظامی بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرو ا رہے ہیں لیکن تاحال نہ تو یونیورسٹی اتھارٹیز اور نہ ہی حکومتی ذمہ داران کی طرف سے اس طرف کوئی توجہ دی گئی۔ یونیورسٹی کے مالی بحران کا مستقل حل حکومت آزاد کشمیر کی ذمہ داری ہے اور اس حوالہ سے موجودہ اور سابقہ وائس چانسلرز، صدر ریاست اور چئیر مین ہائیر ایجوکیشن کی طرف سے بھی حکومت کو فنڈزفراہمی کے مکتوبات ارسال کیے جا چکے ہیں لیکن تا حال اس حوالہ سے کوئی مثبت پیغام موصول نہیں ہوا۔ اس صورت حال میں اکیڈمک اور ایڈ منسٹریٹیو سٹاف ایسو سی ایشن نے یونیورسٹی اتھارٹیز اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کو مورخہ01فروری 2026کی ڈیڈ لائن دی ہے اس وقت تک یونیورسٹی کے مالی بحران کا حل نہ کیا گیا اور فنڈز فراہم کر کے ادائیگاں عمل میں نہ لائی گئی تو د۔02فروی 2026سے آزاد کشمیر یونیورسٹی کے جملہ پانچوں کیمپسز میں تدریسی اور انتظامی امور کا بائیکاٹ کرتے ہوئے چہلہ کیمپس میں بھر پور احتجاج کیا جائے گااور اسمبلی کی طرف مارچ بھی کیا جائے گا۔ اور اس کا دائرہ اختیار یونیورسٹی سے باہر بھی لے جایا جا سکتا ہے۔





