
آزاد کشمیر کا دلکش ضلع جہلم ویلی، جس کا صدر مقام ہٹیاں بالا ہے، قدرتی حسن، محنتی عوام اور باصلاحیت نوجوانوں کی سرزمین ہے۔ مگر سوال بدستور قائم ہے کیا یہاں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے مسائل واقعی حل ہو چکے ہیں؟اگر سب کچھ درست ہے تو عوامی بے چینی کیوں برقرار ہے؟ اور ڈسٹرکٹ پریس کلب کی عمارت جیسے بنیادی ادارہ جاتی معاملے پر سیاست کیوں جاری ہے؟تعلیم عمارتیں کافی ہیں یا معیار بھی؟وزیر تعلیم سکولز دیوان علی خان چغتائی کا تعلق اسی ضلع جہلم ویلی کی یونین کونسل گوہر آباد سے ہے۔ بلاشبہ چند اسکول اپ گریڈ ہوئے، اساتذہ کی تقرریاں بھی ہوئیں؛ مگر دیہی علاقوں کی حقیقت اب بھی تشویش ناک ہے۔ مثلاً گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شاریاں کی چار دیواری تک مکمل نہ ہو سکی تدریسی سٹاف کی کمی اور کئی تعلیمی اداروں میں سٹاف کی کمی برقرار ہے، سائنس و آئی ٹی لیبز اکثر غیر فعال ہیں، اور حاضری و میرٹ کے نظام پر سوالات موجود ہیں۔تعلیم کا معیار صرف عمارتوں سے نہیں ناپا جاتا؛ اصل پیمانہ نتائج، تحقیق، تخلیقی سوچ اور کردار سازی ہے۔ اگر نظام مضبوط ہوتا تو نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں دربدر نہ ہوتی۔صحت: سہولت میسر یا رسمی کارروائی؟ضلع میں بنیادی مراکز صحت، رورل ہیلتھ سنٹرز اور ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈکوارٹر ہسپتال موجود ہیں، مگر ماہر ڈاکٹروں اور جدید آلات کی کمی اکثر عوام کے لیے اذیت بن جاتی ہے۔ریفر سسٹم کی کمزوریاں، مریضوں سے ناروا رویہ، اور شکایت پر فوری پولیس طلب کرنے جیسے واقعات عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔صحت کا مؤثر نظام وہ ہے جہاں مریض کو بروقت اور باوقار علاج ملے۔ ڈاکٹرز صرف لفظی نہیں، عملی مسیحا بن کر دکھائیں؛ اور سرکاری ہسپتال خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔سیاست اور جواب دہی سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان سمیت دیگر مقامی قیادت سابق وزیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر،سابق چیئر مین معائنہ کمیشن و عملدرآمد صاحبزادہ اشفاق ظفر، جو طویل عرصہ اقتدار میں رہے اور بااثر شخصیت امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر وگلگت بلتستان ڈاکٹر مشتاق احمد خان اگر قیادت مقامی ہو تو بنیادی مسائل جوں کے توں کیوں ہیں؟عوامی نمائندگی صرف انتخاب جیتنے کا نام نہیں؛ یہ ادارہ جاتی مضبوطی، شفاف فنڈنگ اور دیرپا منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے۔صحافت: آئینہ یا مصلحت اگر جہلم ویلی کے قلم کار متحد اور مخلص ہوتے تو ڈسٹرکٹ پریس کلب کی عمارت آج مکمل ہوتی، ترقیاتی فنڈز کا حساب عوام تک پہنچتا اور تعلیم و صحت کے مسائل پر مربوط آواز بلند ہوتی۔صحافت کا منصب طاقتور کا احتساب اور کمزور کی آواز بننا ہے۔ اگر قلم سیاسی وابستگیوں یا ذاتی مفادات کے تابع ہو جائے تو عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ وسائل کی کمی اور دباؤ اپنی جگہ، مگر تاریخ گواہ ہے کہ متحد اور مخلص صحافتی حلقے بڑے سے بڑا مسئلہ حل کروا سکتے ہیں۔پریس کلب: عمارت نہیں، علامت ڈسٹرکٹ پریس کلب محض اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ آزادی? اظہار، صحافتی اتحاد اور جمہوری اقدار کی علامت ہے۔ اس پر سیاست دراصل پورے ضلع کے فکری انتشار کی عکاسی ہے۔نتیجہ: ذمہ داری مشترکہ ہییہ کہنا کہ ضلع کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا سیاست دانوں کو کارکردگی سے جواب دینا ہوگا بیوروکریسی کو شفافیت یقینی بنانا ہوگی قلم کاروں کو غیر جانبداری اور دیانت کے ساتھ اپنا منصبی کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر تمام اسٹیک ہولڈرز خلوص اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں تو 100 نہ سہی، 80 فیصد مسائل ضرور حل ہو سکتے ہیں۔قلم اگر آزاد، متحد اور مخلص ہو تو کسی بھی ضلع کی تقدیر بدل سکتا ہے سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟یہ کہنا کہ سب کچھ ٹھیک ہیقانونی اور زمینی دونوں حوالوں سیاب بھی محلِ نظر ہے۔




