کالمز

ٹیچرز کے بچوں کے وظائف کا حق اور ٹیچرز فاؤنڈیشن کا ظالمانہ فیصلہ۔

ٹیچرز کے بچوں کے وظائف کا حق اور ٹیچرز فاؤنڈیشن کا ظالمانہ فیصلہ۔

محمد شریف اعوان ناظم اعلی تعلیم (ر)
قارئین کرام! محکمہ تعلیم راقم کا Parent Department ہے۔ سیانے کہتے ہیں ” جس کا کھائیے اس کا گیت گائیے”. چند دن قبل راقم کو بتایا گیا کہ ٹیچرز فاؤنڈیشن سے ٹیچرز کے بچوں پر پابندی عائد ہے کہ وہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہونے کی صورت ہی میں وظیفہ حاصل کر سکتے ہیں۔ حیرت ہوئی۔ملک بھر میں ملازمین نے اپنی بہتری کے لیے ادارے بنائے ہوئے ہیں۔ جو متعلقہ ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جانے والی رقم پر چلتے ہیں۔ اور اُن کا واحد مقصد اپنے متعلقہ ملازمین کی بہتری کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوتا ہے۔ جس کی بہترین مثال کامیاب ترین فاؤنڈیشن فوجی فاؤنڈیشن ہے۔ جس نے کٹوتی کی رقم کے علاوہ آمدن کے دیگر ذرائع بھی پیدا کئے ہیں۔ اس طرح پولیس فاؤنڈیشن اور دیگر بہت سی فاؤنڈیشنز قائم ہیں۔ ٹیچرز فاؤنڈیشن اسی طرح کا ایک ادارہ ہے جو بدقسمتی سے دیگر ذرائع کی منصوبہ بندی تو نہیں کر سکا۔ الٹا اساتذہ کے بچوں کو ان کی جمع شدہ رقم سے وظیفہ کی معمولی رقم دینے سے بھی قاصر ہے۔ وجوہات کا علم نہیں۔ لیکن یہ غیر قانونی، نا انصافی پر مبنی ظالمانہ شرط سمجھ سے بالا ہے۔ چند ذمہ دار ماہرین تعلیم اور اساتذہ راہنماؤں سے مشورہ کے بعد 15 جنوری کے روزنامہ محاسب میں ایک مشترکہ بیان دیا گیا۔ جس کے بعد راقم کی اساتذہ برادری کی طرف سے مسلسل دباؤ ہے کہ اس ناجائز پابندی کے خلاف مزید لکھ کر کار خیر میں حصہ ڈالیں۔ اس حوالے سے کچھ واقعاتی معلومات قارئین کرام کی نظر کرتا ہوں۔ ایک وقت تھا کہ ملازمین کے اعداد و شمار کے مطابق کل ملازمین کے نصف کے برابر تعداد صرف محکمہ تعلیم کی تھی۔ اساتذہ نے ٹیچرز فاؤنڈیشن کا ادارہ قائم کیا۔ اور طے شدہ شرح کے مطابق ماہوار کٹوتی ہوتی رہی۔ کچھ عرصہ ٹیکسٹ بک بورڈ نہ ہونے کے باعث درسی کتب کی تیاری و طباعت کا کام بھی فاؤنڈیشن کو دیا گیا۔ جو بعد میں ختم ہو گیا۔ اس فاؤنڈیشن کے بارے میں شروع سے ہی یہ تاثر قائم رہا کہ محکمہ اور تنظیموں کی ملی بھگت اور اجارہ داری کے باعث زیادہ بہتری نہیں لائی جا سکی۔ رہا مسئلہ اساتذہ کے بچوں کو وظیفہ کا۔ یہ ہر اعتبار سے اساتذہ کا حق ہے۔ ان کی اپنی جمع شدہ رقم ہے۔ جسے کسی طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ دنیا بھر میں بنیادی انسانی حق تعلیم پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اور نہ ہی ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ آزاد کشمیر میں اساتذہ کے بچوں کے اس وظیفہ کے حق کو سرکاری اداروں میں زیر تعلیم ہونے کی شرط نامعلوم کسی اتھارٹی یا فورم نے یہ پابندی لگائی ہے۔ فاؤنڈیشن کے معاملات کے لیے تنظیمی نمائندوں پر مشتمل بورڈ ہوتا ہے۔ نامعلوم اب بھی ہے یا نہیں۔ فیصلوں کا اختیار اسی بورڈ کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر اساتذہ کے نمائندے اس طرح کے فیصلوں کی تائید میں شامل ہیں تو پھر وہ اساتذہ کی ٹھیک نمائندگی کر رہے ہیں۔ بلکہ انہیں اسمبلی میں ہونا چاہیے۔ تاکہ پوری قوم کی اس طرح کی نمائندگی کر سکیں۔ اگر کسی اور اتھارٹی نے یہ بدترین فیصلہ کیا ہے تو اس کا کسی اور کو یہ اختیار ہی حاصل نہیں۔ اس سے فوراً ختم ہونا چاہیے۔ تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی محرومی اور بے چینی کا ازالہ ہو سکے۔ کیونکہ اساتذہ کو لفظ مطالبہ یا ہڑتال زیب نہیں دیتا۔
تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی پابندی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور عجیب ہے۔ جو جہاں چاہے اپنے وسائل اور سہولتوں کے مطابق اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے۔ اساتذہ کے بھرتی کے معیار کی بہتری کے بعد سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔ اکثریت سے لوگ بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھاتے ہیں۔ مگر بعض وجوہات کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً کسی کے گھر کے قریب ریڈ فاؤنڈیشن یا APS کا سکول ہے تو سہولت اس میں ہے کہ بچوں کو قریب داخل کیا جائے۔ دہشت گردی کے خطرات اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا۔ تو ایسی صورت میں بچوں کو بعض اوقات سرکاری سکولوں میں داخل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود بالفرض یہ مان لیا جائے کہ سرکار کسی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کا معیار ٹھیک نہیں تو کیا قرین انصاف ہے کہ صرف اساتذہ کے بچوں پر یہ شرط عائد کی جائے۔ اجتماعی حق کے حصول تک یہ آواز اٹھتی رہے گی۔ امید ہے جناب وزیراعظم بلکہ عوامی وزیراعظم اس کا بروقت نوٹس لیں گے۔ اس سے پہلے کہ اساتذہ کو اس کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے یا عدالتی کارروائی تک نوبت پہنچے۔
شاید کہ اُتر جائے کسی کے دل میں میری بات۔

Related Articles

Back to top button