کالمز

معراج کے اسباق

تحریر مفتی احسان اکبر مغل الشاذلی

واقعہ معراج تاریخ انسانی کا ایک ایسا معجزہ ہے۔کہ اس کے متعلق تین گروہ بن چکے ہیں
پہلا گروہ اہل ایمان کا ہے جو اس واقع کو من و تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ منکرین کا ہے جو کفار ہیں۔اور اب تیسرا گروہ بھی نمودار ہو چکا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اذہان اس منکر گروہ کی علمی و مادی برتری کے حلقہ بگوش ہیں اور ادھر اسلام سے بھی ان کا رشتہ ہے۔ نہ وہ اسلام سے رشتہ توڑنے پر رضامند ہیں اور نہ ہی اپنے ذہنی مربیوں کے نظریات کو رد کرنے کی ہمت رکھتے ہیں
ناچار وہ اس واقعہ کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ واقعہ کا نام رہ جاتا ہے لیکن اس کے سارے حسن و جمال پر پانی پھر جاتا ہے اور اس کی معنویت ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام پر وارد ہونے والا ایک بہت بڑا اعتراض دور کر دیا ہے۔ اب یہاں پر مختصرا واقعہ معراج کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ تعصب کوبالا طاق رکھ کر اگر لوگ فائدہ اٹھانا چاہیں تو فائدہ اٹھا سکیں۔جو لوگ اللہ تعالی کی قدرت و عظمت اس کی شان کبریائی پر ایمان رکھتے ہیں۔اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالی کا سچا رسول مانتے ہیں ان کے لیے تو واقع معراج کا بیان قران مجید میں آ جانے کے بعد اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔
ایت میں اللہ پاک نے سبحان کا لفظ پہلے بیان فرمایا۔
کہ اللہ تعالی ہر قسم کے عیب نقص کمزوری اور بے بسی سے پاک ہے۔ کہ جس نے اپنے خاص الخاص بندے کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی سیر کروائی۔قران کریم میں صرف مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا ذکر فرمایا اس سے اگے کے جتنے بھی سیر ہیں اس کا ذکر قران مجید میں تفصیل کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ٹکڑوں کے اندر موجود ہے۔ باقی کا سارا سفر احادیث کے اندر موجود ہے۔سیرت النبی کی مشہور و معروف صدارتی ایوارڈ یافتہ کتاب ضیاء النبی شریف میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس کو خوبصورت پیرائے میں مختصرا بیان فرمایا ہے
اپ نے واقعہ معراج کا سبب یہ بیان فرمایا کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوت و تبلیغ کا آغاز فرمایا
تو اسی روز سے عداوت و عناد کے شعلے بھڑکنے لگے اور ہر طرف سے مصائب و آلام کا سیلاب امڈ آیا۔ لیکن اس تاریکی میں ام المومنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا اور آپ کے پیارے چچا حضرت ابو طالب کا وجود مسعود ہر نازک مرحلہ پر آپ کے لیے تسکین کا سبب بنتا تھا۔ بعثت نبوی کے دسویں سال مہربان و شفیق چچا نے وفات پائی۔ ابھی اس سانحہ کا زخم مندمل نہ ہونے پایا تھا
کہ مونس و ہمدم عالی حوصلہ رفیقہ حیات حضرت خدیجہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔
جس کے باعث اہل مکہ کی ایذا رسانیاں ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئیں۔ حضور اہل مکہ سے مایوس ہو کر طائف تشریف لے گئے کہ شاید وہاں کے لوگ دعوت توحید کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ لیکن وہاں جو ظالمانہ برتاؤ کیا گیا اس نے سابقہ زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا ان حالات میں حق تعالی نے اپنے محبوب کو عالم بالا کی سیاحت کے لیے بلایا غور کیا جائے تو سفر اسری کے لیے اس سے بہترین اور کوئی وقت نہیں ہو سکتا تھا۔ اس سفر کا تفصیلی واقع تو کتب سیرت و احادیث میں بکثرت ملتا ہے یہاں اجمالی طور پر احادیث میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک رات حطیم میں آرام فرما رہے تھے جبرائیل آمین حاضر خدمت ہوئے خواب سے بیدار کیا اور ارادہ خداوندی سے آگاہی بخشی
آپ علیہ الصلواۃ والسلام کے سینہ مبارک کو چاک کیا گیا قلب اطہر میں ایمان و حکمت سے بھرا ہوا طشت انڈیل دیا گیا پھر سینہ مبارک درست کر دیا گیا پھر براق نامی جنتی سواری پر سوار کرایا گیا اس پر سوار ہو کر آپ بیت المقدس تشریف لے گئے۔ وہاں تمام انبیاء نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اس کے بعد آپ علیہ الصلواۃ والسلام کی سواری بلندیوں کی طرف پرواز فرمانے لگی مختلف طبقات پر مختلف انبیاء سے ملاقاتیں ہوئیں اور ساتویں آسمان پر اپنے جد کریم ابو الانبیاء حضرت ابرہیم خلیل علیہ الصلواۃ والسلام سے ملاقات ہوئی۔ ان سے ملاقات کے بعد حضور آگے بڑھے اور سدرتہ المنتہیٰ تک پہنچے جو انوار ربانی کی تجلی گاہ تھی
جس سے آگے حضرت جبرائیل امین بھی جائیں تو ان کے پر جلتے ہیں۔ پھر وہاں سے آگے مقام قاب قوسین سے بھی آگے پہنچے پھر وہاں کیا ہوا یہ رب اور اس کا محبوب ہی جانتا ہے اس مقام قرب اور گوشہء خلوت میں دیگر انعامات کے علاؤہ 50 نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرضداشت پر تخفیف کی التجا کی گء۔
چنانچہ نمازوں کی تعداد پانچ کر دی گئی اور ثواب 50 کا ہی رہا۔ تو نمازوں کا تحفہ یہ معراج کا تحفہ ہے اسی لیے فرمایا گیا الصلواۃ معراج المومنین نماز مومنوں کی معراج ہے اللہ پاک ہمیں واقعی معراج کو سمجھنے اور اس تحفے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Related Articles

Back to top button