مظفرآباد

مقبول بٹ شہید 42ویں برسی عقید ت واحترام سے منائی گئی‘خراج عقیدت

سری نگر(کے پی آئی) جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی، معروف آزادی پسند رہنما شہید محمد مقبول بٹ کی42ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کشمیری عوام آج محمد مقبول بٹ شہادت کی 42ویں برسی اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ غیر قانونی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھیں گے۔ دنیا بھر کی طرح آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بھی کشمیر فریڈم موومنٹ کے زیراہتمام حریت رہنما، بابائے قوم محمد مقبول بٹ شہید کی برسی انتہائی عقیدت، احترام اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ برسی کی مرکزی تقریب محکمہ اوقاف کے ہال میں منعقد ہوئی جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد، طلبہ، وکلاء اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعت رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ شرکاء نے شہید کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی اور ان کے مشن سے تجدیدِ عہد کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر فریڈم موومنٹ کے مرکزی نائب صدر نذیر احمد درانی نے کہا کہ محمد مقبول بٹ شہید نے اپنی پوری زندگی تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ شہید نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے نظریے اور موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور کشمیری عوام ان کے مشن کو ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ مقبول بٹ شہید محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 فروری 1984ء کو انہیں تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دے کر بھارتی حکومت نے یہ سمجھا کہ شاید تحریکِ آزادی کی آواز دب جائے گی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ شہداء کا خون تحریکوں کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ شہید کی جدوجہد آج بھی کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ شہید نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت، جرات اور استقامت آج بھی تحریکِ آزادی کی بنیادوں میں شامل ہے۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر محمد مقبول بٹ شہید سمیت تمام شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی، تحریکِ آزادی کی کامیابی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button