کالمزمظفرآباد

سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فل بینچ کا تاریخی فیصلہ

، تحریر۔ محمد شبیر اعوان

چیف جسٹس جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان سینیئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس چوہدری خالد یوسف پر مشتمل سپریم کورٹ کے فل بینچ نے جس وضاحت اور قانونی بصیرت کے ساتھ فوڈ اتھارٹی، انتظامیہ اور مضرِ صحت خوراک کے کاروبار سے جڑے مافیا کو بے نقاب کیا ہے، وہ آزاد جموں و کشمیر کی عدالتی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ فیصلہ اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ جس ادارے کو عوام کی صحت کے تحفظ کا نگہبان بنایا گیا تھا، وہی ادارہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہی نہیں بلکہ بعض مقامات پر ملی بھگت کا تاثر بھی دیتا نظر آیا۔ عدالت کے سامنے پیش کی گئی میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کی رپورٹ نے واضح کر دیا کہ غیر معیاری، غیر تصدیق شدہ اور مضرِ صحت فروزن گوشت و دودھ کس طرح شہریوں کی صحت سے کھلواڑ بن چکا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں نہایت دو ٹوک انداز میں قرار دیا کہ یہ معاملہ محض انتظامی کمزوری یا عدالتی صوابدید کا نہیں بلکہ ریاست کے شہریوں کے بنیادی حق — صحت کے حق — سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں کسی سرکاری افسر کا خود کو“عدالت کے رحم و کرم”پر چھوڑ دینا قانوناً اور اخلاقاً کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ بااثر کاروباری عناصر نے عدالتی نظام کو ڈھال بناتے ہوئے حکمِ امتناعی حاصل کیے اور ان کی آڑ میں غیر معیاری خوراک کی فروخت جاری رکھی۔ عدالت نے اس رجحان کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ تمام عبوری احکامات منسوخ کر کے ایک واضح پیغام دیا کہ قانون کو کاروباری مفادات کے لیے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے فوڈ اتھارٹی کی ناکامی کی جو وجوہات بیان کیں، وہ ہمارے مجموعی گورننس ماڈل پر سوالیہ نشان ہیں۔ غیر تربیت یافتہ افسران، غیر مؤثر اور غیر معیاری لیبارٹریاں، موبائل فوڈ لیبارٹریوں پر خرچ کی گئی خطیر رقوم، اور فرنچائز فوڈ بزنس پر ناقص ریگولیٹری کنٹرول—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ادارے بن تو گئے، مگر ادارہ سازی نہ ہو سکی۔
عدالت کا یہ حکم کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ماڈل پر اہل، تربیت یافتہ اور پیشہ ور افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ ڈھانچہ عوامی صحت کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہے۔ اسی طرح میونسپل مجسٹریٹس کے اختیارات محدود کیے جانے پر عدالت کی تشویش اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ قانون سازی اگر زمینی حقائق سے کٹ جائے تو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
فیصلے کا ایک نہایت مثبت پہلو یہ ہے کہ ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف کارروائی کے بعد مقامی سطح پر ڈیری فارمز کو فروغ ملا ہے۔ یومیہ 23 ہزار لیٹر دودھ کی مقامی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاست درست سمت میں قدم اٹھائے تو نہ صرف صحت کا تحفظ ممکن ہے بلکہ مقامی معیشت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ فیصلہ دراصل ایک آئینہ ہے—انتظامیہ کے لیے، قانون سازوں کے لیے اور ریاستی اداروں کے لیے۔ اب اصل امتحان عدالتی حکم جاری ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر ان احکامات پر من و عن عمل درآمد ہو گیا تو یہ فیصلہ عوامی صحت کے تحفظ کی ایک مثال بن جائے گا، اور اگر روایتی تاخیری حربے اختیار کیے گئے تو یہ ایک اور فائل بن کر رہ جائے گا۔
سپریم کورٹ نے اپنا آئینی کردار ادا کر دیا ہے۔ اب گیند حکومت، انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کے کورٹ میں ہے۔ عوام کی صحت پر سمجھوتہ نہ آئین کی اجازت دیتا ہے، نہ قانون، اور نہ ہی اب عدالت۔
یہ فیصلہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی اصل طاقت شہریوں کی صحت، تحفظ اور اعتماد میں ہوتی ہے۔

Related Articles

Back to top button