
وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فیصل ممتازراٹھور کی خصوصی ہدایات پربھارت کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر26 جنوری 2026 کوصبح 1030بجے ڈی سی آفس بھمبر سے چلڈرن پارک چوک کی طرف ریلی کا انعقاد ہو گاڈپٹی کمشنر چوہدری حق نواز نے جملہ مکاتب فکرسے افراد کو شرکت کی دعوت عام دی ہے۔بلدیاتی نمائندوں وکلا صحافیوں سول سوسائٹی تاجروں سمیت تمام کمیونٹی کو دعوت دی گئی ہے۔افسرمال قیصرمحممود شمس ہیڈکوارٹرسطح پرفوکل پرسن ہوں گے۔
اس دن کی تاریخ سے بھی قارئین کو آگاہ کریں گے لیکن آج کی نوجوان نسل تمام سوشل میڈیاصارفین صرف اپنی فیس بک پر ایک جملہ لکھ ڈالیں ”مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم نامنظور”بھارتی نام نہاد یوم جہموریہ مسترد”مقبوضہ کشمیر میں عالمی میڈیا کو رسائی دی جائے”۔ اس سے قبل وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمدشہباز شریف نے کشمیریوں کی سفارتی اخلاقی سمیت ہر محاذ پر مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا،مسئلہ کشمیرحل کرنے کامطالبہ کیا،وہیں بیس کیمپ سے وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ فیصل ممتاز راٹھور نے بھارتی دہشت گردوزیراعظم اور اسکی جعلی کابینہ کو للکار کردو ٹوک پیغام دیا کہ مقبوضہ کشمیر کو آزادکیاجائے،عالمی برداری بھارتی مظالم کانوٹس لے ضلع بھمبر کی تینوں تحصیلوں سماہنی برنالہ اوربھمبر کے حوالے سے ڈپٹی کمشنرچوہدری حق نواز نے ہدایات دیں ہیں کہ اس دن کو بھرپورمنایاجائے۔
۔اب اس دن کیتاریخی پس منظر کودیکھنا ہو گا 26 جنوری کودہشت گرد بھارت جہاں اپنانام نہاد یوم جمہوریہ مناتا ہے، وہیں دنیا بھر کے کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن بھارت کے غیر قانونی قبضے اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج اور حق خودارادیت کے عزم کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ1947 میں تقسیم ہند کے وقت پیدا ہوا جب انڈیانے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ اقوام متحدہ نے اس مسلمہ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے قراردادیں منظور کیں، لیکن بھارت نے ان قراردادوں پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا۔ بھارتی حکومت نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی واضح مثالیں وہاں جاری انسانی حقوق کی پامالیاں اور آزادی کے لیے اٹھنے والی آوازوں کا خونریزی کے ذریعے جواب دینا ہے۔
5 اگست 2019 کشمیریوں کے لیے سیاہ ترین دن جب
بھارتی حکومت آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ یہ اقدام نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ شملہ معاہدے اور بھارتی آئین کی بھی کھلی خلاف ورزی تھا۔ اس کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوجیوں کی تعیناتی اور سخت لاک ڈاؤن کے ذریعے وہاں کے عوام کو قید کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، اور بھارتی مظالم کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔یوم سیاہ کے ذریعے کشمیری عوام بھارت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت کا علمبردار ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ دنیا بھر میں کشمیری اس دن احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں، ریلیاں نکالتے ہیں، اور عالمی برادری کو بھارت کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔
عالمی برادری ان کے حق خودارادیت کے لیے کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا جائز حق دے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا خاتمہ کرے۔
کشمیری عوام کی قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی، اور بھارت کا جھوٹا جمہوری چہرہ بے نقاب ہوتا رہے گا۔ یوم سیاہ ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع دیتا ہے کہ ہم کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ بھارت کے مظالم اور غیر قانونی اقدامات کے باوجود، کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں اور ان کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی۔




