(یوم یکجہتی کشمیر پر 5 فروری کو اسلام آباد میں“ تنازعہ کشمیر: ابتدا سے حل تک”کے موضوع پر ایک سیمنار میں میر ے انگریزی خطاب کا اردو ترجمہ نظر قارئین ہے )

تنازعہ کشمیر: ابتدا سے حل تک –
جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی
خواتین و حضرات،
معزز اہلِ علم اور معزز سامعین،
آج پانچ فروری ہے، ایک ایسا دن جو کشمیری عوام کے ساتھ گہری اور بامعنی یکجہتی کی علامت ہے۔ہماری قومی یادداشت میں تین فیصلہ کن تاریخیں ایک ساتھ گونجتی ہیں:* 31 جنوری 1975 اندرا۔عبداللہ معاہدے کی مخالفت اور اس کا رد کرنے پر ذو الفقار علی بھٹو کی اپیل پر کشمیریوں سے یکجہتی کا دن -* 5 فروری 1990: شدید جبر و استبداد کے ماحول میں کشمیری مزاحمت کے حق میں قاضی حسین احمد کی اپیل پر یکجہتی کا دن – اور 5 اگست 2019: بھارت کی جانب سے آرٹیکل /35A – 370 کا خاتمہ کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ عمران خان کی اپیل پر یکجہتی کا دن -یہ تمام لمحات مل کر کشمیری کاز کے ساتھ وحدت، مزاحمت اور اخلاقی وابستگی کا ایک تسلسل تشکیل دیتے ہیں۔اب ہم موضوع:“تنازعہ کشمیر: ابتدا سے حل تک”کی طرف آتے ہیں -خواتین و حضرات، میری یہ گفتگو میری تصنیف کردہ کتاب“آئینہ کشمیر”سے ماخوذ ہے۔ میں اس سیمینار کے منتظمین کو یہ کتاب بطور تحفہ پیش کرنا چاہوں گا تاکہ اس کا گہرا تنقیدی مطالعہ اور اس پر سنجیدہ مکالمہ کیا جا سکے۔اس کتاب کے زریعہ کشمیر کی مستند سیاسی تاریخ کی بنیاد پر ایک قابلِ اعتماد روڈ میپ فراہم کی کوشش کی گء ہے۔ اس میں پاکستان اور بھارت کے کردار اور کوتاہیوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے، نیز تنازعے کے حل کے لیے پیش کی گئی پچیس تجاویز، بشمول جنرل مشرف کے فریم ورک، کا تفصیلی تجزیہ بھی کیا گیا ہے – یہ تجاویز پاکستان اور بھارت دونوں کے آئینی ڈھانچوں سے ہم آہنگ ہیں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے خود حکمرانی، روابط، تعاون اور بتدریج معمول پر آنے کے اصولوں پر مبنی ہیں، تاکہ تعطل کی جگہ وقار اور تصادم کی جگہ بقائے باہمی کو فروغ دیا جا سکے۔تنازعہ? کشمیر کی جڑیں انسانی تاریخ کے قدیم ترین ادوار تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 1320ء تک یہ خطہ مختلف ہندو خاندانوں کے زیرِ اقتدار رہا۔مسلسل مسلم حکمرانی کا آغاز 1338ء میں ہوا جو 1819ء تک جاری رہی، جب سکھ سلطنت نے اس پر قبضہ کر لیا۔ آج کاکشمیر بھی اسی قبضے کا تسلسل ہے -پہلی اینگلو۔سکھ جنگ کے بعد، سکھوں نے جنگی ہرجانے کے طور پر معاہد? لاہور کے تحت کشمیر سمیت دیگر علاقے برطانیہ کے حوالے کیے۔ محض پانچ دن بعد، 16 مارچ 1846ء کو، برطانوی حکومت نے معاہد? امرتسر کے تحت کشمیر کو اپنے پروردہ جموں کے ایک ہندو جاگیردار گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ 75 لاکھ روپے کے عوض فروخت کر دیا۔ اس سودے نے پہلی بار ریاستِ جموں و کشمیر کو جنم دیا—ایک ایسی ریاست جو کسی قدرتی قوم کے طور پر وجود میں نہیں آئی، بلکہ ایک خریدی ہوئی جاگیر تھی، جسے فتوحات اور نوآبادیاتی سرپرستی کے ذریعے جوڑا گیا۔کشمیر کو ایک متحد ریاست سمجھنا ایک افسانہ ہے۔ تاریخی شواہد واضح ہیں کہ جموں و کشمیر کبھی بھی ایک فطری یا رضاکارانہ قوم نہیں رہا۔ 1846ء سے 1947ء تک، ایک واحد سیاسی اکائی کے طور پر اس کی بقا برطانوی بالادستی، فوجی جبر، معاشی استحصال اور نمائندہ حکمرانی کی عدم موجودگی پر منحصر رہی—نہ کہ کسی مشترکہ شناخت، ثقافت، زبان، مذہب یا رضاکارانہ اتحاد پر۔زمینی حقائق اس بکھراؤ کو مزید نمایاں کرتے ہیں:* وادی? کشمیر: بھاری اکثریت مسلم، کشمیری زبان بولنے والی، ڈوگرہ دور میں اور آج بھارت کے زیرِ اقتدار سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلی گئی؛* جموں: ہندو اکثریتی، ڈوگری زبان بولنے والا خطہ، مشرقی پنجاب اور میدانی علاقوں سے ثقافتی ہم آہنگی رکھنے والا، اور ڈوگرہ خاندان کی طاقت کا مرکز رہا ہے:* لداخ: بدھ مت اکثریتی، نسلی طور پر تبتی، جہاں بارہا علیحدگی یا براہِ راست برطانوی/بھارتی انتظام کا مطالبہ کیا گیا؛* گلگت بلتستان: کثیر النسلی، اکثریت شیعہ مسلمان، جس کے وادی? کشمیر یا جموں کے ساتھ انتظامی یا جذباتی روابط نہ ہونے کے برابر ہیں -یہ تمام خطے جداگانہ نسلی، مذہبی اور لسانی اکائیاں ہیں، جو جغرافیہ، تاریخ اور سیاسی تجربات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے منقسم ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی یہ دلیل ہے ہندوستان اور پاکستان کے اندر بھی تو یہ تقسیم ہے، یہ درست ہے، لیکن ان ملکوں کی اکائیاں ملکی وحدت پر متحد ہیں جو ریاست جموں کشمیر میں نہیں تھی- کبھی بھی ریاست گیر قوم پرستی نے جنم نہیں لیا۔ سیاسی تحریکیں —جیسے 1931ء کی بغاوت، مسلم کانفرنس اور بعد کی جدوجہد—وادی تک محدود، ڈوگرہ مخالف اور آج کے دور میں بھارت مخالف رہیں۔1947ء کے انہدام نے فیصلہ کن ثبوت فراہم کر دیا، جب تقسیم کے انتشار اور ہری سنگھ کی تذبذب کے باعث ڈوگرہ مطلق العنانیت بکھر گئی اور ریاست اپنی اندرونی دراڑوں کے ساتھ ٹوٹ گئی۔ جموں میں پونچھ کی بغاوت، وادی کشمیر کے پہاڑی علاقوں مظفرآباد، اور گلگت اسکاوٹس کی بغاوت کے نتیجے میں ریاست تیزی سے بھارتی اور پاکستانی زیرِ انتظام حصوں میں تقسیم ہو گئی۔یہ کسی متحد قوم کا انہدام نہیں تھا، بلکہ ایک مسلط کردہ آمریت کا دھماکے سے خاتمہ تھا۔ واحد جوڑنے والی قوت—ایک حکمران خاندان—ختم ہو گئی اور وحدت کا فریب راتوں رات بکھر گیا- الحاق کی قانونی حقیقتوں کا جائزہ لیں تو، انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947ء کے تحت 15 اگست 1947ء کو برطانوی بالادستی اور معاہد? امرتسر دونوں ختم ہو گئے۔ یوں جموں و کشمیر کہلانے والا خطہ قانوناً آزاد ہو کر بکھر گیا اور اس کی اکائیوں کی خودمختاری عوام کو واپس مل گئی۔قابلِ ذکر امور یہ ہیں: آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان نے بغاوت کر کے 24 اکتوبر 1947ء کو آزادی کا اعلان کیا اور اپنی حکومت قائم کی؛* مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947ء کو، وسیع علاقوں پر کنٹرول کھونے اور وادی سے فرار کے بعد، بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ڈوگروں کے قبضہ سے آزاد خطے نہ تو الحاق کے فریق تھے اور نہ ہی اس وقت مہاراجہ کے زیرِ کنٹرول تھے کہ انہیں الحاق شدہ قرار دیا جا سکے، اس لئے ان کو ہندوستان سے الحاق شدہ نہیں کہا جا سکتا – یکم جنوری 1948ء کو بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں دائر شکایت کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں منظور ہوئیں، جن میں رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت کی توثیق کی گئی—یہ قراردادیں قانونی طور پر آج بھی برقرار ہیں، اگرچہ سیاسی طور پر معطل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندوں میں جسٹس سر اوون ڈکسن کی رائے پیش گوئی ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا:“جن علاقوں میں بلا شبہ بھارت یا پاکستان کے حق میں ووٹ پڑے گا، انہیں اسی کے مطابق تقسیم کر دیا جائے، اور رائے شماری کو صرف وادی? کشمیر تک محدود رکھا جائے۔”یہ بصیرت اُس وقت بھی درست تھی اور آج بھی صورت حال یہی ہے، کیونکہ مزاحمت کا مرکز اب بھی صرف وادی? کشمیر ہی ہے اور کوء خطہ نہیں -دہائیوں کے دوران:* جموں اور لداخ بھارت کے ثقافتی اور سیاسی دھارے میں دانستہ طور مکمل طور پر ضم ہو چکے ہیں؛* آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ اس طور ہندوستان اور پاکستان کو ان زمینی حقائق کو خوش دلی سے تسلیم کر کے تناذعہ کو محدود کرکے وادی کشمیر اور اس کے مشرقی مضافات کو 1947 والی پوزیشن پر لے آئیں – صرف وادی? کشمیر ہی واحد غیر حل شدہ مرکز ہے یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا انکار تنازعے کو طول د ے رہاہے۔سوال یہ ہے کہ کیا آج رائے شماری ممکن ہے؟قانونی طور پر حقِ خودارادیت بدستور قائم اور ابدی ہیجس سے انکار ممکن نہیں، لیکن سیاسی اور عملی اعتبار سے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری انتہائی غیر محتمل نظر آتی ہے، وجوہات یہ ہیں: 5 اگست 2019ء کے بعد غیر معمولی عسکریت؛* وسیع پیمانے پر آبادیاتی اور آئینی انجینئرنگ؛* اور اس تنازعہ کے حل کے لئے بڑی عالمی طاقتوں میں اتفاقِ رائے کی عدم موجودگی۔پاکستان کے نقط? نظر سے بھی محض رائے شماری کے بیانیے پر انحصار حکمتِ عملی کے اعتبار سے ناقابلِ عمل ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ وادی میں آزادی کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے، اور سیکولر کشمیری بھارت کو ثانوی ترجیح کے طور پر دیکھتے ہیں۔آگے کا راستہ متعین کرتے ہوئے؛ جنگ کی تیاری امن کی ضمانت بن سکتی ہے، مگر امن کو اوّلین ترجیح رہنا چاہیے۔ 2025ء کے بعد کے تنازعاتی منظرنامے میں پاکستان نے اسٹریٹجک بصیرت اور اصولی مفاہمت کے ذریعے اپنی سفارتی اہمیت دوبارہ حاصل کر لی ہے۔یہ اثر و رسوخ ذمہ دارانہ قیادت کا تقاضا کرتا ہے تاکہ:* بھارت کے ساتھ منظم مکالمے کا ازسرِ نو آغاز کیا جائے، سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روح کو بار آور کرتے ہوئے یو این چار ٹر کے تحت بامعنی مذاکرات، ثالثی، مفاہمت اور مدبرانہ قیادت کو فروغ دیا جائے، علاقائی اور عالمی ذمہ دار قوتوں کی معاونت کے ساتھ، تاریخ، قانون اور زمینی حقائق کی پاسداری کرتے ہوئے؛
* وادی? کشمیر اور اس کے مشرقی مضافات، پیر پنجال اور چناب کے علاقوں کے لیے پاکستان، ہندوستان کے آئین اور گورنمنٹ ایکٹ 1935 کی روح کے مطابق ایک علاقائی با معنی خودمختاری کے ساتھ آئینی حل کی طرف پیش رفت کی جائے- یو این اور سفارت کاری کے علاوہ بر صغیر کے آئینوں اور ان کے ماخذ آئین سے رہنماء لینے کا وقت بھی ہے – اس کے ساتھ ہی بھارت۔پاکستان مستقل کمیشن قائم کیا جائے، جو سندھ طاس معاہدے کے نمونے پر دیگر موجود اور آئیندہ پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کے لئے مستقل ثالثی کونسل کی حیثیت کا حامل ہو – اگر سندھ طاس معاہدے کے ساتھ ہی کشمیر کو بھی بریکٹ کیا گیا ہوتا تو دو ملکوں کے درمیان کشیدگی کی سطح آج جیسی نہ ہوتی – اب بھی سیاسی اور سفارتی دماغ ریاست کو پر امن بنانے کے لئے اس طرز پر مل بیٹھیں تو بریک تھرو کی امید کی جا سکتی ہے -اگرچہ موجودہ ماحول میں مکالمے کا کوء امکان نظر نہیں آتا، لیکن تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جو چیز آج ناممکن دکھائی دیتی ہے، وہ ثابت قدمی اور مدبرانہ قیادت سے ناگزیر بن جاتی ہے—جیسا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ نے کر دکھایا۔امن ایک دوسرے کی سالمیت، خود مختاری اور سرحدوں کے احترام کے ساتھ تنازعات کے حل سے ہی ممکن ہے اور اسی سے معصوم شہریوں کی جان بچا کر دونوں ملک دہشت گردی کو مل کر کنٹرول کر سکتے ہیں -ہندوستان اور پاکستان کو خلوصِ نیت پر مبنی مذاکرات کو حقیقی موقع دینا چاھئے اور پس پردہ سفارت کاری کے زریعہ یہ عمل شروع کرنا چاھئے -پاکستان پر آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی متوازی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ 24 اکتوبر 1947ء سے اپنے زیرِ انتظام ان علاقوں کو ریاست کے مجموعی حل تک آئینی اصولوں کی مطابق جرات اور اصول پسندی سے طے کر ے، جو اب تک غیر طے شدہ ہیں – انہیں غیر یقینی کیفیت میں رکھنا قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر ناقابلِ دفاع ہے۔ آزاد کشمیر میں سیاسی ابہام اور آئینی بے یقینی بڑھتی ہوئی علیحدگی پسندانہ سوچ کو ہوا دے رہی ہے۔ اس مسئلے کا حل پاکستان کے موقف کو جائز اور مضبوط بنائے گا کمزور نہیں کرے گا -چین۔پاکستان معاہدہ 1963 کی نظیر پر، مسئلہ? جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کے بعد، ضرورت کے مطابق، باہمی رضامندی سے اس بندو بست کو ازسرِنو ترتیب دیا جا سکے گا-شکریہ۔




