کالمزمظفرآباد

ڈی جی آئی ایس پی آر کا جاندار و شاندار پیغام

پروفیسر ریاض اصغر ملوٹی

6جنوری 2025ء ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بڑی یادگار، شاندار اور جاندار پریس کانفرنس کرکے وطن عزیز کے داخلی اور خارجی دشمنوں کو یہ دو ٹوک پیغام دیا کہ کسی خوش فہمی میں نہ رہیں پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں اکیلے آئیں مل کر آئیں اوپر سے آئیں یا نیچے سے آئیں انشاء اللہ تم سب کا شوق پورا کر دیا جائے گا مئی 2025ء میں پاکستان کے خلاف اوپریشن سندور کا زخم ابھی تک بھارت چاٹ رہا ہے اس کے منہ پر کالک اب بھی نمایاں نظر آرہی ہے لگتا ہے بھارت نے 7سے 10مئی 2025ء کی جنگ میں عبرتناک شکست سے سبق نہیں سیکھا پاکستان ک خلاف بذریعہ افغانستان سازشوں میں مصرو ف ہے اس وقت افغانستان دنیا جہاں کے دہشت گروں کی پناہ گاہ بن چکی ہے القاعدہ داعش ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت درجنوں دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں ان کی فوجی تربیت کے مراکز قائم ہیں انہیں جدید ترین اسلحہ افغانستان اور بھارت مہیا کر رہا ہے بھارت مکمل طور پر ایسی دہشت گرد تنظیموں کو سپانسر کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 2026ء میں بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان پر حملہ کریں گے بھارت نے یہ منصوبہ بندی کی ہے کہ پاکستان کی فوجی طاقت کو مغربی اور مشرقی سرحد پر تقسیم کرکے کمزور کیا جائے مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ مل کر محاذ جنگ کھولا جائے اور مشرقی سرحد پر آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر حملہ کیا جائے یہ بھارت کا مکروہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اسلام کے نام پر بننے والا ملک پاکستان ایک معجزہ ہے لاکھوں بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے خون اور قربانیوں سے یہ ملک قائم ہوا اس کی حفاظت اللہ کریں گے پاک فوج بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہے ہمیں اپنی فوج پر فخر ے 25کروڑ عوام کسی بھی آزمائش کئی گھڑی میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی جنگ کی صورت پوری قوم دشمن کا مقابلہ کرے گی پاکستانی قوم کے اندر جذبہ جہاد وہ طاقت ہے جسے دنیا کی کوئی قوت اور طاقت شکست نہیں دے سکتی ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ KPKکا یہ بیان کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں ان کے خلاف اوپریشن نہ کیا جائے تو کیا دہشت گردوں کے پاؤں میں ہم بیٹھ جائیں کے پی کے میں دہشت گردوں کے لئے سازگار ماحول کیوں ہے؟ کیا فتنہ ہندوستان کے سرغنوں دہشت گرد نور ولی کی بیعت کرلیں یا KPKکا وزیر اعلیٰ بنا دیں؟ فتنہ برپا کرنے والوں کے خلاف اللہ کا واضح حکم ہے کہ یہ جہاں ملیں انہیں مارو فوج کا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہم ملک کی سلامتی اور بقاء سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے ہم نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہےKPKمیں دہشت گردوں اور سیاست میں گٹھ جوڑ کیوں ہے؟ دہشت گردووں کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے 2025ء میں دہشت گردی کے خلاف یادگار جنگ کامیابیوں اور قربانیوں کی داستان ہے تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے دہشت گردی اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے دشمن کی جانب سے خطرات موجود ہیں ہم دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں 2025ء میں 27خود کش حملے ہوئے 80فیصد دہشت گردی کے واقعات KPKمیں ہوئے 2025ء میں فوج نے 75ہزار 175فوجی اوپریشن کئے زیادہ اوپریشن KPK میں ہوئے اس کی بنیادی وجہ KPKکی سیاست اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ہے 2025ء میں 2597دہشت گرد اور 1235پاک فوج جوان اور آفیسر شہید ہوئے گزشتہ سال 5397دہشت گردی کے واقعات ہوئے 2021ء میں دوبارہ دہشت گردی نے سر اٹھایا جس کی بنیادی وجہ سابقہ حکومت کی غلط پالیسی تھی گزشتہ سال شام سے دو ہزار 500دہشت گرد بھارت کی اشیر باد سے افغانستان پہنچے بھارت نے پاکستان کے خلاف پراکسی وار شروع کر رکھی ہے قوم کو اچھی طرح سے یاد ہے کہ پاک فوج کی دہشت گردوں سے جھڑپیں ہو رہی تھیں تو افغانستان کے وزیر خارجہ ہمارے دشمن کے پاس دہلی میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت افغانستان میں 20سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں ان کی مکمل پشت پناہی بھارت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ KPKکہہ رہاہے کہ افغانستان ہماری مدد کرے سابق وزیر اعظم نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے مل کر سیاست کی اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی سابق وزیر اعظم با اختیار وزیر اعظم تھا اس نے وقت کے آرمی چیف کو باپ قرار دیا جبکہ قوم کا باپ تو قائد اعظم محمد علی جناح ہے اب اقوام متحدہ اور دنیا کے اکثریت ممالک یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا دوحہ قطر میں جب افغان طالبان سے حتمی مذاکرات اور معاہدہ ہوا تھا اس وقت افغان طالبان کے گروپوں نے یہ تحریری وعدہ اور معاہدہ کیا تھا کہ افغانستان کی سر زمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی مگر اس معاہدے اور وعدے کی دیدہ دلیری سے خلاف ورزی ہو رہی ہے اگر بھارت نے بذریعہ افغانستان سازشوں کا سلسلہ بند نہ کیا اور افغانستان نے پاکستان کے خلاف ایسے ہی اجرتی قاتل کا کردار جاری رکھا تو خطہ ایک خوفناک ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا اور اس کے ذمہ دار بھارت اور افغانستان ہوں گے اس لئے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مداخلت کریں بھارت کو متنبہ کیا جائے تاکہ وہ سازشوں سے باز آجائے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ میں موجودہ حالات اور واقعات کے تناظر میں دشمنوں کو اچھا جاندار اور شاندار دو ٹوک پیغام دیا گیا یہی وقت کی ضرورت تھی دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور پاک فوج کو کمزور کرنے کے خواہشمند کبھی بھی اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button