غیرت ہر عورت کی عزت کا نام

عزت، احترام اور مہذب قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے معاشرے میں رہنے والے ہر فرد بالخصوص خواتین کا دل سے احترام کرے۔ یہ ایک وسیع اور جامع تصور ہے جس کی جڑیں انسانی وقار، باہمی ادب اور سماجی ذمہ داری میں پیوست ہیں۔ کسی قوم کی ترقی اور اس کی روحانی بلندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے کی خواتین کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتی ہے۔ کیا وہ انہیں صرف ایک مخصوص دائرے میں عزت دیتی ہے یا پھر ہر مقام پر ان کے انسانی حقوق اور ان کی شرافت کا یکساں احترام کرتی ہے۔ غیرت کے نام پر اکثر ایک محدود اور تنگ نظری کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے جہاں صرف اپنے خاندان کی عورتوں کی عزت کو ہی فوقیت دی جاتی ہے۔ گویا غیرت کا دائرہ صرف اپنے گھر کی دیواروں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا اصل جوہر یہی ہے کہ آپ معاشرے میں بسنے والی ہر خاتون کو اسی نگاہِ احترام سے دیکھیں جس سے آپ اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کو دیکھتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی اصول ہے جو ایک صحت مند، متوازن اور مہذب معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔ ہمارے ہاں معاشرتی نفسیات میں اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مرد کو عورت پر ایک محافظ اور نگران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مذہبِ اسلام میں مرد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، مگر یہ مفہوم محض اختیار اور کنٹرول نہیں ہے۔ اس کی اصل روح تحفظ، نگہبانی اور عدل پر مبنی ہے۔ یہ دراصل ایک امانت ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مرد معاشرے میں عورت کے حقوق کے محافظ بنیں، نہ کہ اس کی آزادیوں کے دشمن اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کی چار دیواری کے اندر بھی اور باہر بھی، ہر عورت کو عزت و احترام کا یکساں حق حاصل ہونا چاہیے۔ جب ہم بازار میں، دفتر میں، تعلیمی ادارے میں یا سڑک پر چلتی ہوئی کسی خاتون کے ساتھ بدتمیزی، ہراسانی یا تحقیر کا رویہ رکھتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنی ہی غیرت کو مجروح کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ غیرت کا تعلق کسی کی ذات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ پورے معاشرے کے اخلاقی دھاگے سے جُڑا ہوا ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں ہر فرد دوسرے کے حقوق کا خود بخود احترام کرتا ہے۔ خواتین کے ساتھ عزت کا معاملہ کرنا کسی احسان یا روایت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک بنیادی انسانی فریضہ ہے۔ جب ہم کسی بھی خاتون کو بغیر کسی تعصب کے، اس کی انفرادیت اور شخصیت کے ساتھ قبول کرتے ہیں، تو ہم درحقیقت ایک ایسی فضاء تعمیر کر رہے ہوتے ہیں جہاں ہر انسان خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کرتا ہے۔ ایسا معاشرہ ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، جہاں خواتین کو بلا خوف و خطر اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا موقع ملے۔ انہیں یہ اعتماد ہو کہ ان کے ساتھ ان کی صنف کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کی قابلیت اور انسانی حیثیت سے سلوک کیا جائے گا۔ غیرت کا یہی مثبت پہلو ہے جو معاشرے کو مضبوط بناتا ہے۔
بدقسمتی سے، غیرت کے نام پر ہمارے ہاں جو رویے عام ہیں، وہ اکثر تشدد، زیادتی اور علیحدگی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ عورت کی عزت صرف اس کے جسم یا اس کی جنسیت سے وابستہ ہے، جبکہ حقیقی عزت تو اس کے وجود، اس کی عقل، اس کے جذبات اور اس کے کردار کا احترام ہے۔ غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر عورت کی انسانی حیثیت کو تسلیم کریں۔ اس کی آزادی، اس کے فیصلوں، اس کی رائے اور اس کے جذبات کا احترام کریں۔ یہ غیرت ہی ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسرے کی بہن، بیٹی یا ماں کو اپنی نگاہ میں وہی مقام دیا جائے جو ہم اپنے گھر کی خواتین کو دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی اجتماعی ذہنیت کی تشکیل ہے جس میں ہمدردی، انصاف اور احترام پایا جاتا ہو۔
مذہبِ اسلام نے عورت کو وہ مقام و مرتبہ دیا ہے جو تاریخ میں کسی اور مذہب یا معاشرے نے نہیں دیا۔ اس نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی، بیٹی کو رحمت قرار دیا، بیوی کو سکھ کا گھر بنایا، اور بہن کے ساتھ حسنِ سلوک کو جنت کی ضمانت بتایا۔ یہ احکامات صرف گھر تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ایک عالمگیر پیغام ہیں جو پوری انسانیت کو مخاطب کرتے ہیں۔ جب ہم کسی غیر عورت کے ساتھ بھی احترام کا معاملہ کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم اسی مذہبی تعلیم پر عمل پیرا ہوتے ہیں جو ہمیں ہر انسان کے وقار کی حفاظت کا حکم دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہو”۔ یہ بہتری صرف مالی یا جسمانی تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ادب، احترام اور نفسیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔ اور یہی رویہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے اپنایا جانا چاہیے۔
غیرت کا لفظ جو کبھی عزت، بہادری اور ذمہ داری کا ثبوت تھا، وہ رفتہ رفتہ ایک محدود اور بعض اوقات پرتشدد تصور میں بدل گیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اس گمشدہ تہذیبی میراث کو پھر سے دریافت کریں، اور غیرت کے اس اصل مفہوم کو زندہ کریں جو پورے معاشرے کے تحفظ اور ترقی کا ضامن ہو۔ دوسری جانب اگر ہم دیگر مذاہب اور ثقافتوں کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہر عقیدے اور مذاہب نے عورت کے احترام پر زور دیا ہے عورت کا احترام محض کسی ایک مذہب یا ثقافت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کے مشترکہ اخلاقی ورثے کا حصہ ہے۔ اسلام نے تو اس احترام کو ایک منظم نظام زندگی کا حصہ بنا دیا، جس میں عورت کے حقوق محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی زندگی میں نافذ العمل ہیں۔ موجودہ دور کے چیلنجز کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور تعلیم و روزگار میں رکاوٹیں مسائل ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف قانون سازی میں نہیں، بلکہ اجتماعی ذہنیت کی تبدیلی میں ہے۔ جب ہم غیرت کے صحیح تصور کو اپنائیں گے، تو یہی تصور ہمارے روزمرہ کے رویوں میں ڈھل جائے گا۔ ہم اپنے بیٹوں کو بچپن سے ہی سکھائیں گے کہ ہر لڑکی ان کی بہن کی مانند ہے۔ ہم اپنی بیٹیوں کو خود اعتمادی دیں گے کہ وہ کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔ ہم اپنے کام کی جگہوں پر، اپنے تعلیمی اداروں میں، اور اپنے سماجی حلقوں میں ایسا ماحول بنائیں گے جہاں خواتین کو مکمل تحفظ اور عزت حاصل ہو۔ آپ جب کسی فرد کو اس کا حق عزت نہیں دینگے تو اس کے نفسیاتی وجود میں زخم لگتے ہیں اور وہ معاشرتی ترقی میں مکمل طور پر حصہ نہیں لے پاتا۔ خواتین کے ساتھ خاص طور پر یہ معاملہ ہے۔ جب ایک معاشرہ خواتین کا احترام کرتا ہے، تو نہ صرف خواتین بلکہ اس معاشرے کے تمام افراد ذہنی طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔ مردوں پر بھی ایک غیر محسوس دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ باہمی احترام پر مبنی تعلقات میں محبت، اعتماد اور تعاون کی فضاء پیدا ہوتی ہے، جو کہ ہر گھر، ہر معاشرے اور پوری قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے آغاز کریں۔ اپنی زبان کو پاکیزہ رکھیں، خواتین کے بارے میں گھٹیا لطیفے سننے یا سنانے سے گریز کریں۔ عوامی مقامات پر خواتین کو ترجیح دیں، ان کے لیے جگہ بنائیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اگر کسی کو ہراساں ہوتے دیکھیں تو خاموش نہ رہیں، بلکہ اس کی مدد کریں۔ اپنے گھروں میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان امتیاز نہ کریں، دونوں کو یکساں مواقع دیں، یکساں محبت دیں۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ لڑکوں کو خواتین کے احترام کی تعلیم دیں، اور لڑکیوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کریں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ خواتین کے مثالی کردار پیش کرے، انہیں صرف ظاہری حسن کی بجائے ان کی قابلیت، ہمت اور کردار کی بنیاد پر نمایاں کرے۔
حکومتی سطح پر بھی ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہئیں جو خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، انہیں تعلیم و روزگار کے مساوی مواقع فراہم کریں، اور ہراسانی کے خلاف سخت قوانین نافذ کریں۔ مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ غیرت کے صحیح اسلامی تصور کو واضح کریں، اور عورت کے احترام کو دین کا لازمی حصہ قرار دیں۔
مختصر یہ کہ غیرت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں وسعت پیدا کریں۔ ہم اپنی نگاہوں میں احترام کا جذبہ پیدا کریں۔ ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ ہماری غیرت کسی ایک گھر، ایک خاندان یا ایک ذات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ پورے معاشرے کی عزت و عصمت کے تحفظ کا نام ہے۔ جب ہم ہر عورت کو وہ مقام دیں گے جو اس کا حق ہے، تب ہی ہم ایک مہذب قوم کہلانے کے مستحق ہوں گے۔ تب ہی ہماری غیرت حقیقی معنوں میں معاشرے کی روشنی بنے گی، جو ہر طرف عزت اور احترام کا نور پھیلائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے اور قوم کو بھی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔




