اوور سیز کیلئے خصوصی عدالت کا قیام؛ نظام عدل پر حرف نہ آجائے کہیں

15 سے 17 فروری کو آزاد جمو و کشمیر کے دارالحکومت مظفر اباد میں ہونے والا اوورسیز کشمیری کنونشن موجودہ حالات میں انتہائی خوش ائند ہو سکتا ہے بلکہ اس اقدام کے لیے تو کہا جا سکتا ہے کہ”بہت دیر کی مہرباں آتے آتے“ خیر دیر آید درست آید کے مصداق یہ حکومت کا ایک بڑا اور قابل قدر اقدام بن سکتا ہے لیکن شاید منتظمین کی توجہ اس نازک حالات کی طرف نہیں جا سکی جس سے اس وقت آزاد جموں و کشمیر کا خطہ گزر رہا ہے، تعمیر و ترقی کی خواہش اور وہ بھی اپنوں کی سرمایہ کاری سے ایک انتہائی خوش کن بات ہے،لیکن اس کنونشن کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پچھلے تین سالوں سے آزاد کشمیر کے اندر اور انہی بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے تعاون اور مشاورت کہ نتیجے کے طور پر ایک فکری تبدیلی اور بیانیے میں ترامیم کی کاوشیں سامنے آ چکی ہیں ایسے میں بنیادی طور پر آزاد ریاست کو ضرورت اس چیز کی ہے کہ سرمایہ کاری اور تعمیر و ترقی کی فکر سے زیادہ توجہ بیانیہ کی تجدید، قیام اور استحکام پر دی جائے، اس کیلئے ضروری ہی کہ آزاد حکومت اپنے اندر موجود آئینی و قانونی اور اخلاقی خلا پُر کرے، جس کے لئے سب سے پہلے خالی پڑے آئینی عہدوں کو پُر کیا جانا ہی موجودہ نظام اور حکومت کی ساکھ کو بہتر بنا سکتا ہے، محتسب اعلیٰ کے عہدہ پر توٓخر خدا خدا کر کے ایک تقرری ہو گئی مگر احتساب بیورو کے چیئر مین کے تقرر میں مزید تاخیر کر کے حکومت آنے والے سمندر پار کشمیریوں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ پھر چیف الیکشن کمشنر کی آئینی تقرری نہ ہونے کے باعث پوری اسمبلی ہی ایک سوالیہ نشان بنی دکھائی دے رہی ہے، ادھر صدر ریاست کی رحلت کے بعد نئے صدر کا تقرر چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی میں ایک سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے، ایسے میں حکومت بیرون ملک سے کشمیریوں کو بلا کر کیا پیغام دینا چاہتی ہے، اسی دوران بلا سوچے سمجھے ایک علیحدہ عدالت کا قیام چہ معنی دارد، پہلے ہی آپ نئے تھانے اور نیابتیں،تحصیلیں،ضلعے وغیرہ بنا کر جرائم، گورنس اور انصاف کی فراہمی کا حال دیکھ چکے ہیں،یقینا یہ سب باتیں بھی حکومت اور ذمہ داروں کی نگاہ میں ہوں گی، لیکن اس دوران یوں لگتا ہے کہ مقتدر حلقے یا پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی نامزد کردہ اپوزیشن سمیت جذبات کی رومیں بہتے ہوئے کچھ ایسے اضافی آئینی غلطیاں اور عدلیہ کے حوالے سے ایسے فیصلے کرنے جا رہی ہے جو نہ صرف دور رس نتائج کے حامل ہوں گے،بلکہ ہمارے اصل مسئلہ”بیا نیہ کی اصلاح“ کے بجائے فکری انتشار میں خدا نخواستہ اضافے کا باعث نہ بن جائیں، حکومت کی طرف سے اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کا فیصلہ ہمارے سارے حکومتی اور عدالتی نظام پر سوالیہ نشان اٹھانے کے لیے کافی ہوگا، قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال قبل برطانیہ کے ایک معروف و مقبول وزیراعظم کے خلاف صرف اس لیے ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے بچوں کو ٹویشن دلوانے کی غلطی کر ڈالی تھی، ان پر الزام یہ عاید کیا گیا تھا کہ ایک جمہوری ملک اور ”ایجوکیشنل سسٹم“میں جہاں کسی بھی بچے کو کوئی اضافی ٹویٹر رکھنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہونی چاہیے، اس ملک کا وزیراعظم اگر اپنے بچوں کی تعلیمی استعداد میں اضافے کے لیے ٹویٹر مقرر کر ے گا تو کیا یہ برطانیہ کے پورے نظام تعلیم پر انگلی اٹھانے کے مترادف نہیں ہو گا،کیا وزیراعظم کا یہ عمل دنیا بھر میں بہترین مانے جانے والے برطانوی نظام تعلیم پر عدم اعتماد نہیں ہے، پھر احتجاج پھوٹ پڑے اور برطانوی وزیراعظم کو گھر جانا پڑا، ایسی زندہ مثالوں کے ہوتے ہوئے اگر ہماری آزاد حکومت اس کے پاکستان میں بیٹھے سیاسی مشیر اور مقتدر حلقے اس طرح کا کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو کیا یہ آزاد جموں و کشمیر ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے نظام عدل پر عدم اعتماد نہیں ہوگا؟ بالکل ہوگا کیونکہ آزاد جموں و کشمیر کہ چھوٹے سے خطے میں جو پاکستان کی ایک کمشنری کے برابر بھی نہیں ہے اتنا بڑا وسیع نظام عدل موجود ہے جس میں عدالت عالیہ اور عدالت عظمی تک بھی شامل ہیں، جہاں ں بڑے بڑے آئینی اور قانونی مقدمات کے فیصلے ہوتے ہیں، کیا ان کے مقابل ایک علیحدہ عدالت کا قیام ان کی کاکردگی چیلنج کرنے کے مترادف نہیں ہو گا، اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے حل کے لیے چاہیے تو یہ کہ ہم ایک ون ونڈو آپریشنل آفس کا قیام عمل میں لاتے، اس کے بجائے اگرہم پوری ایک عدالت الگ سے بٹھا دیں گے تو کیا یہ ”کشمیر کلچرل اکیڈمی“ کی طرح نظامت ثقافت آزا جموں و کشمیر کے ادارے پر اوورلیپ ہو نے جیسا سسٹم نہیں بن جائے گا؟ اور صرف اتنا ہی نہیں کیا دنیا بھر میں وہ آزادی جو ہم اپنے بھارت کے پنجے میں پھنسے ہوئے کشمیری بھائیوں کے لیے مانگ رہے ہیں کیا دنیا اس کا بھی مذاق نہیں اڑائے گی، کہ کس آزاد کشمیر سے ملانے کی بات کرتے ہو جہاں عدل کا بھی ایک پیمانہ نہیں؟ اور پھر میری نظر میں باوقار اور قابل احترام عدالت عالیہ اور عدالت عظمی بھی حکومت کے اس طرح کے فیصلے پر نہ خوش ہوں گی،نہ خاموش رہیں گی اور اسے پورے نظام عدل پر عدم اعتماد سمجھتے ہوئے ان اقدامات کو رد کر دیں گی جو حکومت جلد بازی میں اٹھانے جا رہی ہے، اس سے قبل بھی آزاد جموں و کشمیر میں سروسز ٹریبیونل کے نام سے ایک سیمی نظام موجود ہے،مگر وہ ایک الگ حدود کے اندر کارفرما ہے، اور عدلیہ کیلئے ممد ومعاون ثابت ہو رہا ہے، اس کی اعلی عدلیہ کے سائے میں ایک مخصوص حدود کے اندر نا انصافیوں کو روکنے کے لیے ایک ضرورت، ایک جواز سمجھا اور مانا گیا ہے اور ثابت ہوا ہے، لیکن اوورسیز کشمیریوں کے معاملات اور مسائل محک مال، انتظامی افسران، ایکسرسائز ٹیکسیشن اور دیگر ہر شعبہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں، ان سب میں مساوات اور انصاف قائم کرنے کے لیے پہلے ہی تحصیل، ضلع اور ڈویژنل سطح ماتحت عدالتوں، مجسٹریٹی سسٹم سمیت اعلی عدلیہ تک موجودہوتی ہے، ان کے نیچے بھی ابتدائی انصاف قائم کرنے کے لیے سسٹم موجود ہیں،ان کی اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر ان پر کوئی متبادل نظام تھونپنا نہ درست ہے نہ کارگر اورنہ فزیبل ہو سکتا ہے، ایسے میں حکومت اور ذمہ دار اداروں سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ بلا سوچے سمجھے کوئی اتنا بڑا فیصلہ کر دیں جسے کل کو سنبھالنا ہی مشکل ہو جائے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت 15 سے 17 فروری تک ہونے والے اس کنونشن سے پہلے خیر سگالی اور بپھرے ہوئے جذبات کو اپنے قابو میں رکھے اور اوورسیز کی رائے سننے کے بعد ماہرین سے، دانشوروں سے مشاورت کرکے کوئی عملی اقدام کرے، ورنہ ایسے کسی قدم سے آزاد ریاست کے اندر پہلے سے پھیلی ہوئی بے چینی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہو گا، جبکہ ہماری نظر میں اس وقت اوورسیز کشمیریوں کو درپیش مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ بکھرے اور انتشار کا شکار بیانیہ کو درست خطوط پر از سر نو تشکیل و ترتیب دینا ہے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ آزاد جموں کشمیر کے اندر ہی موجود انہی اوورسیز کشمیریوں کے پیاروں کو جو درست اور حقیقی شکوے اور شکایات مختلف اداروں سے موجود ہیں، ان کا ازالہ کر کے انہ کے لئے اعتماد اور یقین کی فضا قائم کی جائے، جو اپنے پیاروں کے سامنے حکومت اور نظام کے گن گائیں،جس کا عکس ہمیں بیرون ملک مقیم کشمیریوں پرپڑھتا ہوا دکھائی دے، ورنہ اگر کسی مصنوعی انتظام سے مخصوص اوورسیز کو یہاں بلا کر کچھ ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں، جن پر کل کو باقی ماندہ اوورسیز کو تحفظات ہوں، تو یہ نیکی برباد اور گناہ لازم والی صورت بن جائے گی، اس لیے ہمارا تو یہی مشورہ ہے کہ حکومت آنے والے معزز اور پیارے مہمانوں کی بپتائیں،شکوے اور شکایات سننے کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچے اور اس سے قبل کسی سرمایہ کاری کی کوئی بڑی امید نہ باندھے ورنہ یہ کل کو حکومت اور آزاد جموں و کشمیر کے بوسیدہ اور کمزور نظام پر ایک اور سنگین الزام کا دھبہ لگ جائے گا،آخر میں دعا ہے کہ یا تو ہمارا یہ نقطہ نظر حکومت اور ذمہ داروں کی سمجھ میں آ جائے یا پھر ہمارے یہ سارے اندازے سرے سے ہی غلط ثابت ہوں، وما علینا ل البلاغ المبین۔



