چناری‘تاجر اتحاد کے سابق صدارتی امیدوار کا الیکشن میں سیاسی مداخلت کا الزام

ہٹیاں بالا (بیورورپورٹ)چنار تاجر اتحاد،انجمن تاجران چناری کے سابق صدارتی امیدوار پروفیسر میر خالد لطیف امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر محمد مشتاق خان،پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سینئر نائب صدر صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر ایڈووکیٹ اور پی ٹی آئی قیادت پر چناری بازار کے الیکشن میں سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے برس پڑے۔مقامی ہوٹل میں چنار تاجر اتحاد کے حامی تاجروں کے منعقدہ اجلاس میں چیئرمین یونین کونسل گوجر بانڈی غضنفرمغل،مشرف کیانی،راجہ محمد صدیق،مرزا ایاز مغل،سیٹھ آصف مغل،شوکت عباسی،مولوی آفتاب احمد،مولوی خلیل الرحمن،خواجہ خورشید احمد،یاسر خان،امجد خلجی،سید اطاعت کاظمی،عارف رئیسانی،ناہید کیانی،راجہ سعید،سید لیاقت کاظمی،راجہ عبدالوہاب،راجہ ساجد،راجہ عبدالحفیظ خان،راجہ طارق،بابر سلہریا،سید ناظم کاظمی سمیت درجنوں تاجروں نے شرکت اور خطاب کرتے ہوئے میر خالد لطیف کے ساتھ مستقبل میں بھی کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے عزم کا اظہار کیا،سابق صدارتی امیدوار چناری بازار میر خالد لطیف نے مزید کہا کہ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے چناری بازار کے غیور تاجروں کا مشکور ہوں جنہوں نے ہائی لیول سیاسی مخالفت کے باوجود 182 ووٹ دیے،اللہ کے فضل وکرم سے ہمیں جو ووٹ ملا وہ چناری کے غیور،زی شعور تاجروں کا ووٹ تھا،بازاروں کے الیکشن اتنی بڑی اہمیت اختیار نہیں کرتے،نہ جانے کون سی ایسی چیز اس میں شامل تھی کہ چناری کے بازار کے الیکشن کو اہمیت دیتے ہوئے ساری جماعتیں،گروپس اس الیکشن میں کود پڑے،جیسے کہ چناری ایک بہت بڑی جگہ ہے جسے ہر کسی کو فتح کرنا تھا،بازار اور تاجروں کا الیکشن تھا اس میں سیاسی جماعتوں کا کردار نہیں ہونا چاہیے تھا،سیاسی جماعتوں کا کردار قابل افسوس اور قابل مذمت ہے، میں خود بھی ایک سیاسی جماعت کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ممبر ہوں لیکن ہم نے کبھی بھی بازار کے اندر کسی بھی سطح پر سیاست کو ترجیع نہیں دی،بازار کو بازار رکھا اور سیاست کو اس سے دور رکھا،مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے جماعت اسلامی خیرات اور زکوۃ اکھٹی کر کے غریبوں اور بیواؤں کو دینے کی بات کرتی ہے لیکن چناری بازار کے الیکشن میں جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ اگر ہمارا پینل313 جیت گیا تو ہم ستر لاکھ کا فلٹریشن پلانٹ چناری کو دیں گے،انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے اعلان سے پہلے ہم نے ڈگری کالج گراؤنڈ چناری میں ڈیڑھ کروڑ مالیت کا واٹر فلٹریشن پلانٹ لگوا دیا ہے جس کا جلد افتتاح ہو جائے گا،جماعت اسلامی کے ڈونرز سے گزارش کرتا ہوں کہ اس بات کا نوٹس لیں کہ آپ یہ پیسہ غریبوں،بیواؤں اور یتیموں کی خدمت کے لیے دیتے ہیں یا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دیا جاتا ہے،اس پیسے کا تعلق چناری بازار کے الیکشن سے کیا تھا؟غریبوں کے نام پر حاصل کیے گئے چندہ سے چناری کے تاجروں کے ضمیروں کو خریدنے کی ناکام کوشش کی مذمت کرتا ہوں،پی ٹی آئی نے بھی چناری بازار کے الیکشن میں مداخلت کی کوئی ان سے پوچھے کہ آپکا کیا کام تھا؟پی ٹی آئی کا کردار بھی قابل مذمت ہے،پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ ہماری صفوں میں رہے جنہیں ہم ہمیشہ عزت دیتے رہے وہ اشتہاری ثابت ہوئے وہ نقب لگانے کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھے رہے انھیں شرم آنی چاہیے تھی یا تو وہ ہماری محفل میں بیٹھتے اور یا الیکشن جیتنے کے بعد ایسی غیر اخلاقی تقاریر نہ کرتے،ایسے دوغلے لوگوں کی تقاریر بھی تاجروں اور عوام کے سامنے ہیں،پیپلز پارٹی رہنماء صاحبزادہ اشفاق ظفر نے بیان دیا کہ میں نے چناری بازار کے الیکشن میں جہاز اڑایا،انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ کل تک میں اکیلا تھا اب میرے ساتھ اللہ کے فضل سے چناری کے باشعور،باغیرت 182 تاجر ہیں،ان شاء اللہ آمدہ الیکشن میں یہ تاجر اپنے اپنے پولنگ سٹیشن پر ان ساری سیاسی جماعتوں سے ایک ایک بات کا بدلہ لیں گے،ان شاء اللہ آمدہ الیکشن میں یہ ثابت کریں کے 182 تاجر جو میرے ساتھ کھڑے ہیں وہ پھر جہاز نہیں ایف سولہ اڑائیں گے،یہ سیاست دان یاد رکھیں چناری کے تاجروں کا یہ حساب کتاب باقی ہے ہم اتنے کمزور نہیں ہیں کل آپ کی باری تھی 2026 ء میں اب ہماری باری ہو گی،آج تک ہم نے شرافت کی سیاست کی ہے اس کے بعد بھی شرافت کی سیاست کرتے رہیں گے،چناری الیکشن جیتنے کے بعد جو اخلاقی گراوٹ دیکھی گئی میں اس اخلاقی گراوٹ کی بھی بھر پور مذمت کرتا ہوں،182 تاجر جو میرے ساتھ گندھے سے گندھا ملا کر کھڑے رہے ان کی جرت،عظمت اور بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں ان تاجروں کی خاطر خون کا آخری قطرہ بھی دینا پڑا تو دریغ نہیں کروں گا،آئندہ بھی چناری بازار کا الیکشن ہوتا رہے گا ہم اس میدان میں کھڑے ہیں ہمیشہ کھڑے رہیں گے اس میدان کو خالی نہیں چھوڑیں گے،




