پاک، امریکہ تعلقات‘ اسٹریٹجک مفادات‘ نئی سمت اختیار کر رہے ہیں‘سردار مسعود

اسلام آباد (محاسب نیوز)آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی اصولی اور فعال شرکت نے نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق پاکستان کے غیر متزلزل مؤقف کو تقویت پہنچائی ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک کے اسٹریٹجک مقام کو بھی مستحکم کیا ہے۔ ان کے بقول اس پیش رفت سے پاک۔امریکہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر نئی جہت ملی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے واضح کیا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت اس کے دیرینہ مؤقف کی توسیع ہے، جس کے مطابق 1967ء سے قبل کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستان کی موجودگی محض علامتی نہیں بلکہ عملی نوعیت کی تھی، جس کا مقصد پائیدار جنگ بندی، بلا تعطل انسانی امداد اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے 19 فروری 2026ء کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت منظور شدہ مینڈیٹ کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق یہ سفارتی میکنزم فلسطینی عوام کی مشکلات میں کمی اور ایک متعین مدت کے اندر امن عمل میں پیش رفت کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔سردار مسعود خان نے اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی قیادت کی تعریف کو خطے میں پاکستان کے تعمیری کردار پر اعتماد کی بحالی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک کردار کا اعتراف بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر سیاسی ماحول کے نتیجے میں پاکستان کو اقتصادی اور تزویراتی سطح پر عملی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق اہم معدنیات—بشمول تانبہ، لیتھیم اور ریئر ارتھ عناصر—میں تعاون، توانائی خصوصاً قابل تجدید ذرائع اور ممکنہ تیل کی تلاش، ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو کرنسی فریم ورک جیسے ابھرتے شعبوں میں اشتراک، اور تجارت و صنعتی شراکت داری کے امکانات میں وسعت اس امر کا ثبوت ہیں کہ دوطرفہ تعلقات وقتی روابط سے نکل کر طویل المدتی اسٹریٹجک مکالمے کی سمت گامزن ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی پالیسی سازوں سے بڑھتے روابط کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ باہمی تعلقات اب عارضی سیاسی عوامل کے بجائے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر استوار ہو رہے ہیں۔



