نیلم جہلم پراجیکٹ ناقص تعمیر سے بند‘دوبارہ ناقص منصوبہ بندی‘ کام شروع کیا جانے لگا

پٹہکہ(تحصیل رپورٹر)نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ ناقص تعمیر کے باعث بند ہوا دوبارہ سے اس کی تعمیر کے لیے ناقص کام کی منصوبہ بندی کرکے کام شروع کیا جانے لگا اہلیان نوسیری نے نیلم جہلم پراجیکٹ کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر احتجاج کی دھمکی دے دی پہلے بھی ناقص کام کی وجہ سے کھربوں روپے کا پراجیکٹ تباہ ہوا جو عرصہ دراز سے بند پڑا ہوا ہے اب ایسا نہیں ہونے دیں گے پٹہکہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کاشف الطاف نے کہا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کی بات ایک کہانی صرف ایک ترقیاتی منصوبے کی نہیں بلکہ متاثرین کیساتھ ہونے والے ظلم اور ناانصافی کی ایک طویل داستان ہے اس منصوبے کے دوران نیلم جہلم کے متاثرین سے آبادکاری اور ملازمتوں کے حوالے سے وعدے کیے گئے مگر عملی طور پر ان وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے جھوٹ اور فراڈ سے کام لیا گیا حقیقت یہ ہے کہ آج نیلم جہلم پراجیکٹ خود شدید مسائل کا شکار ہو چکا ہے اور اسے ایک فلاپ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی غفلت نااہلی یا کرپشن کی وجہ سے یہ منصوبہ نقصان کا شکار ہوا آج وہی لوگ مرمت کے نام پر دوبارہ اس منصوبے میں شامل ہو کر مزید فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہی کمپنی،وہی انجینئر اور وہی کنسلٹنٹ دوبارہ کام شروع کرنا چاہتے ہیں جبکہ اب تک نہ کوئی شفاف رپورٹ سامنے آئی کہ پراجیکٹ کس وجہ سے فلاپ ہوا اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اس منصوبے کی تکمیل کے لیے متاثرین نے گھر،زمینیں اور یہاں تک کہ قبرستان تک قربان کیے مگر آج وہی متاثرین دوبارہ نظر انداز کیے جا رہے ہیں جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اگر انتظامیہ اور ریاست نے یہی رویہ برقرار رکھا تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے انہوں نے واضح مؤقف میں کہا کہ جب تک ان کے مسائل حل نہیں کیے جاتے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے نہیں کیے جاتے اس وقت تک منصوبے پر کسی قسم کا کام نہیں کرنے دیا جائیگا اگر چائنیز کمپنی پر بروقت پابندی نہ لگائی گئی تو متاثرین خود ایکشن لیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی حکومت آزاد کشمیر واپڈا کے ذمہ داران انتظامیہ اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے متاثرین کے مسائل سنیں وعدوں کو پورا کریں اور اس منصوبے کی معیاری طریقے سے ریپئرنگ شروع کریں۔




