
والدین کے لیے نیک اولاد اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جو دنیا میں راحت و سکون اور آخرت میں جنت کا سبب بنتی ہے۔ یہ وہ اولاد ہے جو اللّٰہ کے حکم پر عمل کرے۔ والدین کی خدمت کرے انہیں دعائیں دے اور صدقہ جاریہ کا ذریعہ بنے۔ جس کے لیے والدین بھی ذمہ دار ہیں۔ وہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں۔ انہیں دین پر چلائیں تاکہ وہ دنیا میں اچھے انسان بن کر زندگی گزاریں اور آخرت میں والدین کے لیے نجات اور بخشش کا ذریعہ بنیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جن اعمال سے مومن کی موت کے بعد اس کا ثواب ملتا رہتا ہے وہ ہے۔ علم سیکھا اور سکھایا۔ نیک اولاد جسے دنیا میں چھوڑا۔ یا مسجد بنائی یا مسافر خانہ تعمیر کروایا۔ یا نہر جاری کروائی۔ یا اپنی زندگی میں قرآن کریم کا نسخہ جو اس نے ترکہ میں چھوڑا۔ اپنی زندگی میں جو اپنے مال سے نکالا صدقہ۔ ان سب اعمال کا بدلہ مومن کی موت کے بعد ثواب ملتا رہے گا۔ نیک اولاد اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس لیے انبیاء کرام علیہم السلام کثرت سے نیک اولاد ملنے کی خواہش اور دعائیں مانگا کرتے تھے۔۔ یہی نیک اولاد مومنین کے لیے صدقہ جاریہ بنتی ہے۔ مرنے کے بعد بھی نیک اولاد کے سبب نیک اعمال کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا بلکہ جاری وساری رہتا ہے۔ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان جب دارالعمل سے دارالجزا کی طرف روانہ ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ لیکن تین چیزیں باقی رہتی ہیں۔ ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے فائیدہ حاصل ہو تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔لہذا والدین کو اجر و ثواب پہنچانے کے لیے یہ عمل کیے جا سکتے ہیں۔ نفلی عبادت روزہ رکھ کر حج وعمرہ کر کے قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس کا ثواب ان کے لیے بخشش کرنا چاہیے۔ والدین کی طرف سے غرباء اور مساکین کو کھانا کھلایا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔ غریب مجبور لاچار یتیموں کی کفالت اور مدد کی جائے۔ نیک اولاد اپنے مرحوم والدین کے لیے ثواب پہنچانے کی دعا مانگتے ہیں۔ والدین کی قبروں پر جاتے صفائی ستھرائی کرتے ہیں دعاء مغفرت کرتے ہیں۔ اپنے والدین کے نام پر مسجدیں اور رفاہی پراجیکٹ لگاتے ہیں۔ جیسے راقم کے گاؤں میں میرے ایک دوست نے اپنی والدہ محترمہ کی قل کی دعا پر دیگر بھائیوں اور ورثاء کو کہا آپ اپنے طور پر جس طرح جی چاہے دعا کریں لنگر کا اہتمام کریں۔ میں آپنی والدہ محترمہ کے ایصال ثواب کے لیے یہ جو سڑک کا ٹکڑا جس پر لک نہیں ڈالی گئی ہے اس پر پی سی سی فرش ڈال رہا ہوں۔ اس کے علاؤہ اسی دوست نے اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیے جامع مسجد تعمیر کروائی ہے جس کا آئیندہ ماہ افتتاح کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور میں جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں انہیں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی میں خدمت اور ان کی دیکھ بھال یا ان کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے انہیں اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جب ان کا انتقال ہو جائے آج کل عام طور پر ہمارے معاشرے میں نام بڑھانے اور دکھاوے کے لیے بڑی بڑی دعوتیں اور کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ عموماً ایصالِ ثواب کی ان محافل اور تقاریب میں بھی ایک چیز دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب لنگر تقسیم کیا جاتا ہے اس میں امیر غریب کی تفریق کھانے اور بٹھانے یا خدمت خاطر میں نمایاں نظر آتی ہے۔ امیر غریب کا فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ غریب کو کم تر درجے کا انسان سمجھ کر عام درجے کی روٹی دے کر جبکہ عہدے اور رتبے والوں کو بڑی شان و شوکت سے بٹھایا کھلایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ختم شریف اور ایصال ثواب کی محفل لاکھوں روپے خرچ کر کے عام نمائشی تقریب میں بدل جاتی ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اپنے مرحومین اور والدین کے لیے ایسے رفاعی کاموں کو ترجیح دی جائے جو آئیندہ رہنے وقتوں میں صدقہ جاریہ کا سلسلہ جاری وساری رہے۔ یہ ہے نیک اولاد کی نشانی۔ جبکہ دوسری طرف ایک اولاد ایسی بھی ہوتی ہے جو زندگی میں بھی والدین کے لیے ہزیمت مشکل اور برائی کا باعث بنتی ہے۔ والدین کے مرنے کے بعد بھی ان کے لیے گالیوں کا سبب بنتی ہے۔ جس کی مثال جو لوگ کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ کسی کی چوری راستے بند کرنا راستے میں پیشاب کرنا نشہ کرنا کسی کا لین دین ہے وقت اور وعدہ پر نہ دینا۔ ان وجوہات کی بنا پر لوگ گالیاں دیتے برا بھلا کہتے ہیں۔ جو مرے ہوئے والدین کی توہین اور ان کے لیے عذاب کا باعث بنے۔ اللّٰہ ایسی اولاد کو ہدایت دے۔ اور اللّٰہ پاک تمام مسلمان بھائیوں کو نیک صالح پرہیزگار اولاد دے۔ جو والدین کی زندگی میں خدمت گار اور مرنے کے بعد نیک عمل سے والدین کے لیے بخشش کا ذریعہ بنے۔
یہ سوچ کر ماں باپ کی خدمت میں لگا رہتا ہوں۔
اس پیڑ کا سایہ میرے بچوں کو ملے گا۔




