مظفرآباد

غزہ میں فوری جنگ بندی بورڈ آف پیس کی ساکھ کا امتحان ہے‘مسعود خان

اسلام آباد (محاسب نیوز) آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے بغیر کسی بھی امن اقدام کی ساکھ مشکوک رہے گی۔ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تازہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلسل اسرائیلی حملوں اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود تقریباً 600 فلسطینی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جاں بحق ہو چکے ہیں، جو امن کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بورڈ آف پیس کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کی نگرانی کا شفاف، مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق یہ امر واضح ہونا چاہیے کہ نگرانی کا طریقہ کار بورڈ آف پیس کے دائرہ کار میں ہوگا، کسی متوازی نظام کے تحت یا اقوام متحدہ کے تعاون سے تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بورڈ آف پیس کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی تھی، لہٰذا کسی بھی پائیدار نظام کو اقوام متحدہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرنا چاہیے، نہ کہ اس کا متبادل بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ متوازی ڈھانچوں کی تشکیل سے اقوام متحدہ کی اتھارٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں میں امریکی نگرانی میں نئے نظام کے قیام کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دیرپا امن کے لیے کثیرالجہتی قانونی جواز بنیادی اہمیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کسی قابض طاقت کی جانب سے دی جانے والی رعایت نہیں بلکہ زیرِ قبضہ آبادی کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔ انہوں نے بغیر کسی پیشگی شرط کے فوری انسانی راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز دی کہ ان کی نگرانی غیر جانبدار بین الاقوامی اداروں کے سپرد کی جائے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق ماضی کے انتظامات بھوک سے نڈھال شہریوں کو خوراک کے حصول کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات سے نہ بچا سکے۔ انہوں نے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ اجتماعی سزا اور جبری محرومی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ناقابل قبول ہیں۔ سیاسی تناظر پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اگرچہ بورڈ کی بنیادی دستاویزات میں تنازع کے حل، حق خودارادیت اور دو ریاستی حل کا ذکر موجود ہے، تاہم فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح وقت کیساتھ روڈ میپ کا فقدان تشویش کا باعث ہے۔

Related Articles

Back to top button