کالمز

عائشہ قذافی بنام ایرانی عوام

ایران میں جین زی کے جذبات اور ضروریات مسائل اور خواہشات ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔نئی نسل کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو نظام کے اندر نہ سمونے اور اس کے جذبات کے ساتھ ہم آہنگ نہ کرنے کی روش نے ایرانی نظام کو بار بار یہ دن دکھلائے ہیں کہ ہر سال دو سال بعد وہاں عوام باہر نکل آتے ہیں اور مدتوں سے ایران میں رجیم چینج کے خواہش مند گدھ بن کر حالات کے اوپر منڈلانے لگتے ہیں۔ایران میں حکومت اور نظام پر علما کا غلبہ ہے اور علماء خبطِ عظمت کی روایتی عادت کے باعث نئی نسل کی آوازوں کو سننے اور ان پر دھیان دینے سے گریز کرتی ہے۔یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ایران عالمی قوتوں کے نشانے پر ہے وہ اس پہلو سے غافل ہوجاتے ہیں۔اس بار تو ایران میں رجیم چینج کا پکا بندوبست کر لیا گیا تھا۔رجیم چینج کا یہ سٹائل نیا نہیں ماضی میں کئی ملکوں میں یہ انداز اپنا کر امریکہ نے ناپسندیدہ چہروں سے نجات حاصل کی ہے۔رضاپہلوی ایران کے لئے مغرب کا مستقل پوسٹر بوائے ہیں۔جونہی ایران میں نئی نسل بے چین ہو کر سڑکوں کا رخ کرتی ہے تو یہ پوسٹر بوائے چابی والے کھلونے کی طرح بولنے لگتا ہے۔کبھی دیوار گریہ پر ماتھا ٹیکتے ہوئے تو کبھی کتے اُٹھائے اس کی تصویریں منظر عام پر آتی ہیں۔کسی انٹرویو میں وہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کو سند جواز عطا کر تا ہے تو کہیں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور کہیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی یقین دہانیاں کراتا پھرتا ہے۔یوں پچھلے چند برسوں سے ایران میں بے چینی کی اُٹھنے والی ہر لہر کے دوران متبادل قیادت کے طور رضاپہلوی ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔اس سب کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ یہ گنجائش رکھتے ہیں کہ ایران میں حکومت تو بدل جائے گی مگر ایران کے عوام رضاپہلوی کو قبول کرتے ہیں یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔گویاکہ ٹرمپ اپنا سب کچھ رضا پہلوی جیسے غیر مقبول کردار کے لئے داؤ پر نہیں لگانا چاہتے۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایرانی عوام کو دکھایا تو رضاپہلوی جارہاہومگر اندر سے کچھ اور ہی برآمد ہو۔مغرب اس طرح کا ہاتھ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ اور مصر کے راہنما محمد البرادی کے ساتھ کر چکا ہے۔امریکہ اور ناٹو نے افغانستان میں بمباری کرکے ملا عمر کی حکومت ختم کی تو جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ظاہر شاہ برسوں سے اس امید پر جی رہے تھے کہ جب افغان مجاہدین کامیاب ہوں گے تو امریکہ مجاہدین کی وضع قطع اور ذہنی سوچ ساخت کے باعث انہیں حکمران کے طور پر قبول نہیں کرے گا اور یوں قرعہ ء فال خود ان کے نام نکلے گا۔افغانستان میں رجیم چینج ہوئی تو ظاہر شاہ کو جرمنی کے ڈیپ فریزر سے نکال کر واپس تو لایا گیا مگر وہ کسی عجائب خانے میں پڑی نادر ونایاب شے بن کر رہے اور افغانستان پر حکمرانی کا قرعہ حامد کرزئی کے نام نکلا۔اسی طرح مصر میں محمد مرسی کے خلاف رجیم چینج مہم کا پوسٹر بوائے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نمائندے محمد البرادی تھے۔محمد البرادی نے خود کو متبادل حکمران کے طور پر پیش کرکے محمد مرسی کے خلاف ایک منظم مہم کی بظاہر قیادت کی۔محمد البرادی وہی شًخصیت تھی جو امریکہ کے اشارے پر ہر دوسرے روز عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش کے نام پر بغداد میں آدھمکتے تھے۔محمد مرسی کی حکومت کا تختہ تو اُلٹا دیا گیا مگر اقتدار کاہما البرادی کے کندھے پر بھی نہ بیٹھا اور پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے کرداروں نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ایران میں رجیم چینج ہوبھی جاتی تو عین ممکن تھا کہ یہی کچھ رضا پہلوی کے ساتھ بھی ہوتا۔ایران میں انسانی حقوق جمہوریت،آزادیء اظہار خواتین کے حقوق کی باتوں نے مغرب کی کئی تضادبھری کہانیاں یادوں کی لوح پر تازہ کردیں۔جناب ِ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو سن کر لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی صاحبزادی عائشہ قذافی کی یادوں کے زخم بھی ہرے ہوئے۔انہوں نے ایرانی عوام کے نام ایک کھلے خط کی صورت میں اپنے بھیانک مشاہدات اور تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔ان کے والد معر قذافی جو مدتوں تک امریکہ کے ساتھ ایک کشمکش کی کیفیت میں رہے کس طرح مغرب کے دام ِ فریب کا شکار ہو کر تخت وتاج سے ہی نہیں اپنی زندگی سے بھی محروم ہوئے۔عائشہ قذافی بحرین میں جلاوطنی کے دن گزار رہی ہیں۔ایرانی عوام کے نام اپنے خط میں انہوں نے امریکہ کی منافقانہ حکمت عملی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوں ہمت اور آزادی پرنثار ہونے والے ایرانی عوام کے نام؛اس حال میں کہ دل تباہی غم اور دکھ سے بوجھل ہے۔اے اہل ایران میں آپ سے مخاطب ہوں۔میں ایک دکھوں کی ماری کھلے دشمنوں نہیں،جس کے وطن کو مغربی ملکوں نے مسکراہٹوں اوروعدوں سے تباہ کر ڈالا۔آپ کو میں انتباہ کرتی ہوں کہ مغربی ملکوں کے دل فریب وعدوں میں نہ آنا۔میرے والد گرامی معمر قذافی سے انہوں نے کہا تھا اگر آپ اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو محدود اور ترک کریں گے تو ہم کھلے بازوؤں سے آپ کا خیر مقدم کریں گے۔مکالمے اور خیر سگالی کے آرزومند میرے والدنے ان پر اعتماد کر لیااور پھر ہم نے بمبار طیاروں سے اپنے وطن کی خاک اُڑتے دیکھی۔لیبیا خون میں نہلایااس کے بیٹے اور بیٹیاں جلاوطن ہوئے بھوکے رہے اور انہیں کھنڈرات نصیب ہوئے۔اے میرے ایرانی بھائیواور بہنو مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے ہنگام آپ کی شجاعت اور صبر وہمت آپ کی آزادی اور قومی وقارسے حقیقی محبت کے مظہر ہیں۔دشمن کو رعائت دینے کا مطلب ہے تقسیم تباہی اور اذیت۔بھیڑیوں سے بات چیت امن عطا نہیں کرتی۔بس تھوڑی سی مہلت اور اس کے بعد المناک موت۔عائشہ قذافی کے والد معمر قذافی اور ان کے شوہر کو ان کے سامنے قتل کیا گیا تھا اور انہیں ایک بچے کے ساتھ کسمپرسی کے عالم میں ترکی میں پناہ لینا پڑی تھی۔مغرب کی پالیسیوں ان کے تزویراتی پھندوں پر بھروسہ کرنے والے سب حکمرانوں کے لئے اس پیغام میں ایک سبق ہے۔اسی طرح ایران خواتین کے حقوق کی خاطر ہلکان ہونے والے مغربی اداروں اور حکمرانوں کے بارے میں فاطمہ بھٹو کا ایک تبصرہ ٹویٹر پر وائرل ہے جس میں وہ کہتی ہیں جو لوگ ایران میں عورتوں سے حجاب اُتارنے کے لئے احتجاجی مظاہرے منعقد کرتے ہیں مگرجب وہ غزہ کی عورتوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں تو میں انہیں فیمنسٹ نہیں پروپیگنڈسٹ کہتی ہوں۔

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button