محکمہ برقیات کا ایک اور عارضی ملازم اشتیاق میر زندگی کی بازی ہار گیا

مظفرآباد (خبر نگار خصوصی) محکمہ برقیات کا ایک اور عارضی ملازم محمد اشتیاق میر مستقلی کے انتظار میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ 22 سال مستقلی کے لیے احتجاج کرتا رہا لیکن محکمہ کی بیوروکریسی کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ڈیوٹی انجام دتیا رہا کئی کئی ماہ تنخواہ سے بھی محروم رکھا گیا گرمی ہو یا بارش سردی بجلی پول پر چڑھ کر عوام کو بجلی کی سہولت فراہم کرنے والا تاریں کھینچتے ہوئے گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو کر اشتیاق میر اپنے بچوں کو خدا کے حوالے کر گیا اب ان کا کون سہارا بنے گا۔ سوالیہ نشان ہے محمد اشتیاق میر کے بچوں نے مرحوم والد کی نعش ایمبولینس میں رکھ کر مرکزی ایوان صحافت کے باہر احتجاج کیا اور والد کی موت کا ذمہ دار محکمہ برقیات کی بیورو کریسی کو قرار دیا۔ محمد اشتیاق میر مرحوم کے بیٹے حمزہ اشتیاق نے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور محکمہ برقیات کی بیوروکریسی سے اپیل کی کہ میرے والد محترم کوطفل تسلیاں دی گئیں لیکن مستقل نہیں کیا گیا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے اس موقع پر محکمہ برقیات کے آفیسران احتشام خضر قریشی، محسن میر، ضلعی انتظامیہ، ایس ایس پی ریاض حیدر بخاری، اسسٹنٹ کمشنر حماد بشیر، ڈی ایس پی پرویز حمید، ڈی ایس پی راجہ فیصل شفیق موقع پر پہنچ گئے اور اشتیاق میر مرحوم کے خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور انہیں یقین دلایا کہ جلد ہی اشتیاق میر کے بقایا جات ادا کر دیے جائیں گے اور محکمہ برقیات کے 8 عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔




