
ملک کے شہروں کو درپیش بنیادی مسائل میں نکاسی آب اور سیوریج کا بحران سرِفہرست ہے۔ برسوں سے یہ مسئلہ نہ صرف شہری زندگی کو مفلوج کیے ہوئے ہے بلکہ ہر بارش کے بعد ریاستی نظم و نسق کی کمزوریوں کو بھی عیاں کر دیتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی شہر میں اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات سامنے آئیں تو یہ محض مقامی خبر نہیں رہتی بلکہ قومی سطح پر توجہ کی متقاضی پیش رفت بن جاتی ہے۔پنجاب کے ایک اہم زرعی اور تجارتی شہراوکاڑہ میں نکاسی آب کے میگا پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا آغاز اسی سلسلے کی ایک قابلِ ذکر کڑی ہے۔ یہ منصوبہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی سطح پر شہری سہولتوں کی بہتری کو محض وقتی اقدامات تک محدود رکھنے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پی ڈی پی کے تحت شروع ہونے والا یہ منصوبہ اس سوچ کا عملی اظہار ہے کہ بارشی پانی اور سیوریج جیسے مسائل کو نظر انداز کرنا اب مزید ممکن نہیں رہا۔اس منصوبے کا مرکزی نکتہ انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج ٹینک کی تعمیر ہے، جو شہری منصوبہ بندی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بارش کے چند گھنٹے پورے شہر کو مفلوج کر دیتے تھے، بازار بند ہو جاتے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتیں اور شہری اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہو جاتے۔ زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کا یہ نظام نہ صرف بارشی پانی کے فوری نکاس میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں شہری انفراسٹرکچر پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو محض ایک عارضی حل کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع سیوریج سسٹم کے حصے کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے شہر بھر میں نئی سیوریج لائنز بچھانے کا منصوبہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نے آنے والی کئی دہائیوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنی اصل روح کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو یہ آئندہ تیس برس تک شہری آبادی کو سیوریج کے بڑے مسائل سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔قابلِ توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس مقصد کے لیے شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ کار اس بات کی علامت ہے کہ ترقیاتی کاموں میں اب محض اعلانات پر اکتفا نہیں کیا جا رہا بلکہ منظم اور مرحلہ وار عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی میں سیوریج اور نکاسی آب کے متعدد منصوبے یا تو کاغذی کارروائی تک محدود رہے یا پھر ناقص عملدرآمد کے باعث عوام کو مطلوبہ فائدہ نہ دے سکے۔ ایسے میں حالیہ پیش رفت اس امید کو جنم دیتی ہے کہ شاید اب ترجیحات میں حقیقی معنوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ریکارڈ فنڈز کی فراہمی اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری خوبصورتی اور سہولت کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ہدف سمجھا جا رہا ہے۔قومی سطح پر دیکھا جائے تو یہ منصوبہ دیگر شہروں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان سمیت کئی بڑے شہر انہی مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر اس ماڈل کو شفافیت، رفتار اور معیار کے ساتھ مکمل کیا گیا تو یہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ بن سکتا ہے۔ شہری مسائل کا حل صرف سیاسی بیانات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل نگرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد ضروری ہوتا ہے۔بالآخر ترقی اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب عوام کو براہِ راست ریلیف ملے۔ نکاسی آب کا بہتر نظام صرف سڑکوں کو خشک رکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ، تجارت، ماحولیات اور شہری وقار سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر اس میگا پراجیکٹ کے ذریعے شہریوں کو واقعی سہولت میسر آتی ہے تو یہ قومی سطح پر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے اقدامات ہی وہ بنیاد فراہم کرتے ہیں جن پر ایک منظم، باوقار اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر ممکن ہے٭


