
گڑھی دوپٹہ(نمائندہ محاسب) اس میں شک نہیں کہ ہر شعبہ کے سارے لوگ بد دیانت نہیں ہوتے۔ مگر ان دنوں قومی نوعیت کی پھلدار پودوں کی شجرکاری مہم میں تشہیر کی حد تک کریڈٹ لینے والی حمزہ این جی او کی ایک ٹیم کی کارکردگی سے واضح ہو گیا کہ کتنی غلط بیانی، دھوکہ دہی کا خوبصورتی سے فراڈ کیا جا رہا ہے۔ بشیراعوان امیر جماعت اسلامی جہلم ویلی کی اطلاع اور تحریک پر موضع کھٹپورہ/ کائیاں کے مقامی افراد پر چند دن قبل مقامی سکول میں میٹنگ کروائی گئی۔ جس میں مردوں کے علاوہ کافی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی۔ NGO کی طرف سے بلال قاضی اور فوکل پرسن تنویر نامی شخص نے بریفنگ دی اور طے کیا کہ اس کمیونٹی کے لیے دو ہزار پھلدار اور دو ہزار غیر پھلدار پودے پہنچا کر دئیے جائیں گے۔ 13 فروری کو این جی او کی گاڑی بغیر پیشگی اطلاع کے بروز جمعۃ المبارک نماز جمعہ کے قریب ایسے وقت میں پودے لے کر آئی جب تقریبا مرد حضرات نماز کے لیے جا چکے تھے۔ پودے لے کر آنے والوں سے جن دو تین مقامی افراد کی ملاقات ہوئی انھوں نے بتایا کہ ان کا رویہ گستاخانہ تھا۔ اکثر لوگوں کو یہ کہہ کر انکار کروایا کہ ہم اکٹھے گڑھوں والی جگہ پودے دیں گے۔ انہیں شریف اعوان ڈائریکٹر تعلیم (ر) اور بشیر اعوان ہیڈ ماسٹر (ر) کی زمین میں لایا گیا۔ جہاں ہدایت کے مطابق تین پلاٹوں میں 120 گڑھے تیار شدہ، کا معائنہ کروایا گیا۔ جہاں ایک پلاٹ میں 66 گڑھے ایک میں 42 اور تیسرے میں 16 گڑھے تھے اور اب بھی ہیں۔ پانی کا سورس معائنہ کروایا گیا انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیو وغیرہ بھی بنائی۔ مگر صرف 45 پودے دے کر گاڑی لے کر بھاگ گئے۔ موقع پر صرف ایک فرد موجود تھا۔ یہ ان کی دو عملی اور غلط بیانی کا ثبوت ہے ان گڑھوں کے لیے گندم اور چارے کی فصل تباہ کر کے تیاری کی گئی۔ اور NGO کا ان دنوں کوئی رابطہ اطلاع نہیں۔ابتدائی تحریک کے حوالے سے متعلقہ کمیونٹی کا جائزہ اجلاس ہوا۔ عوام کا شدید رد عمل ہے کہ کس طرح قومی سطح کے منصوبے کے نام پر دھوکہ کیا جا رہا ہے۔ مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے جائزہ اجلاس میں شرکت کی۔ جس میں باقیوں کے علاوہ محمد شریف اعوان ناظم اعلی تعلیم (ر) خاتون ممبر ضلع کونسل کوثر بتول، سید مشتاق حسین اور کمیٹی کے سیکرٹری ذاکر اعوان نے بھی شرکت کی۔ فیصلہ کیا گیا کہ اس پر خاموش رہنے کی بجائے جناب وزیراعظم، جناب وزیر زراعت اور متعلقہ چیئرمین حمزہ این جی او سے فوری تحقیقات کی اپیل کی جائے۔ تاکہ اس سلسلے میں اس کمیونٹی کے ساتھ کیا گ وعدے پورا کیے جائیں۔ طے پایا کہ اس کا پیچھا کیا جائے گا۔ فراڈ کرنے والوں نے ایسے وقت کا انتخاب کیا جس میں لوگ موقع پر موجود نہیں تھے۔ ورنہ وہ بھی ساری زندگی دو نمبری نہ کرتے۔ انصاف نہ ملنے کی صورت میں مزید لائع عمل طے کیا جائے گا۔ عوام کے نام پر پودوں کی تقسیم کے نام پر لاکھوں پودے فروخت کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ محکمہ زراعت کے ذمہ داران سے اپیل ہے کہ حمزہ این? جی? او کی کارگردگی رپورٹس کا موقع پر جا کر موازنہ کیا جائے۔ ویسے ہی سب اچھا نہیں ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی ایک دینی اور خدمت خلق کا عمدہ ریکارڈ رکھنے والی جماعت سے منسلک این? جی? او کی کارگردگی پر کارروائی ہونی چاہیے جو جماعت کی بدنامی کا ذریعہ بن رہی ہے۔


