مظفرآباد

آزاد کشمیر میں سگریٹ کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کیلئے مؤثر نگرانی کافیصلہ

میرپور (پی آئی ڈی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اسلام آباد ہیڈکوارٹرز میں ایک جامع اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر میں قائم سگریٹ ساز کمپنیوں پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (TTS) کے نفاذ سے متعلق اہم پالیسی، انتظامی اور تکنیکی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا گیا، جس کے دوران اس کے حوالے سے نمایاں اور مثبت پیش رفت سامنے آئی۔ترجمان محکمہ ان لینڈ ریوینیو کے مطابق اجلاس میں حکومت آزاد جموں وکشمیر کی جانب سے کمشنر انلینڈ ریونیو (ساؤتھ زون)سید انصرعلی اور ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو نے سید علی اصغرنے شرکت کی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (TTS) جاوید اقبال تارڑاور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مسٹر خالد نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مختلف پہلوؤں کو سنجیدگی سے زیر غور لایا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سگریٹ کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر نگرانی میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم جاوید اقبال تارڑنے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ایک جدید، مربوط اور شفاف نظام ہے، جس کے ذریعے سگریٹ مصنوعات کی ریئل ٹائم بنیادوں پر الیکٹرانک مانیٹرنگ اور ویجیلنس ممکن بنائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظام کے نفاذ سے نہ صرف ٹیکس وصولیوں میں شفافیت اور اضافہ ہوگا بلکہ غیر قانونی پیداوار، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی مؤثر روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی۔ ایف بی آر کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات کے دوران ایک ایگریڈ ڈرافٹ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ ڈرافٹ آزاد جموں وکشمیر کے سگریٹ ساز کمپنیوں کے نمائندگان کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں ان کی باہمی مشاورت اور رضامندی (کنسنٹ) کے بعد شیئر کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ساتھ بھی زیر غور لایا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایگریڈ ڈرافٹ کو تمام پہلوؤں سے مناسب طور پر کنسیڈر کیا جائے گا اور حتمی جانچ پڑتال کے بعد اسے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی منظوری کے لیے بھجوا دیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مثبت اور عملی پیش رفت ہو چکی ہے۔اجلاس میں اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے لیے مجوزہ لائسنس کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ ادارے اتھینٹکس (AJCL Authentix Mitas)سے ملکر بہت جلد اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ معاہدے کی تکمیل کے بعد اسے باقاعدہ طور پر نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے ایک رسمی سائننگ تقریب (Signing Ceremony) کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔جس میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو حکومت پاکستان، آزادحکومت کے اعلیٰ عہدیداران، سیاسی و حکومتی شخصیات، مجوزہ لائسینسی اورآزاد جموں وکشمیر کی سیگریٹ ساز کمپنیوں کے نمائندگان بھی شرکت اختیار کریں گے۔ اجلاس کے شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ معاہدے کے حتمی ہونے کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر میں قائم تمام سگریٹ ساز کمپنیوں پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذالعمل ہو جائے گا، جس کے ذریعے سگریٹ مصنوعات کی بہتر، مؤثر اور ریئل ٹائم الیکٹرانک مانیٹرنگ کو عملی شکل دی جا سکے گی۔ اس نظام کے تحت پیداوار کے ہر مرحلے پر نگرانی ممکن ہوگی، جو ریونیو کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انلینڈ ریونیو کے ترجمان نے اس موقع پر کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو آزاد جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے، اور اس قومی منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور تکنیکی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام شفاف ٹیکس نظام، بہتر ریگولیٹری کنٹرول اور قومی خزانے کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ بعد ازاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈ کوارٹرزاسلام آباد میں آزاد جموں و کشمیر سے متعلق سیلز ٹیکس امور پربھی ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ڈائریکٹر جنرل ITزین علی ساہی اور محکمہ انلینڈ ریوینیو آزاد جموں وکشمیر کے کمشنر انلینڈ ریونیو سید انصر علی اور ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو سید علی اصغر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سیلز ٹیکس کے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ، سیلز ٹیکس ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL)، ڈیٹا شیئرنگ، ڈیٹا انٹیگریشن اور آزاد جموں و کشمیر کے ٹیکس گزاروں کو درپیش مختلف تکنیکی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سیلز ٹیکس کی بابت ان امور کی نشاندہی کی گئی جن کی وجہ سے ٹیکس گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی زین علی ساہی نے اجلاس کے دوران متعلقہ کوارٹرز کو واضح اور دو ٹوک ہدایات جاری کیں کہ تمام زیرِ بحث ایشوز کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات کو نہ صرف تکنیکی سطح پر بلکہ پالیسی ونگ میں بھی ہر صورت پروسیس کیا جائے گا تاکہ ان مسائل کا مستقل اور مؤثر حل نکالا جا سکے اور مستقبل میں اس نوعیت کے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سیلز ٹیکس سے متعلق جتنے بھی مسائل درپیش ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان کے حل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس حوالے سے محکمانہ سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اے جے کے کمیونٹی اور ٹیکس گزاروں کو سیلز ٹیکس کے حوالے سے پیش آنے والے تمام مسائل کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے گا۔ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی نے مزید بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سیلز ٹیکس کے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کوSTRIVe ماڈل کے مطابق منظم کیا جائے گا، جس کے تحت آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے ٹیکس گزارتحت قانون ان پٹ ٹیکس کے کلیمز دائر کر سکیں گے اور ان کلیمز کی بروقت جانچ اور تصدیق ممکن بنائی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکس نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ ٹیکس گزاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیٹا انٹیگریشن اور ڈیٹا شیئرنگ کے نظام کو مزید مؤثراور فعال بنایا جائے تاکہ مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو اور ٹیکس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیکس گزاروں کو سہولت فراہم کرنا اور سیلز ٹیکس کے نظام کو شفاف، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اولین ترجیح ہے۔

Related Articles

Back to top button