
چکسواری(نمائندہ خصوصی) مذہبی سکالر مفتی فضل الرحمان ڈائریکٹر صفہ انٹرنیشنل ماڈل سکول سسٹم چکسواری،مفتی مبشر عظیم،مفتی وسیم اور مولانا رضوان احمد نے آزاد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حاجی امین سے جان کا خطرہ ہے جس طرح کی دھمکیاں سوشل میڈیا اور دیگر سوشل اکاؤنٹس سے دی جا رہی ہیں اس سے نہ صرف ہمیں بلکہ ادارے کی ساکھ اور اس میں زیر تعلیم اقامتی بچون کی جان کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔فضل الرحمان نے کہا کہ حاجی امین نے ہماری ٹیم سے 24جون2024میں رابطہ کیا اورہم سے درخواست کی کہ ہم ادارے کا انتظام و انصرام سنبھالیں۔ جولائی میں ہمارا اور حاجی امین کا آپاس میں تحریری معاہدہ ہوا جس میں انھوں نے ہمیں ایک بیان حلفی دی اور مختار عام بھی دیا۔جس کے تحت 11کنال رقبہ، صفہ ماڈل سکول،فٹ بال گراؤنڈ اور مدرسہ ہمارے حوالہ کیا گیا۔اس کے بعد ہم نے اس ادارے میں ضروری کام کروایا اور بچوں کو لا کر ادارے کا باقاعدہ آغاز کیا۔بیان حلفی کے مطابق حاجی امین کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی وہ کسی قسم کا چندہ لے سکتے تھے،ہمیں اطلاع ملی کے وہ ادارے کی ویڈیوز بنا کر چندہ جمع کرتے ہیں ہم نے ان سے اس بابت دریافت کیا تو انھوں نے معقول جواب دینے کی بجائے الٹا ہمیں دھمکانا شروع کر دیا۔اسی دوران انھوں نے پنجاب کے ایک ادارے کے ساتھ معاہدہ کر کیسینکڑوں جوان بچیوں اور بچوں کو سکول کی عمارت میں لا ٹھہرایا۔انھوں نے جو ماھول بنایا وہ ہماری روایات ار اسلام کے خلاف تھا۔اس ٹیم نے ادارے پر قبضہ کر لیا جسے ہم نے مقامی انتظامیہ ایس ایچ او راجہ عمیر رشید کی مدد سے چھڑوایا اور انھیں واپس پنجاب بھیجا۔ہم نے عدالت میں کیس کر دیا اور حاجی امین کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں اور عدالتی حکم کے باوجودادارے میں گھسنے کی پاداش میں ان کے خلاف دو عدد ایف آئی آرز کروا دیں۔جن میں وہ ضمانت پر رہا ہیں۔اب حاجی امین دوبارہ سوشل میڈیا پر ہمارے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے اور ہزاروں پمفلٹ چھپوا کر ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے،نیزانھوں نے اعلان کیا ہے کہ 4جنوری کواسی ادارے میں 25سالہ سلور جوبلی پروگرام رکھ لیا ہے۔بغیر کسی استحقاق کے دوبارہ ادارے میں زبردستی گھسنا اور ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ہم نے تھانہ پولیس چکسواری میں بھی درخواست دی ہے اور بذریعہ اس پریس کانفرنس انتظامیہ سے مدد چاہتے ہیں کہ ہمیں حاجی امین کے شر سے محفوظ رکھا جائے۔4جنوری کو ادارے میں داخلے سے روکا جائے۔ اگر مجھے،میرے تدریسی سٹاف یا عملہ اور بچوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حاجی امین اور انتظامیہ پر ہو گی۔انتظامیہ ہمیں تحفظ فراہم کرے۔ہم قانون پسند پر امن شہری ہیں اور کسی بھی شر انگیزی و مسلکی اختلاف کے دین کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں اپنا کام کرنے دیا جائے۔چونکہ معاملہ عدالت میں زیر کار ہے لہذا عدالتی فیصلوں کی پابندی کی جائے۔ہم انتظامی و سیکورٹی اداروں اور عوام علاقہ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں۔نمبر1۔حاجی امین نے 2020سے اس وقت تک ادارے کے نام پر جو بھی چندہ لیا ہے اس کا آڈٹ کیا جائے۔نمبر2۔ایف آئی اے حاجی امین کا آڈٹ کرے کہ عوامی چندہ کے ساتھ خریدی گئی کوئی زمین حاجی امین نے فروخت کی ہے؟کیا چندے سے خریدی گئی زمین کوئی فرد واحد بیچ سکتا ہے۔2000سے 2020تک تمام آمدن اور اخراجات کا حساب لیا جائے۔3۔حاجی امین2020کے عدالتی فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے اس ادارے کی تمام زمین اپنے علاوہ ان 20ٹرسٹیز کے نام کرے جنھوں نے1998سے اس ادارے کیلئے کام کیانمبر4۔کشمیر کونسل ان سے پوچھے کے پچھلے پانچ سال میں انھوں نے النور ویلفئیر ٹرسٹ کے کتنے الیکشن کروائے ہیں اور وہ کیسے صدر بنے ہیں۔نمبر5۔ان پر دو ایف آئی آر درج ہیں،پچاس بار دھمکیاں،نوٹس اور پندرہ بار ادارے میں داخل ہونااور اس کے باوجود ان کو گرفتار نہ کرنا،انتظامیہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہی ہے؟انتظامیہ ہمارے مطالبات پر عمل کروائے۔ہم بھی غیر قانونی کام نہیں کریں گے اور نہ ہی انھیں کوئی غیر قانونی کام کرنے دیں گے۔ایک اہم بات کوئی بھی سیاسی رہنما، کوئی کھڑپینچ یا کوئی وڈیرہ ہمیں دھمکی نہ دے،کوئی فرد واحد ادارے میں نہیں آ سکتا ہے۔ 4جنوری کو کوئی فرد واحد ادارے میں داخل نہ ہو۔کمشنر میرپور،ڈپٹی کمشنر میرپور اور ایس ایس پی میرپور نوٹس لیں اور حاجی امین کو قانون کا پابند کیا جائے۔سیکورٹی ادارے ہمیں تحفظ فراہم کریں۔




