مظفرآباد
بیرون ممالک بیٹھے کچھ عناصر آزادکشمیر میں انارکی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں فاروق حیدر
اسلام اباد(صباح نیوز)سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و سینیئر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر نے کہا ہے کہ بیرون ممالک میں بیٹھے کچھ عناصر آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دکانداروں کا کوئی کام نہیں کہ وہ آزاد کشمیر کے آئینی معاملات میں دخل اندازی کریں اور یہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے تاجر ایکشن کمیٹی ہی تھی۔’آٹے اور بجلی کی قیمتیں کم ہونے پر ایکشن کمیٹی کو پذیرائی ملی‘ نیوز پورٹل وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہاکہ احتجاج کی صورت میں بجلی اور آٹے کی قیمت کم ہونے کے بعد اس جتھے کو عوام میں پذیرائی ملی، انوارالحق لائق آدمی ہیں لیکن وہ ہینڈل نہیں کر سکے، اور انہوں نے ہی ریاست کا بیڑا غرق کیا۔انہوں نے کہاکہ میں نے انوارالحق کو مشورہ دیا تھا کہ معاملات کو کیسے سلجھایا جائے لیکن وہ انجانے خوف کا شکار تھے اور فیصلے کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ فاروق حیدر نے کہا کہ جب نواز شریف پر برا وقت آیا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مجھے ن لیگ چھوڑنے کا کہا لیکن میں نے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ ’عمران خان چاہتے تھے کہ میں مسلم لیگ ن چھوڑ دوں لیکن میں نے کہاکہ ایسا نہیں کرسکتا، پھر سنہ 2021 کے الیکشن میں جب پی ٹی آئی کو جتوا دیا گیا اور ساتھ ہی 5 اگست یوم استحصال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم مظفرآباد آنا تھا تو میں نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر یہاں آئے تو تم رہو گے یا میں رہوں گا‘۔ فاروق حیدر نے کہا کہ مسلم لیگ ن آئندہ عام انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا۔ لاہور میں ہونے والی میٹنگ میں پارٹی صدر نواز شریف نے پارٹی کی تنظیم کے سامنے یہ واضح کیا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کوئی خود کو وزیراعظم کا امیدوار ظاہر کرتا پھرے، اس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ سنہ 2021 کے الیکشن سے قبل جب انتخابی مہم چل رہی تھی تو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چیف الیکشن کمشنر نے اس وقت کے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور کے ریاست میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی لیکن عمران خان اس کے باوجود ان کو لے کر آزاد کشمیر میں گھومتے رہے جو درست عمل نہیں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معروف بزنس مین سردار یاسر الیاس کو آزاد کشمیر کو آئندہ وزیراعظم بنانے سے متعلق کی جانے والی باتیں درست نہیں۔ ’یہ ایسے ہی ہے کہ شام کے وقت آپ مجھے پوچھیں کہ کیا ٹائم ہوا ہے تو میں کہوں کہ (سہ پہر کی بجائے) صبح کے 8 بجے ہیں، وہ تو ابھی تک مسلم لیگ ن میں باضابط شامل ہی نہیں ہوئے۔‘ فاروق حیدر نے کہاکہ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی ہمارے کہنے پر نہیں ہوئی، یہ حساس خطہ ہے، ہم تو 2024 میں ہی سیاسی تبدیلی چاہتے تھے۔انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کے بعد اپوزیشن میں بیٹھنے سے متعلق سوال پر راجا فاروق حیدر نے کہاکہ اتحادی حکومت کا تجربہ کامیاب نہیں رہا، اور چونکہ ہم نے پیپلز پارٹی کے خلاف اگلا الیکشن لڑنا ہے، اس لیے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ مہاجرین مقیم پاکستان کی آزاد کشمیر اسمبلی میں موجود نشستیں ختم کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ 12 لوگ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ان سیٹوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے راجا فاروق حیدر نے کہاکہ ماضی کا ایک وزیراعظم پوچھ رہا تھا کہ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں، لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ کرکے دکھا دیا۔





