کالمز

وقت کا سلطان بیرسٹر سلطان بن گیا رب کائنات کا مہمان

تحریر شوکت جاوید میر،

یہ دنیا مسافر خانہ مہمان بدلتے رہتے ہیں،
قصہ تو وہی فرسودہ ہے عنوان بدلتے رہتے ہیں،
شاہوں کو گدائی ملتی ہے محتاج غنی ہو جاتے ہیں،
قسمت کے دوراہے پر اکثر انسان بچھڑتے رہتے ہیں، یہ پسندیدہ کلام تھا کہ درویش منش سیاستدان علم و ادب کے استعارہ خدا ترس اعلیٰ ظرف انسان صاحب زادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم مغفور کا جس سے میں اپنی قلبی تعزیتی تحریر کا آغاز کرنے چلا ہوں قارئین محترم رواداری، وضع داری،شائستگی تحمل برداشت سب کو ساتھ لیکر چلنے والے ایک مدبر معتبر سیاستدان عالمی سطح پر ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کا خواب و حسرت دل میں لئے خلق خدا کی ایک توانا آواز عملی سیاسی جدوجھد کا ایک لافانی کردار جسے دنیا بیرسٹر سلطان محمود چوہدری صدر ریاست جموں و کشمیر کے نام سے جانتی ہے آخر کار موذی امراض سے لڑتے لڑتے داعی اجل کو لبیک کہہ کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو کر اپنوں غیروں کو داغ مفارقت دے گئے قفس عنصری سے ارواح کا پرواز کرنا تخلیق کائنات کے وقت سے پروردگار کا اٹل فیصلہ ہے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری چوہدری آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہونے پانچ سال تک پیپلز پارٹی قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر رہے انکا شکریہ شمار دختر مشرق قائد انقلاب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پہلی عالمی شہرت یافتہ خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کرنے والی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے معتمد ساتھیوں میں ہوتا تھا اب وہ دوبارہ اپنے خاندان اور ان گنت چاہنے والوں پارلیمانی پارٹی سمیت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری چیئرپرسن محترمہ فریال تالپور انچارج سیاسی امور مرد میدان بادشاہ گری میں اپنی مثال آپ جناب چوہدری ریاض جواں سال پارلیمنٹرین راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے نظریاتی کاروان میں شامل تھے ریاست جموں و کشمیر کے صدارت پر متمکن رہنے والے صدور میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اپنی آئینی مدت کے آخری دورانیے میں دارلفنا سے دارلبقا کی جانب ابدی منزل کی طرف لوٹ گئے قارئین مرحوم رہنما کی یہ بھی منفرد تاریخ ہے کہ انھوں نے سردار عبد القیوم خان نیازی سردار تنویر الیاس خان چوہدری انوار الحق کے دور وزارت عظمیٰ میں صدر ریاست رہے اور آخری سال جواں سال پارلیمنٹرین راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی وزارت عظمیٰ میں صدر ریاست کے منصب پر فائز رہتے ہوئے انکی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا آج مجھے اپنی تحریر میں چوہدری ریاض کے کرادر پر فخر ہو رہا ہے جنھوں نے نہ صرف انھیں دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی خاندان میں واپس لانے میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ شعبہ خواتین کی مرکزی صدر منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں حرف لازم کی حثیت رکھنے والی مہذب خاتون رہنما محترمہ فریال تالپور کو بھی اس وقت کشمیر ہاؤس عیادت کیلئے لیکر گئے جب وہ صاحب فراش تھے مگر کم کم سہی اٹھتے بیٹھتے بولتے چالتے کھاتے پیتے تھے چوہدری ریاض کو پرودگار نے اپنے خصوصی فضل و کرم سے نواز رکھا ہے وہ جہاں جس محفل میں جائیں جو بھی ان سے ایک بار مصافحہ کرے یا گفتگو وہ انکے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے جنھوں نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو سولہ کی تعداد سے چھتیس تک پہچانے میں اپنی خداداد صلاحتیوں سے سیاسیات میں بچھی ہوئی بارودی سرنگوں سے نکال کر محفوظ راستوں سے ایوان اقتدار تک پہنچایا اللہ پاک نے باوقار لا جواب اعلیٰ ظرف کی فلک بوس عمارت اور مسکراتے چہرے کو پلک چھبکتے فتح و نصرت عطا کی اور اسی کے ثمرات سے راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے سر پر اقتدار کا سنگھاسن سجایا گیا چوہدری ریاض اس وقت پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاست میں نام ہے اعتماد کا نشان ہے کامیابی کا انکے فرزند بیرسٹر علی رضا چوہدری کی ازدواجی زندگی کی رسومات میں چاروں صوبوں سے تمام مکاتب فکر کی عقیدت نے نئی تاریخ رقم کر دی اور انھوں نے شادی کی خوشی میں منعقدہ تقریب ظہرانہ و محفل غزل کو تعزیتی ریفرنس میں مبدل کر دیا یہ ہوتی ہے انسانیت اور دوستی کے نظریاتی رشتے ایک خوبی کا بیان نہ کرنا بخل ہو گا کہ بیرسٹر سلطان محمود جب ناسازی طبع کی بناء پر رخصت بغرض علاج لیتے تو قائمقام صدر کی حیثیت سے سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے کبھی بھی نہ پروٹوکول لیا نہ ایوان صدر کو آئینی ضروریات کے علاوہ تصرف میں لایا وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ وقت ہر کسی پر آ سکتا ہے انسان کو انسانیت کی حدوں کو بہر حال ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین چوہدری پرویز اشرف انکے طویل عرصے تک رفیق سفر رہے راقم الحروف شوکت جاوید میر قائد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کے ساتھ سرکاری و نجی حیثیت سے پندرہ سال تک کام کرنے مواقع تسلسل سے میسر رہے انکی مسکراہٹ بزلہ سنجی بر موقع فیصلوں کی صلاحیتیں کم ہی سیاستدانوں میں عیاں ہوتی ہیں محروم لکھتے ہاتھ کانپ جاتے ہیں قلم لرزہ براندام ہوتا ہے دھڑکنیں جیسے ساکت ہونے لگتی ہیں تاہم قارئین کرام حقیقت یہی ہے شعبان المعظم کے پہلے جمتہ المبارک کو راقم نے برادر محترم شوکت راٹھور خاکسار مقدس اقبال خواجہ راؤف راجہ کے ہمراہ پمز ہسپتال میں انکی مزاج پرسی کی بھائیوں جیسے دوست پیپلز پارٹی لندن کے جنرل سیکرٹری فرزند قائد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری یاسر سلطان وزیر ہاؤسنگ کے پرائیویٹ سیکرٹری سید ناصر علی شاہ ہمدم دیرینہ سٹاف آفیسر خوش اخلاق اور نفیس انسان سید کمال شاہ سے صحت یابی کے متعلق معلومات حاصل کی اور ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ نیک خواہشات پیش کیں قارئین بیرسٹر سلطان محمود نے مسلۂ کشمیر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا انکے ہر ماہ کے تیس دنوں میں اٹھائیس دن میں تحریک آزادی کشمیر پر گفتگو از بس لازم ہوتی تھی جیسے کئی ایام کے بھوکے کو مرغن غذائیں بیک وقت میسر آ جائیں دنیا بھر کے فروم پر انکا درجنوں بار جانا ہوا برطانیہ کے وزیر خارجہ وقت جیک سٹرا انھیں ملنے دورہ لندن کے دوران تشریف لاتے برطانیہ میں انکی میزبانی میں ملین مارچ پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انکی سیاسی عسکری قیادت اداروں اور دفتر خارجہ سمیت میڈیا کا واویلا دنیا نے سنا اس ملین مارچ میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم دلوں کے حکمران تعمیر و ترقی کے نشان چوہدری عبد المجید نے بھی شرکت کی پھر اسلام آباد مظفرآباد کشمیر کانفرنسز میں تمام سیاسی مذہبی قیادت کو یکجا کرنا انکی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ایک لافانی کردار تھا جو امر ہو گئے ایک جہد مسلسل کی داستان ہے جو سب کیلئے مشعل راہ ہے وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان اور وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے دور اندیش پالیسی ساز تھے وہ صاف دماغ اور کشادہ دل نفیس انسان تھے انکے بیٹوں میں ایک سیاستدان چوہدری یاسر سلطان جو وزیر ہاؤسنگ ہیں دوسرے فہد سلطان جو دانشور اور مصنف ہیں تاہم ان سے عقیدت و محبت رکھنے والے بے حساب بے شمار عوام انکی اولاد کا درجہ رکھتی ہے فخر کشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اصولوں کے آمین سردار خالد ابراہیم خان خوش اخلاق خوش مزاج محمد مطلوب انقلابی سابق سپیکر سردار غلام صادق سمیت صف اول کے رہنماؤں کی وفات کے بعد پیدا ہونے والا خلا قد آوار سیاست دان بیرسٹر سلطان محمود کی قیادت کافی حد تک پر رہا مگر انکی وفات سے رواداری وضع داری شائستگی جیو اور جینے دو کا ایک عہد بھی تمام ہوا مرحوم قومی رہنما کو ہوٹر کی آوازیں پسند تھیں زندگی میں بھی رب تعالیٰ نے پروٹوکول والے منصب عطا فرمائے اور سفر آخرت میں بھی قومی اعزاز نصیب ہوا وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے انکے جسد خاکی کو کندھا دیا تین روزہ سوگ کا اعلان کیا سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کے احکامات جاری کر کے دراصل عزتیں سمیٹنے کا نوٹیفکیشن کیا جس طرح اپنے انتخابی حلقہ میں اپنے والد محترم اور اپنے سیاسی حریف سیاست کے نامور کردار چوہدری محمد عزیز کے نام کالج منسوب کیا سمیٹنے،،،،،،،،گزشتہ شام کو مظفرآباد سے اسلام آباد جاتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی طرح افسوسناک اطلاع ملی کہ لوگوں کے حقوق کی اواز بننے والی جاندار آواز خود ہمیشہ کیلئے خاموشی کنارہ کشی اختیار کر گئی آخر میں رب العزت کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرتے ہیں کہ وہ انکی آخری منازل آسان اور انکی خطاؤں کو اپنے خصوصی فضل و کرم سے معاف کر کے سرکار دوعالم شافع محشر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سید الشھداء نواسہ رسول امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کی قربت اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

Related Articles

Back to top button