بھارتی حکومت یاسین ملک کو سیاسی مقاصد کےلئے پھانسی دینا چاہتی ہے‘ فاروق حیدر
مظفرآباد(محاسب نیوز) سابق وزیراعظم آزادکشمیر و پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ یورپین یونین کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کشمیری قوم کو دکھ ہوا یورپ انسانی حقوق جمہوریت کے حوالے سے دنیا میں اپنا مقام رکھتا ہے مگر مودی جیسے انتہا پسند وزیراعظم نے مسلمانوں پر ظلم جبر کے پہاڑ توڑے ان کا جینا دو بھر کردیا گیا اور اب حکومتی پالیسی ہے کہ ان سے تاریخ کا بدلا لینا ہے ہندوستان پر برہمن سامراج کی حکومت ہے جو عام آدمی کو تیسرے درجے کا شہری سمجھتا ہے مقبوضہ کشمیر میں عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرلیے گئے ہیں پرامن سیاسی جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے یاسین ملک کو بھی ہندوستانی حکومت سیاسی مقاصد کے لیے پھانسی دینا چاہتی ہے یورپین سول سوسائٹی سے اپیل ہے کہ ان معاملات کا نوٹس لیتے ہوے ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاملات کو انسانی حقوق اقلیتوں کے اوپر مظالم ختم کرنے سے مشروط کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفرآباد میں یورپین فوٹو گرافر سیدرک کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تصویری نمائش کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوے کیاراجہ فاروق حیدر حیدر نے آزادکشمیر کے دورے پر آے اعلی سطحی یورپین وفد سے بھی ملاقات کی جس میں یورپین پارلیمنٹ کے سابق نائب صدر سابق اراکین یورپین پارلیمنٹ اور یورپین صحافی بھی شامل تھے راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ یہ تصاویر خود کشمیر کی کہانی سنا رہی ہیں تصاویر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم دنیا کو دکھاے گیے ہیں 2017 سے لیکر اب تک کشمیر کی صورتحال کی بہترین عکاسی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ سیدرک اور علی رضا سید ان کے دوست کشمیر کے لیے بہترین کام کررہے ہیں یہ ایک شاندار کاوش ہے جس کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گےکشمیری کس آگ و خون کے دریا سے گزر رہے ہیں ان تصاویر سے نمایاں ہے یورپین ممالک میں مقیم انسانی حقوق کے علمبردار اور تارکین وطن بہترین انداز میں کشمیر کے لیے کام کررہے ہیں اس موقع پر چئیرمین کشمیر کونسل علی رضا سید نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں ہمارے ساتھ بہترین تعاون کیا راجہ فاروق حیدر اگر وزیراعظم نا ہوتے تو شائد ہم یہ نمائش نا کرسکتے ان کے تعاون اور یورپین پارلیمنٹ کے مسلسل 5 سالوں میں دوروں کے اثرات سامنے آرہے ہیں