مظفرآباد

قیمتی زمینیں دیں‘پیاروں کی لاشیں اٹھائیں‘ حق دیاجائے(متاثرین نیلم۔ جہلم پراجیکٹ)

ٹھوٹھہ(نمائندہ محاسب) اسد لطیف مغل چیئرمین یونین کونسل ٹھوٹھہ سید مدثر نقوی‘افسر مغل‘ ناہید مغل‘ پرویز مغل‘ نمبردار تنویر خان کول‘ اسد لطیف‘عامر تنویر‘حاجی محمد ذیب خان سید تصور گردیزی‘ سید عامر کاظمی عامر زمان مغل ممبر لوکل کونسل و دیگر حقیقی متاثرین و انوسٹر نیلم جہلم پراجیکٹ نے کہا ہے کہ ہم صرف متاثرین ہی نہیں بلکہ ہم نیلم جہلم پراجیکٹ میں انوسٹر بھی ہیں۔ ہم نے قیمتی اراضیات کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی لاشیں بھی اٹھائی ہیں۔ہم صرف نعروں پر یقین نہیں رکھتے متاثرین کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ پر متعلقہ اداروں سے بامقصد مذاکرات کیے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ہماری چارٹر آف ڈیمانڈ پوری کی جائے ہر ایک کو اس کا حق ملنا چاہیے۔نیلم جہلم پراجیکٹ کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے واپڈا اور چائنیز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ اس سے قبل بھی متاثرین C2 نے غیر مشروط تعاون کیا جو اب بھی جاری رکھیں گے۔ ہم دھونس دھاندلی جلاؤ گھیراؤ دھمکیوں پر یقین نہیں رکھتے۔ سی ٹو مالسی ٹھوٹھہ مجہوئی گوڑی اور ملحقہ علاقوں کے عوام قومی نوعیت کے اس بڑے پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے کردار ادا کریں گے۔ نہ خود کسی منفی سرگرمی کا حصہ بنیں گے نہ کسی کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے دیں گے۔ ہماری زمینوں پر کسی کا کوئی اختیار نہیں کہ کوئی اپنے مقاصد کے لیے خلل پیدا کرے۔ اپنی زمینوں اور علاقے میں جو مرضی ہے وہ کرے۔ واپڈا متاثرین کے جائز مطالبات پورے کرے جس کا ہم سے وعدہ کیا ہے۔ ہم نے واپڈا اور ضلعی انتظامیہ حکومتی اداروں کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے۔ متاثرین کی مختلف اقسام ہیں کچھ لوگ اراضی متاثرین کے ساتھ پراجیکٹ کے بلکل سامنے قریب ہیں جو ہر وقت ہر لحاظ سے متاثر ہوئے ہیں جن کے راستے پانی چراگاہیں گرد و غبار شور شرابہ پردہ غیر ایوارڈ اراضیات کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ میں سید فیاض شاہ کا بھائی سید مدثر نقوی کا چچا زاد سید امتیاز شاہ۔ رشید خان مغل کا بیٹا افسر مغل کا داماد نسیم مغل۔ اور افسر مغل کا بھتیجا سلیم خان کا بیٹا شہید ہوئے۔ ہم نے زمین کے علاؤہ اپنے پیاروں کے جنازے اس پراجیکٹ کی اُٹھائے ہیں۔ پھر آج ہمیں کوئی طعنہ دے کہ انہوں نے پیسے لے لیے زمینوں کے وہ کیسے متاثر ہیں۔ ہمیں کوئی یہ تو بتائیں کہ وہ کس طرح متاثر ہوئے۔ ہم اراضی متاثرین واپڈا حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور متاثرین کی کیٹگری بنائی جانی چاہیے۔ اور جن لوگوں نے پہلے پراجیکٹ میں کام کیے ان کے ریکارڈ کے مطابق کام یا ٹھیکہ جات دئیے جائیں۔

Related Articles

Back to top button