بھارت سے کشمیریوں کی تین نسلوں کے ساتھ ظلم کا حساب لیں گے‘جاوید ایوب

مظفر آباد(پ ر) آزاد کشمیر کے وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی ہندوستان کا اصلی چہرہ ہے جو اپنے متشدد نظریات کی وجہ سے کشمیریوں کی نفرت کی علامت بن چکا ہے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو کچلنے میں ناکامی کے بعد مودی کی انتہا پسند حکومت اور ہندوستان کی انتہا پسند تنظیموں نے بھارت کے مسلمانوں ، کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم شروع کر دی ہے بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ نفرت ، تعصب اور دشمنی کی جو Èگ وہ بھڑکا رہا ہے اس Èگ میں وہ خود بسہم ہو جائے گا۔ لائن Èف کنٹرول پر بسنے والی عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں تحریک Èزادی کشمیر کی حفاظت کیلئے محاذوں پرکھڑے نوجوان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بھارت کا جموں وکشمیرپر قبضہ غیر قانونی ہے بھارت کے تمام تر منفی ہتھکنڈوں کے باوجود اہل کشمیر اور پاکستان کا یہ عزم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے چنگل سے Èذاد کرا کر پاکستان کا حصہ بنائیں گے اور بھارت سے کشمیریوں کی تین نسلوں کے ساتھ ظلم کا حساب لیں گے دنیا بھارت کے اصل بد نما چہرے سے واقف ہو چکی ہے Èزادکشمیر کے عوام پیدائشی سپاہی ہیں جو مرنا اور مارنا جانتے ہیں اور افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے بھارت نے پورے ہندوستان میں کشمیریوں کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جہاں ان کی املاک جلائی جا رہی ہیں اور ان کو گھروں میں دہشت زدہ کیا جا ریا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صحافیوں سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ کشمیری طلبا کو جس انداز سے ہندوستان بھر میں محض کشمیری ہونے کی بنا پر تعصب ہونے کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے یہ اصلی ہندوستان ہے جس میں صرف ہندو اور وہ بھی خالصتا برہمن سامراج کے لیے ہی جگہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام ہندوستانی جبری قبضہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر رہے ہیں اور قربانیوں کا یہ سلسلہ بھارت کے قبضے کے خاتمے تک جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نہتے نوجوانوں کے خلاف پوری طاقت جھونک دینے کے باوجود ہار چکا ہے ہندوستانی وزیراعظم ایک بار پھر سرعام کہ رہا ہے کہ ہم نے فوج کو فری ہینڈ دے رکھا ہے تا کہ وہ کشمیریوں کا قتل عام کرے انہوں نے کہا کہ Èج صرف اقوام متحدہ میں ہی نہیں بلکہ برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹ میں بھی کشمیریوں پر مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تنازع کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی سوچ میں واضح تبدیلی رہی ہے ۔



