
پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے مرکزی نائب صدر،ممتاز پارلیمنٹرین ممبر اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری شہید منیر اعوان کی شہادت کو 23برس بیت چکے ہیں۔ 1954ء میں اعوان پٹی کے مقام پر ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولنے والے شہید منیر اعوان 50سال تک مخلوق خدا کی خدمت کا فریضہ ادا کرتے اور وفاؤں کی تاریخ رقم کرتے ہوئے 5جنوری 2003ء کو اعوان پٹی کے مقام پر ٹریفک کے ایک حادثہ میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے اور اپنے پیچھے اولاد سمیت بڑی تعداد میں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔شہید منیر اعوان نے تعلیم کے بعد عملی زندگی کا آغاز بطور معلم کیا۔8سال 8ماہ اور 8دن ملازمت کے بعد پرزور عوامی اصرار پر1975میں ملازمت کو خیر آباد کہہ کر سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا۔ 1983ء کے بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل ہٹیاں دوپٹہ سے ممبر ضلع کونسل منتخب ہوئے اور ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے باقی تمام مقابل امیدواروں کے کل ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کیے۔بلاشبہ وفاداری کسی بھی سیاسی کارکن کے کردار کی معراج ہوتی ہے۔ مرحوم نے 1988ء میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور مرتے دم تک اسی جماعت سے وفاداری نبھائی اور آج مرحوم کی دوسری نسل بھی وفا کے اسی پرچم کوپوری استقامت کے ساتھ تھامے ہوئے ہے۔1990ء میں مرحوم کو پیپلز پارٹی نے آزمائشی بنیادوں پر ٹکٹ جاری کیا تو علی خان چغتائی مرحوم جیسے سیاست کے پہاڑ سے مقابلہ جیت کر اسمبلی میں پہنچ گئے۔سیاسی کارکنان کہتے ہیں کہ اُس الیکشن سے قبل شہید منیر اعوان کے سیاسی مخالفین ان کو طعنے دیا کرتے تھے کہ ایک بکری والا اتنی بڑی شخصیت کا کیا مقابلہ کرے گا؟لیکن ہم لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ عزت،ذلت،زندگی،موت اور رزق تو اللہ پاک کی ذات کا اختیار ہے۔تاریخ ساز الیکشن میں کامیابی پر اُس وقت کی چیئرمین پیپلز پارٹی شہید محترمہ بے نظیر نے مبارک باد دی اور کہا کہ آپ نے آزادکشمیر کے خاقان عباسی کو شکست دی ہے اس لیے آپ کو دو ہار ڈالوں گی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارلیمانی پارٹی میں صرف منیر اعوان شہید کو کہا کہ آپ کا کوئی مطالبہ ہو،جس پر انھوں نے وادی لیپہ کے لیے دو ایمبولینس گاڑیوں کا مطالبہ کیا جو دوسرے دن لیپہ پہنچ گئیں۔بطور رکن اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری شہید منیر اعوان نے اپنا بھرپور پارلیمانی کردار نبھایا۔دارالحکومت مظفرآباد کی الگ اسمبلی نشست کا بل انھوں نے ہی پیش کیا تھا۔علاوہ ازیں 1993ء سے 1996ء تک سوشل ایکشن پروگرام ضلع مظفرآباد کے ممبربھی رہے۔اس دوران اپنے حلقہ انتخاب میں بہت سے ترقیاتی پروگرام شروع کروائے۔
شہید منیر اعوان کو 1996ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے دوبارہ حلقہ چھ سے اپنا امیدوار نامزد کیا لیکن بوجوہ کامیاب نہ ہو سکے۔1996ء میں پیپلز پارٹی کے مشہور تعلیمی پیکج میں بہت سے تعلیمی ادارے اپ گریڈکروائے جب کہ پسماندہ علاقوں میں عوام کو رسل و رسائل کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔2001ء میں ایک بار پھر میدان میں اترے اور حلقہ چھ کی اسمبلی کی سیٹ لینے میں کامیاب ہو گئے۔اسی دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پارلیمانی وفد کے ہمراہ امریکہ،کینیڈا،برطانیہ کا دورہ بھی کیا۔یہ سیاسی سفر ابھی جاری ہی تھا کہ 5جنوری 2003ء کواپنے حلقہ انتخاب میں ایک کارکن کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے گئے ہوئے تھے کہ واپسی پر ٹریفک حادثہ کا شکار ہو گئے۔ گڑھی دوپٹہ کالج گراؤنڈ میں ان کے جنازے پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے کردار کی گواہی دے رہا تھا۔نماز جنازہ میں صدر،وزیراعظم،وزرا،ممبران اسمبلی،بیوروکریٹس،وکلا سمیت ریاست بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی جب کہ ان کی نماز جنازہ دو بار ادا کی گئی تھی۔
شہید منیر اعوان نے بلا شبہ بے داغ سیاسی زندگی گزاری۔ان پر کبھی بھی کرپشن،لوٹ مار،برادری ازم،اقربا پروری کا الزام نہیں لگا۔تمام قبائل بغیر کسی تخصیص کے ان کے پرچم تلے جمع رہے۔غریبوں کے لیے وہ امید کی ایک کرن تھے۔وہ نہ صرف منجھے ہوئے سیاستدان تھے بلکہ اعلیٰ پائے کے قانون دان بھی تھے۔مرحوم نے جدوجہد کو ہمیشہ اپنی زندگی کا لازمہ بنائے رکھا۔جتنا عرصہ جیے تو خود کو خلق خدا کی بھلائی کے لیے وقف کیے رکھا۔یہی وجہ ہے کہ آج 23برس گزر جانے کے باوجود بھی ہر باشعور شخص اور سیاسی کارکن ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرتا ہے۔یقینا دنیا ایک اسٹیج ہے،ہر کوئی آتا ہے اور اپنے حصے کا کردار ادا کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔شہید منیر اعوان نے بھی اپنا کردار بحیثیت والد،انسان،سیاستدان،قانون دان اور بالخصوص بحیثیت سیاسی کارکن خوب خوب نبھایا۔شہید منیر اعوان ان شخصیات میں شامل ہیں کہ جنھوں نے اپنا راستہ خود بنایا۔متوسط گھرانے سے اٹھے اور بلندیوں تک پہنچ گئے۔علاقائی و برادری ازم سے دوری،اصول پسندی،انسانیت سے پیارومحبت نے ان کو ہمیشہ عوام کے دلوں میں گھر کیے رکھا۔حلقہ لیپہ آزادکشمیر کا دور افتادہ اور پسماندہ حلقہ رہا۔ شہید منیر اعوان حقیقت میں ان بے آواز لوگوں کی زبان بنے اور نمائندگی کا حق ادا کیا۔
ٍ شہید منیر اعوان کی تاریخ ساز جدوجہد نے ہمیں بتایاہے کہ اچھا انسان ریاضی کے صفرکی طرح ہوتا ہے، جس کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ پر وہ جس کے ساتھ جڑ جائے اس کی قیمت دس گنا بڑھ جاتی ہے۔23سال پہلے وہ اس دنیا سے چلے گئے مگر ان کا کردار ہمیں بتا گیا کہ موت انسان کو مار سکتی ہے مگر اچھے کردار والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں لوگوں کے دلوں میں اور اچھے الفاظ میں بھی۔شہید منیر اعوان کی سیاسی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ بہترین انسان اپنے عمل سے پہچانا جاتا ہے ورنہ اچھی باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی و کندہ ہوتی ہیں۔غریب لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق نشان دہی کر رہا ہے کہ رشتہ وہی کامیاب رہتا ہے جو دل سے جڑا ہو، ضرورت، مطلب و غرض سے نہیں۔ان کی زندگی سے ہم نے یہ بھی سیکھا کہ جو دوسروں کو عزت دیتا ہے اصل میں وہ خود عزت دار ہوتا ہے کیونکہ انسان دوسروں کو وہی کچھ دیتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے۔شہید منیر اعوان کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز گواہی دے رہے ہیں کہ اچھے انسان کی سب سے پہلی اور سب سے آخری نشانی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی بھی عزت کرتا ہے جن سے اسے کسی قسم کے مفاد کی توقع نہیں ہوتی۔اور بڑا انسان وہ ہے جس کی محفل میں کوئی خود کو چھوٹا نہ سمجھے۔
شہید منیر اعوان نے اپنی زندگی میں اگرچہ کوئی کار،کوٹھی نہیں بنائی جو کہ ہماری سیاست کا لازمہ ہے۔مگر اپنا کردار اور اچھی اولاد ضرور چھوڑی ہے جنھوں نے والدین کے نام کو زندہ رکھا ہوا ہے۔شہید منیر اعوان کے صاحبزادگان میں اظہر منیر اعوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے وکیل ہیں۔مبشر منیر اعوان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔وکالت کے پیشہ کے ساتھ سیاسی و سماجی شخصیت بھی ہیں۔محسن منیر اعوان اور بلاول منیر اعوان بھی ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں۔غرض کہ تمام بھائی اپنے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔دیر آید درست آید کے مصداق اللہ پاک نے 2021ء کے الیکشن میں ایسی راہیں بنائیں کہ شہید منیر اعوان اور پیپلز پارٹی کا اصل جانشین مبشر منیر اعوان ایڈووکیٹ کی شکل میں میدان کارزار میں اترا اورانتہائی کم عمری میں اپنے پہلے ہی الیکشن میں ساڑھے 10ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے سیاسی پنڈتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا۔حالانکہ اس وقت حلقہ میں پیپلز پارٹی کی بہت سی شخصیات جماعت کو خیر آباد کہہ گئی تھیں۔ شہید منیر اعوان کے سیاسی جانشین مبشر منیر اعوان ایڈووکیٹ کو قدرت نے اپنے والد جیسی صلاحیتیوں سے نواز رکھا ہے۔جو اپنے والد محترم کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اپنے حلقہ انتخاب حلقہ4 ہٹیاں دوپٹہ میں اپنی پارٹی کے کارکنان کے ساتھ ساتھ عوام کے ساتھ ان کی غمی،خوشی،دکھ،سکھ سمیت عوامی مسائل کے حل کے لیے متحرک رہتے ہیں۔انھوں نے انتہائی مشکل وقت میں بھی جماعت کو اپنے حلقہ میں کمزور نہ ہونے دیا۔بلا شبہ وہ اس وقت حلقے میں ایک مضبوط امیدوارکے طور پر موجود ہیں۔جو آئندہ الیکشن میں اپ سیٹ کرنے میں پوزیشن میں آچکے ہیں۔ مبشر منیر اعوان نے جس استقامت کے ساتھ اپنی بساط کے مطابق انتہائی نامساعد حالات میں اپنے والد کے علم کو بلند کیے رکھایہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔والد مرحوم کی سیاسی زندگی مبشر منیر اعوان کی شناخت کا ذریعہ ضرور بنی مگر مبشر منیر اعوان نے اس سے بڑھ کر سیاست کے بے رحم میدان میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔سونے پہ سہاگہ کہ آزادکشمیر میں حال ہی میں راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مبشر منیر اعوان ایڈووکیٹ جیسے گراس روٹ لیول کے سیاسی کارکن کو بغیر کسی ڈیل اور بغیر کسی تگ و دو کے معاون خصوصی تعینات کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ وفا کرنے والوں کا مقام اونچا ہے۔بلاشبہ اس فیصلے سے پیپلز پارٹی کا بحیثیت جماعت قد کاٹھ بلند ہوا ہے۔
شہید منیر اعوان حلقہ 6جو وادی لیپہ تک تھا سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ لیکن آج ان کے چاہنے والے جہاں پورے پاکستان و آزادکشمیر میں موجود ہیں وہیں با الخصوص حلقہ 4ہٹیاں دوپٹہ اور حلقہ7لیپہ میں بھی ان کے چاہنے والوں کی تعدادہزاروں میں ہے۔خاص طور پر حلقہ 7کے علاقوں چڑوئی، نوگراں، شاریاں،قاضی آباد،لمنیاں،ریشیاں،لیپہ ویلی، کٹھائی، ریوند،پاہل،درہ بٹنگی،میرابکوٹ ودیگر علاقوں میں ان کے خاموش چاہنے والوں کی موجودگی اور مبشر منیر اعوان کا لوگوں کی خوشی،غمی میں شریک ہونا بتا رہا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں جہاں حلقہ 4میں مضبوط ہیں وہیں جس طرح انھوں نے حلقہ 7میں روابط رکھے ہوئے ہیں وہ بڑا اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ پاک ان کو استقامت عطا فرمائے اور شہید منیر اعوان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔



