مظفرآباد

کشمیری حریت پسندوں کا لہورائیگاں نہیں جائے گا‘سردارعتیق

مظفرآباد(محاسب نیوز) صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بیس کیمپ کے دارالحکومت سے واضح اور دوٹوک موقف سے اس پار کے کشمیریوں کے حوصلہ بلند ہوں گے، مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کامیابی سے ہمکنار ہو گی،کشمیری شہدائ اور حریت پسندوں کا لہورائیگاں نہیں جائے گا، کشمیر اور پاکستان کا تعلق اٹوٹ انگ ہے، مسلم کانفرنس نے 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کو قرارداد الحاق پاکستان کی صورت میں شروع کیا تھا، جس دن پاکستانی قیادت اور پاکستانی عوام اور قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا، جس کو بے پناہ تقویت مل گئی تھی جس مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بلند کر کے اس کو مزید آگے بڑھایا، یہ مسلم کانفرنس اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کا سیاسی نعرہ نہیں ہے یہ ہمارے سیاسی عقیدت اور ایمان کا حصہ ہے،جموں و کشمیراور پاکستان کی یکجہتی تاریخی، جغرافیائی،تاریخی،معاشی اور تہذیب و تمدن کی ہے، یہ یکجہتی بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق دوطرفہ ہے، 1990ئ کی دہائی سے اہل پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ یہ دن جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آپریشن سندھور کے ناکامی اور پاکستان کے معرکہ حق بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اورہندوستان کے بیانیہ کے پِٹ جانے کے بعد 2026 کی یوم یکجہتی کشمیر اہمیت بڑھ گئی ہے، جس میں پاکستانی قوم نے پہلے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس حوالے سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت آزادکشمیر کو پاکستان سے ملانے والے تمام راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنا کر اجتماعات میں تمام طبقات کی شرکت سے پوری دنیا کو بالعموم اور ہندوستان کو بالخصوص یہ پیغام ہے کہ یہ یکجہتی لازوال ہے، اَن مِٹ ہے، اور دشمن کا کوئی بھی حربہ اہل پاکستان اور اہل کشمیر کی یکجہتی میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا،اور نہ ہی اس کو کمزور کر سکتا ہے، اوریہ یکجہتی اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک ساری ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر آزاد ہو کر اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں ہو جاتا۔

Related Articles

Back to top button