دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت؟ بال کٹائی کے من مانے نرخ

مظفرآباد(خبر نگار خصوصی)باربر ایسوسی ایشن کی جانب سے مختلف اخبارات میں دئیے گئے بیانات کو اگرچہ خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ شہر بھر میں بال کٹائی اور شیو کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں جبکہ سرکار کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامہ عملاً ردی کی ٹوکری کی نذر ہو چکا ہے۔شہری علاقوں، گلی کوچوں، لاری اڈوں اور بازاروں میں قائم دکانوں پر سادہ بال کٹائی کم از کم 300 روپے وصول کی جا رہی ہے، جبکہ جدید اسٹائل یا ڈیزائن کے نام پر 500 سے 800 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ چہرہ صفائی (فیشل/رگڑائی) کی مد میں 1500 سے 2000 روپے تک لیے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف“پیکیجز”اور اضافی خدمات کے نام پر الگ سے وصولیاں معمول بن چکی ہیں۔سول سوسائٹی اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے، دوسری طرف بچوں کی سادہ بال کٹائی بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب حکومت نے نرخ مقرر کر رکھے ہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کروایا جا رہا؟شہر کے مختلف علاقوں میں قائم کئی دکانوں پر صفائی ستھرائی کی صورتحال بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ گندے تولیے، آلودہ استرے، ناقص اور بار بار استعمال ہونے والے بلیڈ، غیر معیاری شیونگ کریمیں اور لوشن کے استعمال سے جلدی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ ایسے حالات ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض دکانوں پر آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں، جبکہ تولیوں کو کئی کئی گاہکوں پر بغیر دھوئے استعمال کیا جا رہا ہے، جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔سول سوسائٹی اور شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے کوئی مؤثر چیکنگ نہیں کی جا رہی۔ نہ تو نرخ نامے آویزاں کرائے جا رہے ہیں اور نہ ہی صفائی کے معیارات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا باربر ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے درمیان کوئی مفاہمت تو نہیں جس کے باعث آنکھیں بند کر لی گئی ہیں؟سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شہر بھر میں انسپکشن مہم چلائی جائے، سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کروائے جائیں، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور دکانوں کی عارضی بندش جیسے اقدامات کیے جائیں۔باربر برادری کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ دکانوں کے کرایے، بجلی کے بل، یوٹیلیٹی اخراجات اور مہنگے امپورٹڈ پروڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث نرخ بڑھانا مجبوری بن چکا ہے۔ ان کے مطابق جدید اسٹائلنگ، مشینری اور برانڈڈ مصنوعات کے استعمال کی وجہ سے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں




