اشرافیہ — ایک فکری و سماجی تجزیہ

لفظ اشرافیہ ہماری روزمرہ سیاسی اور سماجی گفتگو میں کثرت سے استعمال ہو رہا ہے، مگر شاذ ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ لفظ اپنے لغوی مفہوم میں کیا معنی رکھتا ہے اور عملی زندگی میں اس کی حقیقی صورت کیا بن چکی ہے۔آزاد کشمیر میں گزشتہ تقریباً دو برس سے یہ لفظ خاص طور پر زبان زدِ عام ہے، جو عموماً سیاسی و حکومتی مقتدرہ اور بااختیار سرکاری ملازمین کی مراعات اور سہولتوں کے خلاف ملامت کے اظہار اور ان کے خاتمے کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔کسی بھی معاشرے کی فکری سمت اس امر سے متعین ہوتی ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے اور علم کن ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ اسی تناظر میں اشرافیہ محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک پورے سماجی رویے، طاقت کے نظام اور فکری ساخت کا نام ہے۔لغوی اعتبار سے اشرافیہ کا تصور کردار، علم، خدمت اور شرافت سے وابستہ تھا۔ یعنی وہ افراد جو اپنی اخلاقی برتری، دیانت، دانش اور عوامی خدمت کی بنیاد پر معاشرے میں ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ مگر تاریخ کے سفر میں، خصوصاً برصغیر میں نوآبادیاتی نظام کے بعد، اس لفظ کے مفہوم میں بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ اب جائز و ناجائز دولت، اقتدار، سیاسی و سرکاری عہدے، اور سماجی اثر و رسوخ کی آڑ میں نفع و نقصان پہنچانے والے طبقے کو اشرافیہ کہا جانے لگا۔
لفظ اشرافیہ عربی مادہ“شرف”سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی بلندی، بزرگی، اخلاقی فضیلت اور ذمہ داری کے ہیں۔
علمی اصطلاح میں اشرافیہ اس طبقے کو کہا جاتا ہے جو معاشرے میں رہنمائی، فیصلہ سازی اور اقدار کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرے۔
یعنی اشرافیہ کا اصل معیار دولت یا نسب نہیں بلکہ علم، کردار، خدمت اور جوابدہی ہے۔
اب ہمارے معاشرے میں علمی اشرافیہ کے بجا ئے یا اس کے علاوہ چند نمایاں اقسام تسلیم کر لی گئی ہیں:
• سیاسی اشرافیہ: حکمران، وزراء، اعلیٰ بیوروکریسی
• معاشی اشرافیہ: بڑے سرمایہ دار، صنعت کار، جاگیردار
• سماجی اشرافیہ: بااثر خاندان، قبائلی سردار
• علمی اشرافیہ: ممتاز دانشور، جج، اعلیٰ تعلیمی و فکری شخصیات
• فوجی اشرافیہ: اعلیٰ فوجی قیادت
انگریزی میں اشرافیہ کے لیے Elite کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں اس کی مختصر تعریف یوں کی گئی ہے:
?“Most powerful, best-educated, or wealthiest segments of society that control key institutions and exert significant influence over others.”
جدید ریاستی اور نوآبادیاتی اثرات کے تحت یہ تصور مزید الٹ گیا۔ برصغیر میں اشرافیہ وہ قرار پائی جو اقتدار کے قریب ہو، وسائل پر قابض ہو اور اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے۔
یوں علم کی جگہ طاقت، کردار کی جگہ وفاداری، اور خدمت کی جگہ مراعات نے لے لی۔
فی زمانہ اشرافیہ سے مراد وہ محدود طبقہ ہے جو:
• اقتدار کے مراکز تک مستقل رسائی رکھتا ہو
• ریاستی وسائل، زمین، نوکریوں، ٹھیکوں اور مراعات پر اثرانداز ہوتا ہو
• قانون سازی، پالیسی اور فیصلوں کو اپنے مفاد کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو
اس طبقے میں عموماً اراکینِ اسمبلی اور حکومتی عہدیداران ہی ہونے چاھئیں جو قانون سازی اور نظم و نسق کی مالک ہوتے ہیں باقی سب سرکاری عہدے اس کے پیداوار ہیں لیکن ان سے جڑے طاقتور سیاست دان اور ان کے خاندان، اعلیٰ سول و فوجی بیوروکریسی، سرمایہ دار، کنٹریکٹرز، مخصوص بااثر خاندانی و برادری گروہ، بڑے دینی مدارس کے منتظمین، خانقاہی نظام کے حامل افراد، صحافتی ادارے اور بار ایسوسی ایشنز شامل ہو جاتے ہیں۔اگرچہ اعلیٰ سول و فوجی بیوروکریسی ریاست کے ملازم ہوتے ہیں اور قانون کے تحت تنخواہ، سہولتوں اور مراعات کے ساتھ حکومت تعینات کرتی ہے اور اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کے تحت کام کرتے ہیں جو ساری دنیا میں ہوتا ہے، اس کے باوجود عوامی اہمیت کے حامل عہدوں پر فائز ہونے کے باعث انہیں بھی اشرافیہ کے دائرے میں شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ حکومت اپنے اختیارات ان کے زریعہ استعمال کرتی ہے اور اس میں معاون کا کردار بھی ادا کرتی ہے- میری فکر کے مطابق ہر وہ فرد یا افراد کا مجموعہ جو حکومت اور معاشرے کی سوچ، پالیسی اور فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو، اشرافیہ کی تعریف میں آتا ہے۔آزاد کشمیر جیسے حساس اور متنازع خطے میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، جہاں اشرافیہ اکثر اقتدار کو خدمت کے بجائے حقِ ملکیت سمجھنے لگتی ہے، اور عوام کو محض انتخابی اعداد و شمار تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لفظ اشرافیہ، اپنے لغوی حسن کے باوجود، عوامی شعور میں طاقت کے ارتکاز، ناانصافی اور عدم مساوات کی علامت بن چکا ہے۔آزاد کشمیر میں دیگر طبقات کے علاوہ برادری اور برادریوں کے گٹھ جوڑ اشرافیہ کی ایک مضبوط صورت اختیار کر چکے ہیں، جو روپ بدل بدل کر سرکاری رعایات اور مراعات کو اپنی خاندانی وراثت سمجھتے ہیں۔ یہ مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم ضرور ہیں، مگر اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کو مذہبی فریضہ سمجھ کر بلا امتیاز ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔
اقتدار کی سیاست کرنے والوں اور سرکاری عہدوں پر فائز حکام کے درمیان مکمل گٹھ جوڑ پایا جاتا ہے۔ فیصلے عوامی مفاد کے بجائے گروہی اور برادری مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ سیاست، نمائندگی اور فیصلہ سازی حقیقی عوامی مینڈیٹ کے بجائے بند کمروں میں طے پاتی ہے۔
نوکریاں، ترقیاتی فنڈز اور صوابدیدی اختیارات سیاسی وفاداری سے مشروط ہیں۔ نتیجتاً عام شہری اپنے ہی خطے میں خود کو کمزور، غیر محفوظ اور بے اثر محسوس کرتا ہے، اور اپنے سے بالا ہر شخص کو اشرافیہ کے نام سے مطعون کرنے لگتا ہے۔میرے نزدیک اصل مسئلہ اشرافیہ کا وجود نہیں، بلکہ اشرافیہ کا جوابدہی سے بالا تر ہونا، ریاستی ڈھانچے کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا، عوام اور فیصلہ سازی کے درمیان وسیع خلیج، اور آئین و قانون کے اطلاق کا پیچیدہ نظام ہے۔ ان حالات میں ریاست عوام کے بجائے اشرافیہ کے گرد گھومنے لگتی ہے، جمہوریت محض ایک نام اور انصاف ایک وعدہ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس صورتحال سے تین اہم طبقات براہِ راست متاثر ہوتے ہیں:
عوام:اکثریت میں ہونے کے باوجود ریاستی فیصلوں کے اثرات تو برداشت کرتی ہے مگر ان میں شریک نہیں ہوتی۔ ٹیکس دیتی ہے، ووٹ ڈالتی ہے، مگر اختیار سے محروم رہتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، انصاف میں تاخیر اور عدم مساوات کا بوجھ اسی کے کندھوں پر ہوتا ہے۔
اصلاح پسند تنظیمیں:عوامی ایکشن کمیٹی جیسی تحریکیں اسی عدم توازن کے ردعمل میں جنم لیتی ہیں۔ ان کا کام محض احتجاج نہیں بلکہ سوال اٹھانا، میرٹ کو بیانیہ بنانا، شفافیت کو مطالبہ اور جوابدہی کو روایت بنانا ہے۔ اداروں کو آئین کے مطابق چلنے کی یاددہانی کرانا، اور بدعنوان عناصر کو بے نقاب کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
نوجوان:سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ نوجوان ہے۔ آج کا نوجوان تعلیم یافتہ، باشعور اور سوال اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس کے سامنے دروازے بند ہیں —نوکری میں سفارش، سیاست میں وراثت، اور انصاف میں تاخیر۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اشرافیہ کا مقابلہ گالی سے نہیں بلکہ علم، تنظیم اور کردار سے ہوتا ہے۔ اشرافیہ کا خاتمہ حل نہیں، اشرافیہ کی اصلاح حل ہے۔
اشرافیہ وہ قیادت ہے جو قانون سے بالا تر نہیں بلکہ قانون کے سامنے جواب دہ ہو، جو طاقت نہیں بلکہ اعتماد کی علامت ہو، اور جو احتساب کے لیے سب سے پہلے خود کو پیش کرے۔
دنیا کی ہر بڑی تبدیلی اسی وقت آئی جب نوجوانوں نے“طاقتور”کے بجائے“درست”کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
جب نوجوان خاموش تماشائی کے بجائے باشعور معمار بن جائیں، تب اشرافیہ لفظی معنی میں بھی اور عملی حقیقت میں بھی دوبارہ“شریف”ہو سکتی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی کالم کو
• اخباری صفح? اول کے معیار کے مطابق مزید نکھار سکتا ہوں،
• یا نوجوانوں کے لیے مختصر مگر تیز بیانیے میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔
دئے ہے-ہمارے ملک میں 70% نوجوان ہیں جن میں سے اکثر تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا نے باشعور بھی بنا دیے ہیں، دنیا کی ہر بڑی تبدیلی اسی وقت آئی جب نوجوانوں نے طاقت ورنہیں بلکہ“درست”کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔اسی طرح محض احتجاج نہیں بلکہ،، ہے –
جب علم اختیار پر غالب آ جائے، جب کردار نسب سے بڑا بن جائے، اور جب نوجوان خاموش تماشائی کے بجائے باشعور معمار بن جائیں — تب اشرافیہ لفظی معنی میں بھیاور عملی حقیقت میں بھی دوبارہ“شریف”بن سکتی ہے –
اگر ہماری اشرافیہ آنکھوں دیکھی اور شعوری طور محسوس کی جاتی ہوء نا انصافی کا عوامی تحریک اور مطالبہ کے باوجود ازالہ نہیں کر سکتی تو اس کے ردعمل میں بنگلہ دیش، نیپال، بھو ٹان، سری لنکا، عراق، شام وغیرہ میں اشرافیہ کا حشر دیکھ لیں – اس کا ادراک کریں –




