پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود گرانفروشی عروج پر

مظفرآباد(سروے رپورٹ:جہانگیر حسین اعوان)آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود عوام کو کسی قسم کا عملی ریلیف نہ مل سکا۔ پیٹرول سستا ہونے کے باوجود بائیکیا، رکشہ، سوزوکی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی واقع نہ کروائی جا سکی، جس کے باعث شہری بدستور ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار کا شکار ہیں۔محاسب سروے کے دوران لیڈی کونسلر مسرت شیخ،خورشید اعوان،طارق مغل،عارف لداخی،خواجہ احسان،منہر سلہریہ،محمد رفیق،کاوید لالہ،ثاقب اعوان،محمد متین،محمد عظیم،شیخ شیراز،رفیق احمد،محمد بہال،سردار سفیان احمد،بشارت جگوال،ظہیر قریشی کے مطابق شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے سرکاری نرخ ناموں کو ہوا میں اڑا رکھا ہے، جبکہ روزانہ سفر کرنے والے مزدور، طلبہ اور ملازمین پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہو تو کرائے فوراً بڑھا دیے جاتے ہیں، مگر قیمتیں کم ہونے پر کرایوں میں کمی محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔دوسری جانب اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی کوئی خاطر خواہ کمی نہ آ سکی۔ آٹا، سبزیاں، دالیں، چینی اور دیگر ضروری اشیاء بدستور مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے، جبکہ دکاندار کھلے عام من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔شہری حلقوں کا شدید شکوہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ عملی اقدامات کے بجائے محض فوٹو سیشنز اور رسمی بیانات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ بازاروں میں نہ تو چیکنگ نظر آتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی جرمانہ کارروائی، جس سے ناجائز منافع خوروں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت آزاد کشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے فوری طور پر کرایے کم کروائے جائیں، اشیائے خوردونوش کے نرخ سختی سے کنٹرول کیے جائیں اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر عوامی بے چینی کسی بڑے احتجاج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔



