
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں مسلم کانفرنس کو سب سے پرانی اور مسلمانان جموں و کشمیر کی واحد نمائندہ جماعت کا اعزاز حاصل ہے۔مسلمانان ہند نے اپنے لیے جب سے الگ مملکت کے حصول کا آغاز کیا تو ریاست کے مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس کروٹ نے جنم لینا شروع کر دیا تھا کہ وہ بھی آزاد حیثیت سے اپنی ریاست کا قیام عمل میں لائیں اور شخصی حکمرانی کے کٹھن دور سے نجات حاصل کرتے ہوئے اپنے دینی اور مذہبی سماجی و معاشرتی اقدار اور نظریہ کو قائم و دائم رکھتے ہوئے آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جدہ جہد کا آغاز کریں۔جیسے قائداعظم کے مدبرانہ اور ولولہ انگیز قیادت جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے آزاد وطن کے لیے مسلم لیگ کے پرچم تلے منظم رہتے ہوئے۔باقاعدہ ایک تحریر کی شکل دے رکھی تھی۔مسلمانان ریاست و جموں و کشمیر نے اسی طرز پر مسلمانان ہند کے ساتھ باقاعدہ ہم آواز ہونے اور ایک تحریک کا آغاز کرنے کے لیے مصمم ارادہ باندھ لیا اور اس آواز کو مؤثر بنانے کے لیے ریاست میں ایک سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کو قائم کیا گیا۔
ریاست و جموں و کشمیر میں سیاسی سطح پر پہلا حادثہ جس نے ڈوگرہ حکمرانوں کے راج سنگھاسن کی چولیں ہلا کر رکھ دیں تھیں وہ 13جولائی 1931ء کا سرینگر سنٹر ل جیل کے سامنے رونما ہونے والا واقعہ ہے۔اس سے تحریک آزادی کی چنگاری پھوٹ چڑھی تھی اس تحریک کو پروان چڑھانے میں جو ریاستی شخصیات سامنے آئیں اُن میں شیخ محمد عبداللہ اور چوہدری غلام عباس تھے۔جنہوں نے اس تحریک کا پرچم تھاما اور ریاست کے مسلمانوں کی آواز بن گئے۔اس درد ناک واقعہ کے بعد ریاست میں مسلمانوں کے شخصی حکمرانوں کے خلاف جذبات کھل کر سامنے آ گئے اور سب سے پہلے جن شخصیات کو پابند سلاسل کیا گیا تھا اُن میں دیگر کے علاوہ اولذکر دونوں قائدین بھی شامل تھے۔کچھ عرصے بعد ان کی رہائی ہوئی تو ان شخصیات کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہوا اور جلد ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلمانان ریاست اپنی سیاسی مذہبی آزادی کے لیے ایک پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنے کے لیے مسلم کانفرنس کو ایک سیاسی تنظیم کے طور پر سامنے لایا جائے۔اور اس جماعت کے ذریعے مسلمانوں کی تحریک کو مزید بڑھایا جائے۔چنانچہ جب اس کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا پہلا اجلاس 16، 17 اکتوبر 1932ء کو سرینگر میں قائم مغلیہ دور کی تاریخی پتھر مسجد میں منعقد ہوا۔جس میں مسلم کانفرنس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس کی اہمیت اغراض و مقاصد اور قوائد و ضوابط کو آخری شکل دی گئی۔اس جماعت کے انعقاد سے ریاست کے مسلمانوں نے اپنے اندر ایک نئی زندگی کو محصوص کیا اور اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کھل کر کرنے لگے اس اجلاس میں شیخ عبداللہ کو پہلا صدر اور چوہدری غلام عباس کو سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا اس کے علاوہ بخشی غلام محمد کو کارکنوں کا سالار اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
مسلم کانفرنس کے قیام کے بعد لیڈران جموں وکشمیر زیادہ متحرک ہو گئے لہٰذا 17دسمبر 1932ء کو ہی مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس جموں میں شیخ محمد عبداللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔وہ اس میں اپنی قراردادوں کے ذریعے ڈوگرہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے گئے اور ان کی توجہ ان کے حل کی جانب مبذول کروائی اور ساتھ 4ماہ کا الٹی میٹم بھی دے دیا گیا۔اس کے بعد اجلاس کے مطالبات منوانے اور مسلم کانفرنس کی مزید تنظیم سازی کے سلسلہ میں پوری ریاست کا دورہ کیا گیا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب الٹی میٹم کی معیاد پوری ہو گئی تو ڈوگرہ حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں ان لیڈران کو گرفتار کر لیا گیا اور 6ماہ تک نظر بند رکھنے کے بعد رہائی ملی تو ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہ ملی۔چوہدری غلام عباس نے مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ہی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جنگ جاری رکھی۔
دسمبر1933ء میں مسلم کانفرنس کا دوسرا اجلاس میرپور میں منعقد ہوا تو اس میں پیش کی گئی قرار دادوں میں اعادہ کیا گیا کہ مطالبات منظور کیے جائیں ورنہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا سول نافرمانی کی تحریک میں بیشتر سیاسی و سماجی شخصیات کو گرفتار کر کے ایک ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا گیا۔اس پر ریاست کے اند رمظاہرے شروع ہو گئے سرینگر میں خانقائے معلی میں بھی زبردست احتجاجی جلسہ ہوا وہاں سے کشمیری لیڈران کو گرفتار کر کے ایک ایک سال کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔ ان تمام کٹھن حالات و واقعات کے باوجود مسلمانوں نے مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے عزم و حوصلے کے ساتھ ڈوگرہ حکومت کے خلاف آواز بلند رکھی اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے اسی جماعت مسلم کانفرنس کے پرچم تلے اپنی تحریک کو جاری رکھا۔تحریک آزادی کشمیر میں مسلم کانفرنس کا کیا کردار رہا ہے اس کے لیے تمام تاریخی واقعات کو ایک کالم یا مضمون میں قلم بند کرنا مشکل ہے۔تاہم یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تحریک آزادی کشمیر یا تحریک تکمیل پاکستان کے لیے مسلم کانفرنس ہی واحد جماعت رہی ہے جس کے پرچم تلے ہمارے اسلاف نے نظریاتی طور پر جماعت کے ساتھ وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے جدو جہد کو جاری رکھا۔وقت کے اتار چڑھاؤ نے جماعت کی راہ میں کانٹے بھی بوئے ہیں لیکن اپنے نظریات اور افطار کے ساتھ مکمل طور پر جڑے رہنے والے لوگوں اب بھی اس جماعت کے ساتھ پرانا تعلق قائم رکھا ہوا ہے۔یہ شخصیات ہی ہوتی ہیں جو اپنے نظریات کا تحفظ کرنے کے لیے جماعتوں کے ساتھ اپنے لگاؤ کو برقرار رکھتی ہیں اور پھر ان کے ساتھ مکمل وابستہ رہتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کو ممکن بناتی ہیں۔
قائداعظم 1944ء میں ریاست کے دورہ پر تشریف لائے تو جموں میں مسلم کانفرنس کے جلسہ سے خطاب کے دوران چوہدری غلام عباس کو مخاطب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا غلام عباس تم اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے تحریک کشمیر کی جدو جہد کو جاری رکھو ہندوستان کے 10کروڑ عوام آپ کی پشت پر ہیں۔مسلم کانفرنس کا سب سے اہم کارنامہ 19جولائی 1947ء کی قرارداد الحاق پاکستان ہے جسے اس جماعت کی مجلس عاملہ نے منظور کیا اور پاکستان کے قیام سے قبل ہی اپنا رشتہ پاکستان سے جوڑ لیا۔جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا یہ نعرہ بن کے رہے گا پاکستان لے کر رہیں گے پاکستان اسی جماعت کے پرچم تلے ریاست بھر میں بلند ہوا۔جموں میں نومبر1947ء کا قتل عام کے پیچھے بھی یہی حقائق چھپے تھے کہ ان مسلمانوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کھل کر کرنا شروع کر دیا تھا۔
کارکنان کا اپنی جماعت کے ساتھ نظریہ اور منشور کے ساتھ منسلک رہنا ہی جماعتوں کے مستقل کامیابی کی زمانت ہوتا ہے اس کی بڑی مثال 1970کا صدارتی الیکشن ہے جس میں مسلم کانفرنس نے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں ریاست کی قد آور شخصیات سردار ابراہیم خان اور کے۔ایچ خورشید کی جماعتیں شامل رہی ہیں۔
بر سبیل تذکرہ ایک دو واقعات یہاں تحریر کرنے کی جسارت کروں گا کہ پاکستان کے قیام سے قبل نوجوانوں کی مسلم کانفرنس کے ساتھ وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی وہ ببانگ دہل اس جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ہماری ریاست کے ایک ادیب اور صحافی محمود ہاشمی نے اپنی ایک کتاب ”کشمیر اداس ہے“جو 57برس پہلے لکھی گئی تھی میں ایک واقعہ کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ جموں کے ایک نوجوان عبدالمجید سلہریا (جو کہ سیکرٹری حکومت اور محتسب آزاد کشمیر بھی رہے ہیں)تازہ تازہ جنگلات کے شعبہ میں اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈوگرہ حکومت میں آفیسر کی حیثیت سے ملازم ہوئے تھے۔یہ اُس دور کی بات ہے جب ڈوگرہ حکومت میں شیخ عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس کا قیام ہو چکا تھا۔جبکہ چوہدری غلام عباس سے شیخ صاحب سے اختلاف کرتے ہوئے 1942ء میں مسلم کانفرنس کی قیادت خود سنبھال لی تھی۔ڈوگرہ حکومت نے نیشنل کانفرنس جماعت کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ممبر شپ فارم تیار کر رکھے تھے۔جنانچہ چند نا موافق حالات کے پیش نظر یہ فارم مجید سلہریا صاحب کو بھی دیا گیا کہ اس کی ممبر شپ حاصل کریں ورنہ اُن کی نوکری خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔سلہریا صاحب نے ممبر شپ فارم دیکھا تو سیخ پا ہو گئے اور کہا کہ میں ہمیشہ مسلم کانفرنس ہی رہا ہوں اور آئندہ بھی ہمیشہ مسلم کانفرنس ہی رہوں گا۔اگر ان لوگوں نے مجھے گرفتار کیا تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ وہ میری لاش کو دریا برد کر دیں گے۔جموں میں میرا کنبہ ان کے ہاتھوں شہید ہو چکا ہے اب اگر اللہ کو یہ منظور ہے تو یہ ہی سہی۔لیکن میں اپنی جان بچانے کے لیے غداری کا یہ کام نہیں کر سکتا۔آپ اندازہ کریں کہ وہ کیا لوگ تھے اور اپنی جماعت کے ساتھ کیسی نظریاتی وابستگی رکھتے تھے۔
ایک اور واقعہ میں اپنے والد مرحوم کے بارے میں لکھنا چاہوں گا والد صاحب کی مرحوم چوہدری غلام عباس سے ان کی زندگی میں طویل رفاقت اور سردار عبدالقیوم خان صاحب سے نیازمندی ساری عمر قائم رہی۔ہمارے گھر میں ایک شام صحن میں بیٹھے شہر کی بڑی معزز سیاسی شخصیت تشریف لائی اور والد صاحب کے ساتھ مسلم کانفرنس کے حالات بارے گفت و شنید کرتے ہیں اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ آپ بھی اب اپہنی وابستگی بارے سوچین تو والد صاحب نے اُنہیں یہ شعر سنا کر خاموش کر دیا۔
”بدلتے ہوئے حالات سے سمجھوتہ تو کر لوں۔۔مگر مجھ میں جو ایک شخص رو پوش ہے وہ مر جائے گا“
مجھے ایک روز مجاہد منزل میں والد صاحب کے ہمراہ سردار عبدالقیوم خان صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا تو میں نے یہ کہنے کی جرأت کر لی کہ مجاہد اول آج کل جماعت پر بُرا وقت آیا ہوا ہے تو مجھے کہنے لگے بچوں جماعت پر بُرا وقت نہیں آیا ہے لوگوں پر بُرا وقت آیا ہوا ہے۔ہماری اس جماعت پر اس سے پہلے بھی ہم نے بڑے بُرے وقت دیکھے ہیں مگر اللہ کے فضل سے ہم ہی سرخرو ہوئے ہیں اب بھی انشاء اللہ اس سے نکل آئیں گے۔
مسلم کانفرنس کے لیے قربانی دینے والوں کی یہ آرزو تھی اللہ کرے کہ یہ آرزو جلد پوری ہو جائے سیاسی پارٹیاں سیاست کی رونق ہوتی ہیں اور جمہوریت کو پروان چڑھاتی ہیں۔
٭٭٭



