یوم یکجہتی کشمیر،مظفرآباد میں عظیم الشان ریلی نکالی جائے گی،حریت کانفرنس

مظفرآباد (محاسب نیوز )یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منانے کا اعلان،آزاد کشمیر، پاکستان اور گلگت بلتستان کی قیادت متحد، ریلیاں، انسانی زنجیر، سیمینارز اور عظیم الشان کشمیر کانفرنس کا انعقاد،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے سلسلے میںپریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 5 فروری کو آزاد کشمیر بھر میں قومی یکجہتی، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں سیکریٹری جنرل کل جماعتی حریت کانفرنس ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ ، ترجمان وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیرشوکت جاوید میر، مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف خواجہ محمد فاروق ،ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل ڈاکٹر راجہ سجاد ،چیئرمین مہاجرین نمائندہ فورم غلام حسن بٹ ،راجہ آفتاب امیر جماعتِ اسلامی مظفرآباد، یاسر نقوی ایڈووکیٹ ضلعی صدر مسلم کانفرنس، اور سمیعہ ساجد رہنما مسلم کانفرنس نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر آزاد کشمیر میں قومی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ اس موقع پر مظفرآباد میں عظیم الشان ریلی، انسانی ہاتھوں کی زنجیر، سیمینارز، کشمیر کانفرنس اور مشترکہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، جبکہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی ریلیوں اور تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے بتایا کہ مظفرآباد میں مرکزی ریلی پوسٹ آفس چوک سے شروع ہو کر جلسہ عام کی صورت اختیار کرے گی۔ اسی دن کوہالہ کے مقام پر چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی و حکومتی قیادت کی شرکت سے انسانی زنجیر بنائی جائے گی، جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان اور کشمیری قوم مسئلہ کشمیر پر متحد اور یک آواز ہیں۔ 5 فروری کو مظفرآباد میں عظیم الشان کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں پاکستان کی مرکزی قیادت، آزاد کشمیر کی ریاستی قیادت، حریت رہنما، مہاجرین نمائندگان اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوں گی۔ اسی روز یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مشترکہ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان کی شرکت متوقع ہے، جبکہ دیگر وفاقی و صوبائی نمائندگان بھی شریک ہوں گے۔جموں و کشمیر ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کی حیثیت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے ثابت ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے۔ مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں کی شدید مذمت کی۔شرکائ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے عملی کردار ادا کرے اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے روکے۔ مقررین نے حکومتِ پاکستان، پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر مسلسل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کو سراہا۔پریس کانفرنس میں مہاجرین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ مہاجرین کے لیے گزارہ الا¶نس میں اضافہ، آباد کاری کے عمل میں تیزی اور 6 فیصد کوٹہ فوری طور پر بحال کیا جائے، کیونکہ مہاجرین تحریکِ آزادی کشمیر کا لازمی حصہ ہیں۔ مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں نے 5 فروری کے پروگراموں میں بھرپور شرکت کا اعلان کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر گھروں سے نکل کر بھرپور شرکت کریں اور دنیا کو واضح پیغام دیں کہ کشمیری قوم آج بھی اپنے حقِ آزادی کے لیے متحد، منظم اور پرعزم ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر آزاد جموں و کشمیر کے مرحوم صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔




