مظفرآباد
یونائٹیڈ ڈاکٹر فورم نے 26جنوری سے ریاست گیر ہڑتال کا اعلان کردیا
مظفرآباد(محاسب نیوز)یونائیڈ ڈ ڈاکٹر فورم نے 26 جنوری سے آزاد کشمیر بھر میں ہڑتال کی کال دے دی۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) آزاد کشمیر کے صدر/چیئرمین ڈاکٹر واجد، وائس چیئرمین ڈاکٹر وقار بٹ، ڈاکٹر ارشد راجہ، ڈاکٹر بشارت، ڈاکٹر عامر اکرم، ڈاکٹر امتیاز اور ڈاکٹر بلال احمد نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ڈاکٹرز کے جائز اور دیرینہ مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو 26 جنوری سے آزاد کشمیر بھر میں احتجاجی ہڑتال کا آغاز کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے ڈاکٹرز طویل عرصے سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں اور اپنے مطالبات کے حل کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم استعمال کر چکے ہیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھائے جا رہے ہیں اور فیصلے آگے بڑھنے کے بجائے مسلسل پیچھے کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔محکمہ صحت میں پروموشن کا پورا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ 2019 سے پروموشن کیسز التواء کا شکار ہیں، جس کے باعث متعدد ڈاکٹرز بغیر پروموشن ریٹائر ہو چکے ہیں۔ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی گزشتہ تین سال سے ایک بھی مؤثر اجلاس منعقد نہیں کر سکی، جو بدانتظامی اور نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں مستقل ڈی جی ہیلتھ کی عدم تعیناتی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اضافی چارج کے ذریعے محکمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر مستقل ڈی جی تعینات نہ کیا گیا تو ڈاکٹرز بطور بڑے اسٹیک ہولڈر اس فیصلے کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ڈاکٹرز نے سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود جون 2022 سے واجب الادا مالی حقوق اور الاونسز کی عدم ادائیگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فروری 2025 میں جاری ہونے والا نوٹیفکیشن عدالتی فیصلے کے برعکس ہے اور ڈاکٹرز کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات اور جدید آلات کی شدید کمی ہے۔ 2009 میں نصب کیے گئے طبی آلات آج 2025 میں بھی استعمال ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ اپنی معیاد پوری کر چکے ہیں۔ پورے آزاد کشمیر میں صرف ایک ایم آر آئی مشین ہونا انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔میڈیکل کالجز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرنسپل جیسے اہم اور ذمہ دار عہدے کو بے اختیار بنا دیا گیا ہے، میڈیکل کالجز کی عمارتیں خستہ حال ہیں، جبکہ میرپور میڈیکل کالج کے پی سی ون کے باوجود تعمیراتی کام کی رفتار نہایت سست ہے، جس سے تعلیمی معیار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں خواتین ڈاکٹرز اور طبی عملے کو درپیش سیکیورٹی خدشات، فزیکل تشدد، یکطرفہ انکوائریوں اور پولیس کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر واقعے میں صرف ڈاکٹرز کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔پی ایس ٹی اور کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہ ہونے، طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کو مستقل نہ کرنے اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے فوری ریگولر بھرتیوں کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔ہیلتھ کارڈ پالیسی کے حوالے سے پی ایم اے رہنماؤں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، مگر پالیسی سازی میں ڈاکٹرز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ بغیر کیٹیگرائزیشن نجی ہسپتالوں کو شامل کرنا قومی خزانے پر بوجھ اور عوامی پیسے کا ضیاع ہے۔ ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کے لیے رہائشی سہولیات کی شدید کمی، دور دراز علاقوں میں تعینات ڈاکٹرز کے لیے مراعات اور انسینٹو پیکجز پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی سخت احتجاج کیا۔ پی ایم اے نے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ26 جنوری سے آزاد کشمیر بھر میں دو گھنٹے کی اوپن سٹرائیک شروع کی جائے گی جو دو ہفتے تک جاری رہے گی۔اس دوران او پی ڈی مکمل طور پر بند رہے گی، صرف ایمرجنسی سروسز فراہم کی جائیں گی۔حکومت کو دو فروری تک کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں مکمل ہسپتال بند کر دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر بھر سے 1200 سے زائد ڈاکٹرز اس ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں گے۔ پی ایم اے نے وزیر اعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت عامہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ڈاکٹرز کے مسائل حل کر کے محکمہ صحت میں گڈ گورننس کا عملی ثبوت دیا جائے۔



