جامع مسجد قبا بائی پاس روڈ باغ خدمت خلق، فلاح انسانیت اور اتحاد امت کا درخشاں مرکز
تحریر۔ محمود راتھر باغ آزاد کشمیر

باغ آزاد کشمیر کی سرزمین پر اگر کسی ادارے نے عبادت کے ساتھ خدمت خلق کو عملی شکل دی ہے تو وہ ہے جامع مسجد قبا بائی پاس روڈ باغ۔ یہ مسجد صرف سجدوں اور عبادات کا مقام نہیں بلکہ دکھی انسانیت کے لیے امید، سہارا اور اخوت کا مرکز بن چکی ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی ہر آواز انسان دوستی، اتحادامت اور فلاحی شعور کی ترجمان ہے۔اسی مرکز سے وابستہ جموں کشمیر یونائیٹڈ ویلفیئر ونگ ضلع باغ نے گزشتہ کئی برسوں میں خدمت خلق کی جو مثالیں قائم کی ہیں وہ قابل تحسین اور قابل تقلید ہیں۔ ماہ رمضان المبارک میں سحری اور افطاری کا وسیع انتظام اس کا نمایاں پہلو ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں مستحقین کے لیے لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں غریب، مساکین، مزدور پیشہ افراد اور بے سہارا لوگ عزت و وقار کے ساتھ بیٹھ کر رزق حلال سے فیض یاب ہوتے ہیں۔یہ خدمت صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ ہسپتال باغ میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ آنے والے غریب تیمارداروں کے لیے بھی سحری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اکثر خاموشی سے تکلیف برداشت کرتا ہے، مگر اس تنظیم نے ان کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے ان تک بھی دست تعاون بڑھایا ہے۔اسی طرح چمن کوٹ، چترہ ٹوپی اور سدھن گلی جیسے علاقوں میں بھی سحری و افطاری کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدمت کا دائرہ شہر تک محدود نہیں بلکہ دور دراز بستیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ مہاجرین کیمپوں سے بیواؤں، معذوروں اور مستحق افراد میں فی کس دس ہزار روپے کے حساب سے بیس لاکھ روپے کی تقسیم ایک بڑی سماجی کاوش ہے، جس سے کئی گھروں میں خوشی اور آسودگی آئی۔جامع مسجد قبا میں قائم علی المرتضیٰ قرآن اکیڈمی دینی تعلیم کے فروغ کا روشن مینار ہے۔ قلیل عرصے میں چھ طلبہ نے حفظ قرآن مکمل کیا جبکہ پچیس بچے مستقل قیام کے ساتھ معیاری انداز میں زیر تعلیم ہیں۔ یہاں نہ صرف حفظ بلکہ اخلاقی تربیت، نظم و ضبط اور دینی شعور کی آبیاری بھی کی جاتی ہے۔ یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط دینی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔تنظیم کے پاس ریسکیو کا ایک منظم نظام بھی موجود ہے۔ تجربہ کار اور تربیت یافتہ افراد کسی بھی ناگہانی صورتحال، حادثے یا قدرتی آفت کے وقت فوری طور پر میدان میں اترتے ہیں۔ یہ جذبہ دراصل حضوراکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی عملی تعبیر ہے، جس میں انسانیت کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔باغ میں شہداء کے ورثا کی کفالت بھی اس فلاحی مشن کا اہم حصہ ہے۔ ماہانہ راشن، مالی وظیفہ، بچوں کی تعلیم، حتیٰ کہ شادی بیاہ کے انتظامات تک تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ غریب خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر، بوسیدہ گھروں کی مرمت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی جیسے اقدامات معاشرتی استحکام کی علامت ہیں۔اسی کے ساتھ عالی شان مساجد کی تعمیر، اصلاحی کمیٹیوں کا قیام، شادی ہالز اور مسافروں کے لیے قیام گاہوں کا انتظام بھی جاری ہے۔ یہ سب اقدامات معاشرے میں نظم، وقار اور دینی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ان تمام خدمات کے پیچھے ایک مخلص اور متحرک قیادت کارفرما ہے۔ صہیب کشمیری جنہیں عوام محبت سے جموں کشمیری بھی کہتے ہیں، بحیثیت ضلعی جنرل سیکرٹری جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ اپنی ٹیم کے ہمراہ خدمت خلق کے اس سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی قیادت میں جموں کشمیر یونائیٹڈ ویلفیئر ونگ ضلع باغ نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔صہیب کشمیری کی شخصیت اخلاص، دیانت اور عوام دوستی کا مجموعہ ہے۔ وہ علماء کرام کا احترام کرنے والے، اختلاف کے بجائے اتحاد کی بات کرنے والے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے والے رہنما ہیں۔ ان کی سوچ حضور اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں اخوت، ہمدردی، عدل اور ایثار سے ہم آہنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پوری ٹیم جذبہ خدمت سے سرشار ہو کر دن رات فلاحی کاموں میں مصروف رہتی ہے۔جامع مسجد قبا میں تراویح کا روح پرور اہتمام بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خوش الحان قاری کی مترنم آواز میں جب قرآن مجید کی تلاوت گونجتی ہے تو سامعین پر سکون اور روحانیت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ مسجد کا ماحول نورایمان سے جگمگا اٹھتا ہے اور لوگ جوق در جوق شرکت کر کے اس بابرکت محفل کا حصہ بنتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مخیر حضرات، تاجر برادری، نوجوان اور صاحب استطاعت افراد اس مشن کا حصہ بنیں۔ غریب، یتیم، بیوہ اور بے سہارا افراد کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ ادارہ آپ کے تعاون سے مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور خدمت کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔بلاشبہ جامع مسجد قبا بائی پاس روڈ باغ اور اس سے وابستہ فلاحی تنظیمیں باغ کے لیے ایک نعمت ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بانٹ رہے ہیں، یہ وہ دست شفقت ہیں جو آنسو پونچھ رہے ہیں، اور یہ وہ پلیٹ فارم ہے جو اتحادامت اور خدمت انسانیت کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ان تمام کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے، اس مشن کو وسعت دے اور ہمیں بھی اس کارخیر میں حصہ دار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




