بڑاالمیہ‘ہم بحیثیتِ قوم اجتماعی بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں‘حافظ کفایت نقوی

مظفر آباد(محاسب نیوز)چیئرمین انجمن پاسبانِ ولایت و امامت پاکستان حافظ کفایت نقوی نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی، اجتماعی بے حسی اور اخلاقی زوال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم اجتماعی بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، نفسا نفسی، حرص اور لالچ عام ہو چکا ہے، جبکہ خودداری اور دینی حمیت دم توڑتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ ریلیف اور مفت خوری کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ دین کو بھی محض روزگار اور مفاد کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم سب اس صورتِ حال کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں، اور اس کا جواب ہم سب کو دینا ہوگا۔حافظ کفایت نقوی نے اس صورتحال کے اصل ذمہ دار ان عناصر کو قرار دیا جو بلا امتیاز مستحق اور غیر مستحق افراد کو ریلیف اور مفت خوری کا عادی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیمات کے سربراہان اور ذمہ داران پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسے تمام امور کا سدِّباب کریں جو معاشرے میں فساد اور خرابی کا سبب بن رہے ہیں، کیونکہ یہی ذمہ دار قیادت کی اصل پہچان ہے۔انہوں نے عدلِ علویؑ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولائے متقیان حضرت علیؑ نے اپنے سگے بھائی کو بھی بیت المال سے زائد دینے سے انکار کیا، حالانکہ وہ فقر و فاقہ کی حالت میں تھے، لیکن عدل سے انحراف گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی عدلِ علوی ہے اور یہی نظامِ ولایت کی روح ہے۔چیئرمین پاسبانِ ولایت و امامت نے سوال اٹھایا کہ کیا آج ہم بھی اسی عدل کے مطابق مستحقین تک ان کا حق پہنچا رہے ہیں



