معراج النبی ﷺ، اسراء و معراج میں مشاہدات نبوی ﷺ قرآن واحادیث مبارکہ کی روشنی میں (حصہ اول)

معراج عربی زبان کا لفظ ہے اُردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اس کا معنی زینہ،سیڑھی،بلندمرتبہ،عروج اوراصطلاحی معنی رسول کریم ﷺکاآسمانوں سے
بھی آگے سدرۃ المنتہیٰ سے گزر کر عرش معلی پرتشریف لے جانا اورتجلیات الٰہی کامشاہدہ کرنا،معراج نبی کریم ﷺکے معجزات میں سے عظیم ترین معجزہ
اورآپ کے فضائل وکمالات وخصائص میں سے سب سے بڑا فضل وکمال اوربلند ترین خصوصیت ہے،بہ فضل وشرف اورمقام ومرتبہ انبیائکرام میں سے کسی کو حاصل نہ ہوا۔ بعثت نبوی کو دس سال ہوچکے تھے حضور نبی کریم ﷺکے مخلص، شفیق اور مہربان چچا حضرت ابوطالب ؓوفات پاگئے۔ اورکچھ ہی عرصہ بعد آپ ﷺکی نہایت ہی غمگسار،مشفقہ،محسنہ،اطاعت شعار وفرمانبردار رفیقہ حیات ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری ٰ ؓ بھی انتقال فرماگئیں۔یہ دونوں شخصیات آپ ﷺ کیتبلیغی مشن اوردعوت دین اسلام میں ممدومعاون تھیں اورمخالفین وعداوت کیآگے ایک دفاع اورڈھارس تھیں۔ ان دونوں کی یکے دیگر وفات سے آپ ﷺ کو سخت صدمہ،رنج اوردکھ لاحق ہوا،اورساتھ ہی کفار مکہ کی ایذا رسانیوں میں بھی اضافہ ہوا،یہ سال تاریخ اسلام میں عام الحزن“ کہلاتا ہے، یعنی غم کاسال۔
حضورنبی کریم ﷺ اہل مکہ کی ریشہ دوانیوں،مخالفتوں اورعداوتوں سے مایوس
ہو کر طائف تشریف لے گئے کہ شاید وہاں کے لوگ دعوت حق قبول کرنے کیلئے آمادہ ہوجائیں لیکن وہاں آپ کے ساتھ اہل طائف نے جو ناروا اور ظالمانہ برتاؤ کیا اس نے پہلے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا اورآپ وہاں سے رنجیدہ و افسردہ ہو کر واپس لوٹے لیکن ان کیلئے بددعا نہیں کی،سفرطائف کے حالات وواقعات دینیات کی کتب میں موجود ہیں لوگ پڑھتے پڑھاتے اورسنتے سناتے رہتے ہیں یہاں تفصیلات میں جانے کا موقع نہیں ہے،ان حالات میں جب حضور نبی کریم ﷺکو بظاہر ہرطرف سے مایوسی،بے سکونی اورپریشانی کاسامنا تھا
اورظاہری سہارے ٹوٹ چکے تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب رسول
ﷺکو اپنی عظمت وکبریائی کے جلوے اوراپنی قدرت وشان وشوکت کی نشانیاں
دکھانے کیلئے پہلے زمینی اورپھر آسمانی عالم بالا کی سیروسیاحت کے لئے
بڑے اہتمام و انتظام اوراعزاز واکرام سے بلایا تاکہ آپﷺ کو اپنے رب کریم
کی دائمی اورلازوال تائیدونصرت پرحق الیقین ہوجائے اورپیش آمدہ حالات کی
ظاہری ناسازگاری سے آپ کے قلب مبارک کو جورنج الم پہنچا ہے اورشفیق ومحسن چچا حضرت ابوطالب ؓ کی وفات،اوراپنی مونس وہمدم، دانشور اورعالی حوصلہ رفیقہ حیات کے سانحہ رحلت سے جو احساس غم اوراحساس تنہائی لاحق ہوا ہے وہ آپ کو مزید پریشان نہ کرسکے،اورآپ کوفرحت وسکون حاصل ہوسکے، غور کیاجائے توسفراسریٰ اورسفرمعراج کیلئے اس سے موزوں ترین اورکوئی وقت اورموقع نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم کے 15ویں پارے کے آغاز
میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”سبحٰن الذی
اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی برکنا حولہ
لنریہ من اٰیٰتنا،انہ ھو السمیع البصیر۔“ترجمہ،پاک اوربے عیب ہے وہ
ذات جس نے سیرکرائی اپنے بندہ خاص (حضرت محمد ﷺ)کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم نے برکتوں کاماحول رکھا ہے تاکہ ہم اس بندہ خاص (اپنے محبوب رسول)کو اپنی قدرت کاملہ کی خاص نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا،دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم وجلیل واقعہ کے بیان کو لفظ سبحان سے شروع فرمایا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اورنقص سے پاک ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ واقعات معراج جسمانی پرمنکرین کی طرف سے جس قدر اعتراضات ہوسکتے تھے ان سب کا خاتمہ کردیا،اللہ تعالیٰ نے لفظ سبحان سے آغاز کرکے یہ ظاہر فرما یا کہ یہ تمام کام میرے لئے اگر ناممکن اورمحال ہوں تو یہ میری عاجزی اور کمزوری
ہوگی جبکہ عاجزی اورکمزوری عیب ہے اورمیں عیب سے پاک ہوں۔ اسی حکمت کی بنائپر اللہ تعالیٰ نے اسریٰ فرمایا جس کافاعل اللہ تعالیٰ خود ہے۔ نیز ”اسریٰ“ اورمعراج“ ہردو جسد مبارک کے ساتھ حالت بیداری میں ایک ہی رات وقوع میں آئے،جمہور صحابہ کرام ؓ و تابعین و محدثین،وفقہا،متکلمین
اورصوفیائکرام کا یہی مذہب ہے اوریہی قرآن کریم سے ثابت ہے کیونکہ آیت
کریمہ میں لفظ ”عبد“ موجود ہے اورعبد مجموعہ روح وجسم کو کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں جہاں کہیں کسی انسان کو لفظ عبد سے تعبیر کیا گیا ہے
تووہاں جسم اورروح دونوں مراد ہیں،مزید برآں سیدنامحمدرسول اللہ ﷺکو لے
جانے والا اورسیر کرنے والا خود اللہ تعالیٰ جو قادر مطلق ہے اورہرقسم کے
عیب ونقص سے پاک ہے وہ قادر ہے،قدیر ہے،جوچاہے جب چاہے، جیسے چاہے،جس طرح چاہے کرسکتا ہے،کرتا ہے اورکرتا رہے گا۔جوکوئی حضورنبی کریم ﷺکے جسمانی اسرا ومعراج پر اعتراض کرتا ہے یا کرے گا گویا وہ قرآن مجید پر اوراللہ تعالیٰ کی قدرت پر اعتراض کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔سفراسریٰ ومعراج کی پوری کیفیت اورساری روئیدار حضور نبی کریم ﷺ نے بذاتخود اپنی زبان اقدس سے بیان فرمائی ہے جو بہت سے صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے، جسن کے اسمائگرامی یہ ہیں۔۱،حضرت ابوبکر صدیق ؓ،۲،حضرت عمرفاروق ؓ
،۳ حضرت عثمان غنی ؓ، ۴،حضرت علی المرتضیٰ ؓ، ۵، حضرت عبداللہ بن مسعود
ؓ، ۶، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، ۷، حضرت ابی بن کعب ؓ، ۸، حضرت عبداللہ
بن عباس ؓ،۹، حضرت ابو ہریرہ ؓ، 10، حضرت انس بن مالک ؓ، ۱۱، حضرت
جابر بن عبداللہ ؓ،12، حضرت بریدہ بن ا سلمی ؓ، 13، حضرت ثمرہ بن جندب
،14، حضرت خذیفہ بن یمان ؓ، 15، حضرت شداد بن اوس ؓ، 16،حضرت صہیب رومی ؓ، 17، حضرت مالک بن قعصعہ ؓ، 18، حضرت ابو سعید خدری ؓ، 19،حضرت ابو امامہ باہلی ؓ،20، حضرت ابوایوب انصاری ؓ،21، حضرت ابو حبہ
، 22، حضرت ابو ذرغفاری ؓ، 23، حضرت اسامہ،24،حضرت عبدالرحمان بن
عامر ؓ،25 حضرت ابو دردا ؓ، 26، حضرت بلالؓ بن سعد،27، حضرت عبداللہ
بن عمر ؓ،28،حضرت بلال حبشی ؓ، 29،حضرت عمر بن حصین ؓ رضی اللہ
تعالیٰ عنہم اورخواتین میں سے حضرت اسماءؓ، حضرت ام ہانی ؓ، حضرت عائشہ
ؓ رضی اللہ عنہن،(بحوالہ معارج النبوت ونشرالطیب)۔صحابہ کرام کی مختلف
طرق سے بیان کردہ روایتیں واقعہ معراج کے مختلف پہلو?ں پرخوب صورت روشنی ڈالتے ہیں،۔ان سب کو ملانے سے ایک منفرد،امتیازی سفرنامہ بن جاتا ہے۔جس سے زیادہ دلچسپ،معنی خیز، نظر افروز،محیر العقول معجز نماسفرنامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ (تخلیق آدم سے تاایں دم)میں نہیں ملتا,مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سفراسریٰ کا اجمالی تذکرہ قارئین کیلئے پیش نظرہے، رجب کی ۷۲ ویں تھی اورشب دوشنبہ یعنی پیر کی رات حضور نبی کریم ﷺخانہ کعبہ کے متصل حطیم میں آرام فرما رہے تھے،نیم خوابی میں تھے،حضرت جبرائیل ؑحاضر خدمت ہوئے،خواب سے بیدار کیا اورارادہ خداوندی سے آگاہ کیا،پھر آپ کو زمزم کے پاس لے جایاگیا،آپ کاسینہ مبارک چاک کرکے اسیزمزم کے پانی سے دھویا گیا،پھر آپ ﷺ کے قلب اطہر کو ایک سنہری خوبصورت تھال میں رکھا گیا پھر اسے علم وحکمت،حلم وبردباری اورایمان ویقین سے معمور کرکے سینہ مبارک میں درست کردیا گیا۔ اس کے بعد آپ کی سواری کیلئیایک جانور پیش کیا گیا جو سفید رنگ کا تھا اورقدخچر سے کچھ چھوٹا تھا اس پر خوب صورت زین پڑی ہوئی تھی جو برق کی رفتار سے چلتا تھا اسی مناسبت سیاس کانام براق تھا،آپ اس پرسوار ہوئے،حضرت جبرائیل ؑ ہمراہ تھے،پہلی منزل یثرب کی تھی جہاں اتر کر آپ نے دو رکعت نفل پڑھے،جبرائیل ؑ نے کہا یہ آپکی ہجرت گاہ ہے آپ کے آنے کے بعد اس کانام مدینہ ہوگا۔دوسری منزل طور سینا تھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ہمکلام ہوتے تھے،یہاں بھی آپ نے دورکعت نفل ادا کی،تیسری منزل بیت اللحم تھی جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی تھی یہاں پر آپ نے دو رکعت ادا کئے،چوتھی منزل بیت المقدس تھی یہاں پہنچ کر آپ براق سے اترے،اوربراق کو ایک حلقے سے باندھ دیا گیا جہاں انبیائکرام ؑ اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپﷺ مسجد اقصیٰ داخل ہوئے یہاں آپ نے انبیائکرام ؑکو موجود پایا جو ابتدائیآفرینش سے اس وقت تک دنیا میں تشریف فرماہوئے تھے،انبیائکرام نے آپ کوخوش آمدید کہا،پھر نماز کیلئے صفیں بندھ گئیں سب منتظر تھے کہ امامت کیلئے کون آگے بڑھتا ہے،حضرت جبرائیل ؑ نے آپ ﷺکا ہاتھ پکڑا اورمصلیٰ امامت پر بڑھا دیا،
آپ ﷺ نے فریضہ امامت ادا کیا،سبھی نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی اس طرح روز ازل میں ارواح انبیائسے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ لیا تھا کہ تمہارے پاس میرے محبوب رسول ﷺتشریف لائیں گے تمہاری تصدیق کریں گے تم نے ان پر ایمان لانا ہوگا اوران کی نصرت کرنا ہوگی۔ (اس میثاق کا ذکر سورہ آل عمران کی آیت 18،28 میں ہے)۔چنانچہ اس میثاق کی تکمیل شب اسریٰ کو مسجد اقصیٰ میں ہوگی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد بعض انبیائکرام ؑ نے بالترتیب خطابات فرمائے،آخر پر نبی کریم ﷺنے خطاب فرمایا،پھر یہاں سے عالم بالا کا سفر معراج شروع ہوا۔علمائے ربانین کے نزدیک مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کو اسرائاوروہاں سے اوپر سدرۃ المنتہیٰ تک کی سیاحت کو معراج کہاجاتا ہے۔اوربسا اوقات ان دونوں کے سفر کے مجموعے کو ایک ہی لفظ اسرائیا معراج سے تعبیر کرلیتے ہیں،اورحضرت خواجہ نظام الدین اولیائرحمتہ اللہ علیہ اس مبارک معجزہ کو تین اقسام اورتین ناموں سے بیان فرماتے ہیں۔ جس کاخلاصہ یہ ہے کہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اسراۂے اوروہاں سے آسمانوں تک معراج ہے اورآسمانوں سے مقام قاب قوسین تک اعراج ہے (فوادالفوائد جلد ۴)نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت مبارکہ ”سبحان الذی میں الذی برکنا حولہ تک اسرائکا تفصیلی بیان ہے اورلنریہ من ایتنا“ میں تمام آسمانی سفرکا اجمالی ذکرہے،اورانہ ھو السمیع البصیر، میں اللہ تعالیٰ کی کلام سننے اوراس کے دیدار کا بیان ہے،روایات کے مطابق مسجد اقصیٰ سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺکو پیاس محسوس ہوئی آپ کے سامنے چارظروف (جام)پیش کئے گئے ایک میں پانی دوسرے میں دودھ،تیسرے میں شہد اور چوتھے میں شراب تو آپ نے دودھ والے جام کو اٹھالیا تو آپ کے سامنے ایک بزرگ تشریف فرما تھے انہوں نے جبرائیل ؑ سے کہا تمہارے رفیق نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔ اس کے بعدعالم بالا آسمانوں کا سفرشروع ہوا،بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺکا زینہ /سیڑھی کے ذریعے صعود ہوا اوربعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ کو بذریعہ براق معراج ہوئی، صحیح ہی ہے کہ آپ ﷺ براق پرسوار تھے اورسیڑھی کے ذریعے آسمان پر چڑھے اوربعض روایات میں ہر آسمان کے لئے حتی کہ عرش اورکرسی کے لئے بھی سیڑھی استعمال ہوئی یعنی کل نو سیڑھیاں تھیں اورہر جگہ آپ کے استقبال کے لئے فرشتے موجود تھے،لغت عرب میں معراج سیڑھی کو کہتے ہیں ایک نوارنی سیڑھی جسکی حقیقت کو اللہ تعالیٰ اوراس کے محبوب رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں حضور نبی کریم ﷺکیلئے اس سفر میں زمین اورآسمان کے درمیان نصب کی گئی جس کی وجہ سے اس سارے سفر کانام معراج ہوگیا۔ آپ ﷺ حضرت جبرائیل ؑ کے ہمراہ اول آسمان دنیا تک پہنچے،حضرت جبرائیل ؑ نے آسمان کے دروازے پر دستک دی پوچھا گیا کو ن؟ کہا جبرائیل ؑ ہوں۔ پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟کہامحمد ﷺ، پوچھا گیا کہ ان کے پاس پیام الٰہی بھیجا گیا جبرائیل ؑ نے کہا جی ہاں، دروازے پر مامو ر فرشتوں نے یہ سن کر کہا خوش آمدید مرحبا،آپ بہت اچھی آمد سے آئے، دروازہ کھول دیا،فرشتوں نے استقبال کی ا،وہاں حضرت آدم ؑ سے ملاقات ہوئی آپ ﷺ نے انہیں سلام پیش کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا اورکہا مرحبا فرزند صالح اورنبی صالح کو مبارک ہو،حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم ؑ کی دائیں جانب بہت سی صورتیں نظرآتی ہیں جنہیں وہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اوربائیں طرف بھی بہت سی صورتیں نظرآتی ہیں جنہیں دیکھ کر مغموم ہوتے ہیں،اس کے بعد دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی دروازے پر مامور فرشتوں سے سوال جواب ہوئے۔




