شب معراج النبی ؐ پر ریاست بھر میں روح پروراجتماعات

اسلام آباد/مظفرآباد‘ ملک بھر کی طرح آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شبِ معراج النبی ﷺ نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ 27 رجب المرجب کی یہ بابرکت رات جمعتہ المبارک کے ساتھ منسوب ہونے کے باعث اہلِ ایمان کے لیے مزید روحانی فیوض و برکات کا ذریعہ بنی۔مساجد، مدارس، خانقاہوں اور مذہبی مراکز کو دیدہ زیب روشنیوں اور آرائشی قمقموں سے سجایا گیا، جہاں لاکھوں فرزندانِ اسلام نے خصوصی عبادات، نوافل، تلاوتِ قرآن پاک، درود و سلام، ذکر و اذکار، محافلِ میلاد اور نعت خوانی کی محافل میں شرکت کی۔ مساجد میں ساری رات ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے اور ہر طرف اللہ اکبر اور درودِ پاک کی صدائیں گونجتی رہیں۔ مظفرآباد میں جامع خادم الحرمین الشریفین مرکزی عیدگاہ میں شبِ معراج کا سب سے بڑا اجتماع منعقد ہوا جہاں ہزاروں افراد نے اجتماعی عبادات میں حصہ لیا۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں درگاہ حضرت بل سرینگر میں سب سے بڑا روحانی اجتماع منعقد ہوا، جہاں کشمیری مسلمانوں نے سخت پابندیوں کے باوجود عشقِ رسول ﷺ کا بھرپور اظہار کیا۔ علمائے کرام اور مشائخِ عظام نے اپنے خطابات میں واقع? معراج کی تاریخی، روحانی اور عملی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مظفرآباد کی جامع مسجد امم عظم ابو حنیفہ بازار والی، جامع مسجد غوث الاعظم کٹہ والی، جامع مسجد حنفیہنقدیمی حمام والی، مسجد دربار عالیہ سائیں سخی سہیلی سرکار، مسجد دربار عالیہ سخی پیر علاو الدین گیلانی، مسجد دربار عالیہ شاہ عنائت ولی بادشاہ سرکار، جامع مسجد غوثیہ طارق آباد میں بزم رضا کے زیراہتمام محافل کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ معراج النبی ﷺ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم الشان واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ اور پھر ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی اور اپنے قربِ خاص سے نوازا۔ علمائے کرام نے اس سفرِ معراج کو ایمان کی معراج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک معجزہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت، صبر، استقامت اور اللہ پر کامل یقین کا عظیم پیغام ہے۔



