
اسوقت یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان نیوکلیئرپاورہونے کے باوجود امریکااور کچھ عربوں کے ہاتھوں یرغمال بناہوا ہے،وغیرہ وغیرہ،چنانچہ یہاں ہم پہلو درپہلوجائزہ لیتے ہیں کہ مسئلہ کیا ہے؟؟ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے معاشی، عسکری یا سفارتی چیلنجز درپیش ہیں، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ وہ فکری و نظریاتی سطح پر اپنی بنیاد سے کٹ چکا ہے۔ جس دو قومی نظریے پر یہ ریاست قائم ہوئی، اسی نظریے کو عوامی سطح پر شعوری تربیت، فکری تسلسل اور عملی صورت کبھی میسر نہ آ سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوم نظریے کے بجائے شخصیات کے گرد منقسم ہو گئی، اور سیاست اصولوں کے بجائے وفاداریوں کا کھیل بن کر رہ گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد اگر کوئی مسلسل روایت نظر آتی ہے تو وہ شخصیات پرستی کی ہے۔ ہر دور میں ایک نیا“مسیحا”تراشا گیا، ہر اقتدار نے خود کو واحد نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کی، اور ہر اختلاف کو غداری یا انتشار سے تعبیر کیا گیا۔ اس طرزِ فکر نے قوم کو سیاسی طور پر اس قدر تقسیم کیا کہ ریاست بظاہر تو قائم رہی، مگر اندر سے کمزور اور غیر یقینی کا شکار ہو گئی۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو اجتماعی مقصد کے بجائے ذاتی، گروہی اور اقتداری مفادات کے لیے استعمال کیا۔ دو قومی نظریہ محض نصابی کتابوں یا تقریروں تک محدود ہو گیا، جبکہ عملی سیاست میں لسانی، فرقہ وارانہ اور علاقائی تقسیم کو دانستہ طور پر ہوا دی جاتی رہی۔ داخلی پالیسیز کا محور قوم سازی کے بجائے“اٹھانے اور دبانے”کی حکمت عملی بنی، اور خارجی پالیسی وقتی ضرورتوں اور خواہشات کی آئینہ دار رہی۔
روس کے افغانستان میں داخلے سے لے کر نائن الیون اور اس کے بعد ملک کے اندر کیے گئے متعدد آپریشنز تک، ہر مرحلے پر سوال یہی اٹھتا ہے کہ کہاں دوراندیشی تھی، کہاں قومی اتفاقِ رائے تھا، اور کہاں ایک واضح نظریاتی سمت؟ کبھی کسی ڈاکٹرائن کا چرچا ہوتا رہا اور کبھی کسی فردِ واحد کو ریاست سے بڑا بنا کر پیش کیا گیا، مگر آج جب ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو سوال یہی ہے: ہم کھڑے کہاں ہیں؟
آج پاکستان ایک بے سمت وجود کی تصویر پیش کرتا ہے۔ایک ایسے“بے پیندے لوٹے”کی مانند جو کبھی اِدھر لڑھکتا ہے، کبھی اُدھر۔ مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی صورتحال اور ہمارے ہمسایوں تک پھیلتی جنگی آگ نے ہماری خود ساختہ ناقابلِ تسخیر ہونے کی خوش فہمی کو چکناچور کر دیا ہے۔ خاص طور پر ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے تناظر میں پاکستان کی کیفیت یہ ہے کہ ہم واضح مؤقف اختیار کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ اگر کھل کر مذمت کریں تو عرب دنیا ناراض ہونے کا اندیشہ، جن سے تیل بھی آتا ہے اور قرض بھی؛ اور اگر خاموش یا مبہم رہیں تو ضمیر سوال کرتا ہے کہ جن سرزمینوں سے حملے ہو رہے ہیں، ان پر ہماری زبان کیوں گنگ ہے؟
یہ ابہام صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں۔ داخلی سطح پر بھی ریاستی بیانات میں تضاد ہے۔کہیں صدر کچھ کہہ رہے ہیں، کہیں نائب وزیراعظم کچھ اور۔ قوم کو یہ تک معلوم نہیں کہ ریاستی سطح پر اصل مؤقف کیا ہے اور ہم عالمی بساط پر کس خانے میں کھڑے ہیں۔
اس نظریاتی کھوکھلے پن کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمارا“قومی بیانیہ”سوشل میڈیا کے کرائے کے شور تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ چند پوسٹس، چند ٹرینڈز، اور سمجھا جاتا ہے کہ قوم تیار ہو گئی۔ حالانکہ قومی بیانیے کڑی کے ابال کی طرح نہیں بنتے؛ وہ صدیوں کی فکری تربیت، قربانی اور تسلسل سے تشکیل پاتے ہیں۔ اسی لیے جب ایران پر حملہ ہوتا ہے تو وہاں قوم نظرئیے سے پیچھے نہیں ہٹتی،کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی شناخت، ان کی قومیت اور ان کا نظریہ کیا ہے۔؟؟؟ہم مگر خود فریبی میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہیں، ہم پرسکون ہیں، سب قابو میں ہے۔ اور پھر ایک آدھ واقعہ، جیسا کہ اسلام آباد میں مسجد پر حملہ، پوری ریاستی نیندیں حرام کر دیتا ہے۔ دشمن کو کسی بڑی جنگ کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ ہمارے اندرونی خلا اور نظریاتی کمزوری سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔
اس تمام صورتحال کا واحد حل خود احتسابی ہے۔سطحی نعروں اور وقتی حکمتِ عملیوں کے بجائے سنجیدہ گریبان جھانکنے کی ضرورت ہے۔“ڈنگ ٹپاؤ”پالیسی ترک کیے بغیر، زمینی حقائق کو سمجھے بغیر، اور ایک واضح قومی نظریے کی طرف واپس آئے بغیر کوئی دیرپا اور مؤثر حکمتِ عملی ممکن نہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ یا تو ہم اسی کھوکھلے پن کے ساتھ وقت گزارتے رہیں، یا پھر واقعی ایک قوم، ایک نظریہ اور ایک وطن کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی طرف قدم بڑھائیں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، نظریے سے زندہ رہتی ہیں۔
ہم ایک طرف گروہی، لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی دانستہ یا نادانستہ آبیاری کرتے ہیں، اور دوسری طرف یہ خوش فہمی پال لیتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک باوقار، بااصول اور سنجیدہ قوم سمجھے جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا وقار نعروں، جذباتی تقریروں یا سوشل میڈیا کے شور سے نہیں بنتا بلکہ داخلی ہم آہنگی، واضح اصولی مؤقف اور فکری استقامت سے جنم لیتا ہے۔
جب ریاستی اور سماجی سطح پر مختلف شناختوں کو قومی شناخت پر فوقیت دی جاتی ہے، کبھی لسانی کارڈ کھیلا جاتا ہے، کبھی فرقہ واریت کو سیاسی ایندھن بنایا جاتا ہے اور کبھی علاقائی محرومیوں کو اقتدار کی سیڑھی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ قوم اندر سے بکھر جاتی ہے۔ ایسی بکھری ہوئی قوم سے دنیا وقار کی نہیں بلکہ غیر یقینی، کمزوری اور تضاد کی تصویر اخذ کرتی ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اس تقسیم کو مسئلہ ماننے کے بجائے اسے معمول سمجھنے لگے ہیں۔ ہمیں یہ گمان ہو چکا ہے کہ اختلافِ شناخت کے ساتھ بھی مضبوط ریاست قائم رکھی جا سکتی ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب نظریہ کمزور پڑ جائے تو ریاست کا جسم تو باقی رہتا ہے مگر اس کی روح دم توڑ دیتی ہے۔ اسی لیے ہماری خارجہ پالیسی میں وزن نہیں، ہماری بات میں ٹھہراؤ نہیں اور ہمارے مؤقف میں تسلسل نہیں نظر آتا۔
وقار کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا ہمیں ڈر یا مجبوری سے برداشت کرے، بلکہ وقار یہ ہے کہ دنیا جانتی ہو کہ یہ قوم اپنے اصولوں پر کھڑی ہے، اپنے اندر انتشار کو برداشت نہیں کرتی اور اپنے فیصلے وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کی بنیاد پر کرتی ہے۔ جب تک ہم تعصب کو پالنے اور وقار کے دعوے کرنے کے اس تضاد کو ختم نہیں کرتے، تب تک ہماری عالمی حیثیت ایک سنجیدہ ریاست کے بجائے ایک الجھی ہوئی اور غیر واضح وجود کی ہی رہے گی۔یہ سچ کڑوا ضرور ہے، مگر اسی کڑوے سچ کو تسلیم کیے بغیر کسی فکری اصلاح، قومی وحدت یا باوقار مستقبل کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




